شبیہ پیغمبر شہزادہ علی اکبرؑ

شبیہ پیغمبر شہزادہ علی اکبرؑ

حضرت علی اکبر وہ شخصیت جو نواسہ رسول ،باب شہر علم حضرت علی مرتضےٰ اور خاتون جنت سیدہ فاطمۃالزہراکے پوتےاورامام عالی مقام حسین علیہ السلام کے لخت جگرہیں،حضرت علی اکبرخوبصورتی کی لازوال مثال، شبیہ پیغمبر، شجاعت و بہادری میں باکمال اور اپنی مثال آپ تھے۔
آپکی شان بیان کرنے کا مکمل حق ادا کرنا کسی بشر کی قدرت میں ہے اور نہ تو کسی زبان کے لئے ممکن ہے اور نہ ہی کسی قلم میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اسے صفحہ قرطاس پر ثبت و ضبط کرسکے!!ان ذوات مقدسہ کی کما حقہ پہچان اہل عصمت ہی سمجھ سکتے ہیں (اہل البیت ادری ما فی البیت)۔
روایات کے مطابق حضرت علی اکبر ابن ابی عبداللہ الحسین (ع)کی ولادت باسعادت سن43 ھجری گیارہ شعبان المعظم کو مدینہ منورہ میں ہوئی (۱)آپ نواسۂ رسول امام حسین (ع) کے فرزند ارجمند تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ نام لیلیٰ بنت مرّہ بن عروہ بن مسعود ثقفی تھی جو ام لیلیٰ کے نام سے معروف تھی۔

تاریخی کتابوں میںحضرت علی اکبر کا ذکر

معروف عالم دین طبری نے اپنی کتاب ’’ذیل المذیل‘‘ میں کہا ہے کہ علی اکبرفرزند حسین ابن علی اپنے والد گرامی کے ہمراہ کربلا میں ساحل فرات پر شہید ہوئے۔اسی طرح یعقوبی نے بھی علی اکبر کا ذکر کیا ہے ۔(۲)
نیز صاحب مروج الذھب جناب مسعودی اور سبط بن جوزی نے بھی یہی ذکر کیا ہے۔
واقعہ کربلا میںشھادت کے وقت حضرت علی اکبر (ع) کی عمر کے بارے میں اختلاف ہے ـ بعض نے 18 سال ، بعض نے 19 سال اور بعض نے 25 سال کہا ہے.
ابن شہر آشوب لکھتے ہیں کہ آپ شہادت کے وقت اٹھارہ سال کے تھے اس کے بعد نقل کرتے ہیں کہ ۲۵ سال بھی آپ کی عمر بتائی گئی ہے۔ شیخ مفید علیہ الرحمہ نے آپ کی عمر مبارک انیس سال بیان کی ہے اور علامہ مقرم لکھتے ہیں کہ آپ کربلا میں شہادت کے وقت ۲۷ سال کے تھے۔
صاحب اعیان الشیعہ نے آپ کا سن ولادت ۳۵ یا ۴۱ ہجری بیان کیا ہے اور علامہ مقرم نے آپ کی ولادت ۱۱ شعبان سن ۳۳ ہجری بیان کی ہے۔ جبکہ جناب شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ نےاپنی کتاب الارشاد میں علی بن الحسین علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔

حضرت علی اکبر علیہ السلام صفت جامع الکمالات کے مالک تھے آپ اپنے جدبزرگوارشیرخداحضرت علی مرتضیٰ اور اپنےوالدگرامی امام حسینؑ سے فضيلت و کمالات کے جوہر کسب کرتے رہے اور اس منزل پر پہنچ گئے کہ لوگ ثانی علی کہنے لگے۔(۳)
شکل و شمائل
حضرت علی اکبر(ع) کی شخصیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ شکل و شمائل کے لحاظ سے کافی حسن الوجہ، خوبصورت ، اور انتہائی شیرین زبان اور پر کشش تھے، آپ علیہ السلام صورت ،سیرت ،حسن خلق اور تمام صفات حسنہ میں شبیہ رسول خداﷺتھےجس کسی نے پیغمبر اسلام (ص) کو دیکھا تھا وہ اگر دور سے حضرت علی اکبر کو دیکھ لیتا تو گمان کرتا کہ خود پیغمبر اسلام (ص) ہیں۔ اسی طرح شجاعت اور بہادری اپنے دادا امیر المومنین علیؑسے وراثت میں حاصل کی تھی اور جامع کمالات، اور خصوصیات کے مالک تھے(۴)
علی اکبر علیہ السلام شکل و صورت اور رفتار و کردار میں سب سے زیادہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مشابہ تھے آپ کے اخلاق اور چال چلن کو دیکھ کر لوگوں کو پیغمبرﷺ یاد آ جاتے تھے۔ اور جب بھی خاندان اہلبیتؑکے افراداور اہل مدینہ پیغمبر اسلام ﷺکی زیارت کے مشتاق ہوتے تھے تو جناب علی اکبر کا دیدار کرتے تھے۔
رشد و کمال
جناب حضرت علی اکبر (ع) نے اپنے دادا امام علی ابن ابی طالب (ع) کے مکتب اور اپنے والد امام حسین (ع) کے دامن شفقت میں مدینہ اور اسی طرح شہر مقدس کوفہ اور مسجد مقدس کوفہ میں تربیت حاصل کرکے رشد و کمال کے اعلیٰ و ارفع مقام کوحاصل کرلیا تھا۔
امام حسین (ع) نے آپکی قرآن اور معارف اسلامی کے تعلیمات کے مطابق تربیت کی تھی اور تمام معارف اسلامی ،سیاسی اور اجتماعی فرائض وغیرہ سے مجہز کرنے میں نہایت کوشش کی جس کے تمام دوست و دشمن سب معترف ہیں۔
حضرت علی اکبر (ع) نے اپنے ان تمام کمالات کو میدان کربلا میں نہایت مؤثراور زیرکی سے اپنا کردار نبھایا اور دشمن کے ساتھ شدید جنگ کرتے رہے اور آپ نے اپنی آخری سانس تک امام حسین (ع) کے ساتھ دیے ـ(۵)
معرکہ حق و باطل میںعاشور کے دن یزید کے سپاہیوں کے ساتھ جنگ کے دوران حضرت علی اکبر ، اپنے ھاشمی ہونے اور اھل بیت (ع) کے ساتھ نسبت رکھنے پر افتخار کرتے ہوے یوں رجز خوانی کرتے تھے :
أنا عَلي بن الحسين بن عَلي نحن و بيت اللہ اَولي بِالنبيّ
أضرِبكُم بِالسّيف حتّي يَنثني ضَربَ غُلامٍ ہاشميّ عَلَويّ
وَلا يَزالُ الْيَومَ اَحْمي عَن أبي تَاللہِ لا يَحكُمُ فينا ابنُ الدّعي
عاشور کے دن بنی ھاشم کا پہلا شھید حضرت علی اکبر (ع) تھے اور زیارت معروفہ شھداء میں بھی آیا ہے : السَّلامُ عليكَ يا اوّل قتيلٍ مِن نَسل خَيْر سليل

تقوی اور پرہیزگاری
آپ عالم، پرہیزکار، رشید اورشجاع جوان تھے اورانسانی کمالات اوراخلاقی صفات کے عظیم درجہ پر فائز تھے۔ اس بات کی ثبوت یہ ہے کہ جب امام مظوم کربلا نے اپنے سفر کا آغاز کیا تو ایک مخصوص موذن کا انتخاب فرمایا لیکن جب یہ قافلہ سرزمین کربلا پر پہنچا تو آخری موذن علی اکبر(ع) کو منتخب فرمایا:یہ آپکے بلند و رفیع درجات ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے پس اسی لیے آپ کے زیارت نامہ میں وارد ہوا ہے:
سلام ہو آپ پر اے صادق و پرہیزگار، اے پاک و پاکیزہ انسان، اے اللہ کے مقرب دوست، ۔۔۔کتنا عظیم ہے آپ کا مقام، اور کتنی عظمت سے آپ اس کی بارگاہ میں لوٹ آئے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا نے راہ حق میں آپ کی مجاہدت کی قدر دانی کی اور اجر و پاداش میں اضافہ کیا اور آپ کو بلند مقام عنایت فرمایا۔ اور بہشت کے اونچے درجات پر فائز فرمایا۔
جیسا کہ اس [خدا] نے پہلے سے آپ پر احسان کیا اور آپ کو اہلبیت میں سے قرار دیا کہ رجس اور پلیدی کو ان سے دور کرے اور انہیں ہر طرح کی آلودگیوں سے پاک رکھے۔
علی اکبر علیہ السلام کربلا کی تحریک میں اپنے بابا کے قدم با قدم رہے۔ تاریخ بتلاتی ہے کہ مقام قصر بنی مقاتل پر امام حسین علیہ السلام موجود تھے، رات کے کسی پہر میں تھوڑی دیر کے لیے آپ کی آنکھ لگ گئی جب آنکھ کھلی تو زبان پر کلمہ استرجاع [انا للہ و انا الیہ راجعون] جاری تھا۔
جناب علی اکبر علیہ السلام نے اس کا سبب پوچھا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی سوار یہ کہہ رہا تھا: یہ کاروان موت کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ جناب علی اکبر نے پوچھا: بابا کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ فرمایا: کیوں نہیں بیٹا۔ کہا:
جب ہم حق پر ہیں تو راہ خدا میں مرنے سے کوئی خوف نہیں ہے۔
مشہور ہے کہ بنی ہاشم میں سے پہلے میدان کارزار میں جانے والے جناب علی اکبر ہیں۔ جناب علی اکبر کا میدان میں جانا امام حسین علیہ السلام اور اہل حرم کے لیے بہت سخت تھا لیکن آپ کے جذبہ ایثار اور راہ اسلام میں فداکاری کا مظاہرہ میدان میں جائے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ جب جناب علی اکبر میدان کارزار کی طرف جا رہے تھے تو امام علیہ السلام مایوسی کی نگاہ سے آپ کو دیکھ رہے تھے اور آپ کے رخسار مبارک پر آنسوں کا سیلاب جاری تھا۔ اور فرمایا: بارالہا ! تو گواہ رہنا کہ میں نے ان لوگوں کی طرف اس جوان کو بھیجا ہے جو صورت میں، سیرت میں، رفتار میں، گفتار میں تیرے رسول کی شبیہ ہے ہم جب بھی تیرے پیغمبر کی زیارت کے مشتاق ہوتے تھے تو اس کے چہرے کا دیدار کرتے تھے۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام نے اس قوم کو بددعا کی اور فرمایا: پروردگارا ،زمین کی برکات ان سے چھین لے اور ان کی چند روزہ زندگی میں ان کے درمیان تفرقہ پیدا کر دے اور ان میں سے ہر ایک کو دوسرے کی جان پر ڈال دے۔ اور ان حکمرانوں کو ان سے راضی نہ کر۔ اس لیے کہ اس گروہ نے ہمیں دعوت دی کہ ہماری نصرت کریں لیکن ہمارے مقابلہ میں جنگ کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں۔
اس کے بعد امام علیہ السلام نے عمر سعد کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے ابن سعد خدا تمہاری نسل کو ختم کر دے۔ اور تمہارے کام میں کامیابی نہ ہو اور ایسے کو تمہارے اوپر مسلط کرے جو بستر پر تمہارا سر کاٹ دے۔ جس طریقے سے تم نے ہمارے ساتھ رشتہ کو کاٹا ہے۔ اور ہمارے رسول خدا [ص] کے ساتھ رشتہ کا خیال نہیں کیا۔
اس کے بعد خوبصورت آواز میں اس آیت کی تلاوت فرمائی:إِنَّ اللَّہَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحاً وَآلَ إِبْرَاہِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ* ذُرِّيَّۃً بَعْضُہَا مِنْ بَعْضٍ وَاللَّہُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۔ (سورہ یونس ،آیت ٧١ )
بیشک اللہ نے آدم، نوح، آل ابراہیم، اور آل عمران کو تمام عالمین پر منتخب کیا ہے۔ اس حال میں کہ یہ ایسی ذریت ہے جو بعض کی نسل میں سے بعض ہیں۔ اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔”
جناب علی اکبر علیہ السلام نے اپنے بابا سے اجازت طلب کی کہ اہل حرم کو الوداع کریں اور میدان کی طرف روانہ ہو جائیں [ مولا نے اجازت دی اہل حرم سے الوداع ہوئے تاریخ خاموش ہے کہ جناب علی اکبر بیبیوں سے کیسے رخصت ہوئے مگر میرا تصور یہ کہتا ہے کہ ایک کڑیل جوان کو مقتل میں جانے کے لیے ماوں بہنوں نے کیسے رخصت کیا ہو گا؟پھوپھی جناب زینب نے اٹھارہ سال جسے اپنی آغوش میں پالا اسے کیسے رخصت کیا ہو گا۔ جناب لیلیٰ نے بیٹے کی رخصتی کے وقت کیسے اسے بانہوں میں لیا ہو گا اور کیسے بین کئے ہوں گے، بہن سکینہ نے بھائی کو قتلگاہ بھیجتے ہوئے کیسے الوداع کیا ہوگا؟ یہ ایسا منظر ہے جسے الفاظ کے قالب میں بند نہیں کیا جا سکتا ہر باپ ماں اور بہن اس کا بخوبی تصور کر سکتے ہیں اور اپنے احساسات کے دائرے میں اس کی منظر کشی کر سکتے ہیں۔] آخر کار جناب علی اکبر علیہ السلام خیموں سے رخصت ہوئے اور میدان کارزار میں روانہ ہوئے اس حال میں کہ یہ رجز پڑھ رہے تھے:
انَا عَلىُ بْنُ الحُسَيْنِ بْنِ عَلى نَحْنُ وَبِيْتُ اللَّہِ اوْلى بالنَّبِى
اطْعَنُكُمْ بالرُّمْحِ حَتَّى يَنْثَنى اضْرِبُكُمْ بالسَّيْفِ احْمى عَنْ ابى
ضَرْبَ غُلامٍ ہاشِمِىٍّ عَرَبى وَاللَّہِ لا يَحْكُمُ فينَا ابْنُ الدَّعى
میں علی، حسین بن علی کا بیٹا ہوں خدا کی قسم ہم پیغمبر اسلام ﷺکے سب سے زیادہ نزدیک ہیں۔
اس قدر نیزہ سے تمہارے اوپر وار کروں گا کہ ٹیرھا ہو جائے اور اس قدر تلوار سے تمہاری گردنیں ماروں گا کہ کند ہو جائے تاکہ اپنے بابا کا دفاع کر سکوں۔
ایسی تلوار چلاؤں گا جیسی بنی ہاشم اور عرب کا جوان چلاتا ہے۔ خدا کی قسم اے ناپاک کے بیٹے، تم ہمارے درمیان حکم نہیں کر سکتے۔
آپ نے اپنے شجاعانہ حملوں کے ساتھ دشمن کی صفوں کو چیر دیا اور ان کی چیخوں کو بلند کر دیا۔ نقل ہوا ہے کہ جناب علی اکبر نے سب سے پہلے حملہ میں ایک سو بیس دشمنوں کو ڈھیر کر دیا۔
جناب علی اکبر میدان میں بہادری سے حملہ کرتے اور پھر رجز پڑھتے جس کا مفہوم یہ ہے: جنگ کے حقائق آشکارا ہو گئے اس کے بعد سچے شاہد اور گواہ ظاہر ہوئے اس خدا کی قسم جو عرش کا پیدا کرنے والا ہے میں تمہارے لشکر سے دور نہیں ہوں گا جب تک کہ تلواریں غلاف میں نہ چلی جائیں
آپ نے سخت اور لاجواب جنگ کی اور اسّی لوگوں کو مزید ہلاک کر دیا اور آخر کار منقذ بن مرّہ عبدی کی کڑی ضربت کار آمد ثابت ہوئی دشمنوں نے اطراف میں حلقہ ڈال دیا اور تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
امام علیہ السلام میدان کی طرف دوڑ پڑے اور جناب علی اکبر کے بدن کے کنارے بیٹھ گئے اپنا چہرہ آپ کے چہرے پر رکھا اور کہا: خدا نابود کرے اس قوم کو جس نے آپ کو قتل کیا۔ کس چیز نے حریم خدا اور پیغمبر کو توڑنے کی جرأت دی ؟ اے بیٹا اب آپ کے بعد تف ہو اس دنیا پر۔
قارئین!جناب علی اکبر کی شخصیت اس آیت مجیدہ کے عین مصداق تھے (لا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عندربہم یرزقون)
سلام ہو آپ پر اے شہید اول، اولاد ابراہیم کی بہترین ذریت میں سے۔ہمارا سلام ہو اس عظیم شہید پر جس کی شہادت نے بے جان اسلام میں نئی روح پھونک دی اور جس کے مصائب و آلام پر زمین و آسمان ہی نہیں بلکہ تمام مخلوقات نے گریہ کیا
خداوندا! ہمیں بھی اس عظمت ذات کے توسط سے اپنے نزدیک آبرومند قرار دے اور دنیا و آخرت میں آنحضرت کی ہمراہی نصیب فرما نیز روز قیامت آنحضرت اور ان کے باوفا جاں نثاروں کے ساتھ قرار دے ۔آمین یا رب العالمین
حوالہ جات
(۱)مستدرک سفينہ البحار (علي نمازي)، ج 5، ص 388، طبری ،ج٥ ،ص ٤٥٤
(۲)تاریخ یعقوبی، ج٢،ص ٢٣٣، طبع نجف ۔
(۳)منتہي الآمال، ج1، ص 375
(۴)منتہي الآمال، ج1، ص 373
ـ(۵)منتہي الآمال، ج1، ص 373؛ الارشاد (شيخ مفيد)، ص 459

عباس بن علی

 علی بن ابی طالب کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ گرامی کا نام فاطمہ ام البنین تھا جن کا تعلق عرب کے ایک مشہور و معروف اور بہادر قبیلے بنی کلاب سے تھا۔ وہ ولیہ خُدا، عرفانِ الہیٰ، محدثہ، فقہیہ، معرفت اہلبیت اطہار علیہ السلام اور علوم ظاہری وباطنی کی حامل تھیں، عباس بن علی اپنی بہادری اور شیر دلی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ اپنے بھائی حسین بن علی کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا کے بعد ایک ضرب المثل بن گئی۔ اسی لیے وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں۔ اُن کو افضل الشہدا، باب الحوائج، قمر بنی ہاشمؑ، علمدار کربلا، غازی، سقائے سکینہؑ بھی کہا جاتا ہے

ولادت با سعادت

عباس بن علی کی ولادت باسعادت چار شعبان المعظم 26ھ کو ہوئی۔ انھوں نے اس وقت تک آنکھ نہیں کھولی جب تک ان کے بھائی سیدنا حضرت امام حسین علیہ السلام نے انھیں اپنے ہاتھوں میں نہیں لیا۔ بچپن ہی سے انھیں حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بہت مودت محبت اور عقیدت تھی۔ علی بن ابی طالب نے اس عظیم الشان بچے کا نام عباس رکھا۔

ابتدائی زندگی

علی بن ابی طالب نے ان کی تربیت و پرورش کی تھی۔ علی بن ابی طالب سے انھوں نے فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصاً علم فقہ حاصل کیے۔ 14 سال کی معمولی عمر تک وہ ثانی حیدرؑ کہلانے لگے۔ اسی بنا پر اُنہیں ثانی علی المرتضی ٰ بھی کہا جاتا ہے۔ عباس بن علی بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری، تلوار بازی اور مناجات و عبادت سے خاص شغف رکھتے تھے۔ ان کی تعلیم و تربیت خصو صاً کربلا کے لیے ہوئی تھی۔ لوگوں کی خبر گیری اور فلاح و بہبود کے لیے خاص طور پر مشہور تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو باب الحوائج کا لقب حاصل ہوا۔ حضرت عباس کی نمایان ترین خصوصیت ”ایثار و وفاداری“ ہے جو ان کے روحانی کمال کی بہترین دلیل ہے۔ وہ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے عاشق و گرویدہ تھے اورسخت ترین حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے اور اسی لیے ان کا ایک لقب شہنشاہِ وفا ہے۔ آپ عرب اور بنو ہاشمؑ کے خوبصورت ترین ہستیوں میں سے تھے۔ اسی لیے آپ کو قمر بنی ہاشمؑ بھی کہا جاتا ہے۔

واقعہ کربلا اور عباس بن علی

واقعہ کربلا کے وقت عباس بن علی کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔ حسین بن علی نے آپ کو لشکر کا علمبردار قراردیا۔ اِسی وجہ سے آپ کا ایک لقب علمدار کربلا بھی مشہور ہے۔ آج ساری دُنیا میں جگہ جگہ شہداء کربلا کی یاد منائی جاتی ہے۔ مجلسِ عزَا وجلوس عزاداری میں کربلا کے علم کی شبیہ اور شبیہ ذوالجناح کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ حسین بن علی کے ساتھیوں کی تعداد 72 یا زیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزارسے زیادہ تھی مگر عباس بن علی کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی۔ کربلامیں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس بن علی جنگ کا رخ بدل سکتے تھے لیکن امامؑ وقت نے انھیں لڑنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔ امام جعفر صادق، عباس بن علی کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے : ”چچا عباسؑ کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پرفائز ہو گئے آپ نے بڑ اہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے“ ۔

شہادت

10 محرم کو حسین بن علی نے ان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی حضرت سیدہ سکینہ الحسین کے لیے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انھوں نے اپنے دونوں ہاتھ کٹوا دیے اور شہادت پائی۔ اس دوران میں ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندا نِ رسالت ﷺ پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ہوا ویسے ہی عباس بن علی کے ساتھ ہوا۔ ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔[1] ان کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں ہے جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔ دریائے فرات جو ان کے روضے سے کچھ فاصلے پر تھا اب ان کی قبر مبارک کے اردگرد چکر لگاتا ہے۔ جو ایک دُنیا کا زندہ معجزہ ہے۔

سلام کرتا ہے مُحسن اور سارا زمانہ اس باب الحوائج قمرِ بنی ہاشم کو ۔۔۔۔۔

ضو وہ شیشے میں کہاں جو الماس ميں ہے

سارے عالم کی وفا حضرت عباس ميں ہے۔

اولاد و نسل

عباس بن علی کی اولاد اِس وقت دُنیا کے کافی ممالک میں پائی جاتی ہے۔ آپ علوی سید ہیں۔ اِس لیے آپ کی اولاد دُنیا میں سادات علوی کے نام مشہور و معروف ہے۔ سادات علوی کی آ گئے مختلف شاخیں ہیں۔ اِسی لیے آپ کی اولاد عرب وعراق میں ‘‘ سادات علوی ‘‘ مصر میں ‘‘ سادات بنی ہارون ‘‘ اردن میں ‘‘ سادات بنو شہید ‘‘ یمن میں ‘‘ سادات بنی مطاع ‘‘ ایران میں ‘‘ سادات علوی ابوالفضلی ‘‘ اور برصغیر پاک وہند میں ‘‘ سادات علوی المعروف اعوان قطب شاہی ‘‘ کے عنوان سے مشہور و معروف ہے۔

  ، تحفہء حسینیہ، صفحہ 78۔ عربی

حضرت امام حسین علیہ السلام کا مختصر تعارف

حضرت امام حسین علیہ السلام۳شعبان المعظم۴ہجری کو مدینہ منورہ میں متولد ہوئے،آپ کے والد بزرگوار سید الاوصیاء امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابیطالب علیہما السلام اور والدہ گرامی خاتون جنت،صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اور پیغمبر گرامی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے نانا تھے۔
آپ کی ولادت کے بعد جبرائیل پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں تشریف لائے اور حق متعال کا درودو سلام پہنچانے کے بعد عرض کی:اس مولود مبارک کا نام ہارون کے چھوٹے بیٹے’’شبیر‘‘کے نام گرامی پر رکھیں جو عربی میں ’’حسین‘‘کا معنی دیتا ہے اور اس اسم گزاری کی وجہ اس طرح سے بیان فرمائی کہ :علی ابن ابیطالب آپ کے لیے ہارون کی طرح سے ہیں یعنی جس طرح ہارون موسیٰ علیہ السلام کے جانشین تھے اسی طرح علی ابن ابیطالب آپ کے جانشین ہیں لہٰذا ہارون کے بیٹوں کے جو نام تھے آپ انہی ناموں کو اپنے فرزندوں کے لیے انتخاب فرمائیں۔
آپ چھ سال اور چند مہینے اپنے نانا کے ساتھ رہے اور تیس سال اپنے والد بزرگوار کے ہمراہ رہے۔آپ کی شان و منزلت کے لیے آیت مباہلہ ہی کافی ہے جس میں آپ کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرزندجانا گیا ہے اور آیت تطہیر آپ کی عصمت کی گواہ ہے اس کے علاوہ بہت سی آیات آپ کی شان و منزلت کو بیان کرتی ہیں۔
آپ کی ولادت کی مبارک باد عرض کرنے کے لیے ملائکہ الہٰی عرش معلیٰ سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں تشریف لائے اور آپ کی خدمت میں کربلا کی مٹی پیش کرنے کے ساتھ تعزیت پیش کی۔
حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کا مفہوم
حضرت امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت پر رونا،رولانایا پھرعزاداری کا روپ دھار لینا سب عزاداری کے مفہوم میں شامل ہیں۔ان مفاہیم میں رونا اور رولانا دونوں واضح مفاہیم ہیں لیکن’’تباکی‘‘ کا مفہوم سے متعلق کچھ بحث جسے متعدد روایات میں بھی ذکر کیا گیا ہے اس کلمہ کے مصادیق میں سے؛ رونے والی شکل بنالینا،اپنے قیافہ کو سوگوار اور غمزدہ لوگوں کی طرح ڈھال لینا،رونے والا انداز اختیار کرلینا،غمزدہ افراد کی دلجوئی کے لیے غمزدہ شکل بنا لینا،ہر وہ فعل جس سے غمزدہ افراد اپنے غم کا اظہار کرتے ہوں اُن کے ساتھ اظہار ہمدری کے لیے وہ افعال انجام دیناخواہ سیاہ لباس کی شکل میں ہو،سبیل لگانے کی صورت میں ہو،نیاز تقسیم کرنے کی صورت میں ہویا پھر انتظامی اموروغیرہ سب اس مفہوم میں شامل ہیں۔ہم فقط دو احادیث کو تبرکا ذکر کرتے ہیں:
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:’’مَنْ اَنْشَدَ فِی الحُسَینِ شِعرا فَتَباکی فَلَهُ الجَنة‘‘ جو بھی حسین علیہ السلام کے بارے میں شعر کہے اور غمزدہ روپ دھار لے وہ جنت کا مستحق ہے۔
حدیث قدسی کو نقل کرتے ہیں:’’ یَا مُوسَى!مَا مِنْ عَبْدٍ مِنْ عَبِیدِی فِی ذَلِکَ الزَّمَانِ بَکَى أَوْ تَبَاکَى وَ تَعَزَّى عَلَى وُلْدِ الْمُصْطَفَى(ص)إِلَّا وَ کَانَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ثَابِتاً فِیهَا‘‘اے موسیٰ!میرے بندوں میں سے جو بھی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کی شہادت کے زمانے میں اُن کی مظلومیت پر روئے یا رونے والی حالت اپناتے ہوئے محمد مصطفیٰ کو ان کے نواسے کا پرسہ دے وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ تباکی سے متعلق متعدد روایات دعاؤں،استغفار سے متعلق بھی ہیں جنہیں ہم اختصار کی مطلوبیت کی خاطر ذکر نہیں کرتے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی فضیلت
روایات میں ہر خوشی و غمی کی مناسبت پر حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت ،مجالس ،محافل اور ان کی عزاداری کی رغبت دلائی گئی ہے چونکہ اگر ذکر حسینؑ زندہ ہے تو اسلام اور توحید زندہ ہے اس طرح قیامت تک کے لیے امام حسین علیہ السلام کے طفیل اسلام کی حفاظت ہوتی رہے گی۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:’’إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ کَرْبَلَاءَ حَرَماً آمِناً مُبَارَکاً قَبْلَ أَنْ یَتَّخِذَ مَکَّةَ حَرَماً‘‘خداوندمتعال نے کربلا کو امن و برکت کا حرم مکہ معظمہ سے پہلے قرار دیا تھا۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:’’ لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ حَجَّ أَلْفَ حَجَّةٍ ثُمَّ لَمْ یَأْتِ قَبْرَ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ(ع) لَکَانَ قَدْ تَرَکَ حَقّاً مِنْ حُقُوقِ رَسُولِ اللَّهِ (ص) وَ سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ حَقُّ الْحُسَیْنِ ع مَفْرُوضٌ عَلَى کُلِّ مُسْلِمٍ‘‘اگر تم میں سے کوئی ہزار مرتبہ حج انجام دے لیکن حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے نہ جائے تو اس نے یقینی طور پر حقوق الہٰی میں سے حق کو ترک کردیا ہے جس کے متعلق قیامت کے دن اسے مؤاخذہ کیا جائے گا۔پھر حضرت نے ارشاد فرمایا:امام حسین علیہ السلام کا حق ہر مسلمان پر واجب ہے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:’’مَنْ لَمْ یَأْتِ قَبْرَ الْحُسَیْنِ(ع) وَ هُوَ یَزْعُمُ أَنَّهُ لَنَا شِیعَةٌ حَتَّى یَمُوتَ فَلَیْسَ هُوَ لَنَا بِشِیعَةٍ وَ إِنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَهُوَ مِنْ ضِیفَانِ أَهْلِ الْجَنَّةِ‘‘جو بھی امام حسین علیہ السلام کے نورانی مرقد کی زیارت کے لیے نہ جائے اور یہ تصور کرتا ہو کہ وہ ہمارا شیعہ ہے اور اسی حالت میں اس دنیا سے چلا جائے تو وہ ہمارا شیعہ ہی نہیں اور اگر جنت میں بھی چلا جائے تو بہشتیوں کا مہمان ہوگا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:’’إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى عَوَّضَ الْحُسَیْنَ(ع)مِنْ قَتْلِهِ أَنْ جَعَلَ الْإِمَامَةَ فِی ذُرِّیَّتِهِ وَ الشِّفَاءَ فِی تُرْبَتِهِ وَ إِجَابَةَ الدُّعَاءِ عِنْدَ قَبْرِهِ وَ لَا تُعَدَّ أَیَّامُ زَائِرِیهِ جَائِیاً وَ رَاجِعاً مِنْ عُمُرِهِ‘‘خداوندمتعال نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے عوض امامت کو اُن کی نسل میں سے قرار دیا،اُن کے مقتل کی مٹی میں شفاء قرار دی ،اُن کے مرقد منور کو مستجاب الدعا قرار دیا اور اُن کے زائرکے آمد و رفت کے ایام کو اس کی زندگی میں سے شمار نہیں کیا۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:’’مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ (ع) بِشَطِّ الْفُرَاتِ کَمَنْ زَارَ اللَّهَ فَوْقَ عَرْشِهِ‘‘جو بھی شط فرات کے نزدیک امام حسین کی زیارت کرے وہ اس طرح ہے جس طرح اس نے عرش پر خداوندمتعال کی زیارت کی ہو۔
حضرت امام جعفرصادق اور حضرت امام موسیٰ کاظم علیمت‏السلام سے ایک ہی مضمون پر مبنی روایت نقل ہوئی ہے جس میں یہ دو بزرگوار امام ارشاد فرماتے ہیں:’’من زار الحسین(ع)عارفا بحقه غفر الله له ما تقدم من ذنبه و ما تأخر‘‘جو بھی امام حسین علیہ السلام کی معرفت کے ساتھ ان کی قبر مطہر کی زیارت کرے خداوندمتعال اس کے تمام گذشتہ اور آئندہ گناہوں کو معاف کردے گا۔

امام حسین علیہ السلام مصداق طہارت

امام حسین علیہ السلام مصداق طہارت

 

آیۂ تطہیر:

( اِنّما یُرِیدُ اللّٰهُ لِیُذهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ البَیْتِ وَ یُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیراً ) ۔

(سورہ اِحزاب: ٣٣)

شیعہ اوراہل سنت کی متواتر احادیث سےثابت ہوتاہےکہ یہ آیہ کریمہ عالم خلقت کی ممتاز شخصیات کےزیر کساء،مقدس اجتماع کےبارےمیں نازل ہوئی ہے۔

یہ آیت اس سلسلہ میں وارد ہونے والی احادیث حضرت امام حسین علیہ السلام کی عصمت و جلالت اور بلندی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

اس آیت حدیث کساء اور اس کی اسناد و متون کے بارے میں مفصّل کتب ضبط تحریرمیں لائی گئی ہیں جبکہ بعض راویوں مثلاً صبیح نےمختصرطورپرنقل کیاہے۔

(اسد الغابة ج١٣ ص ١١، الاصابه ج٢ ص ١٧٥۔ ٤٠٣٣)

مختلف صاحبان قلم جیسے:مسلم، بغوی، واحدی، اوزاعی، محب طبری، ترمذی، ابن اثیر، ابن عبدالبر، احمد، حموینی، زینی، دحلان، بیہقی وغیرہ نے جناب عائشہ، امّ سلمہ، انس، واثلہ، صبیح، عمر ابن ابی سلمہ، معقل بن یسار، ابی الحمراء، عطیہ، ابی سعید اور امّ سلیم سے اس واقعہ جلیلہ و منقبت عظیمہ کے بارے میں متعدد روایات نقل کی ہیں۔(صحیح مسلم، ج٧، ص ١٣٠؛ مصابیح السنہ، ج٢، ص ٢٧٨؛ ذخائر العقبیٰ، ص ٢٤؛ ترمذی، ج٢٣، ص ٢٠٠، ٢٤٢ و ٢٤٨؛ اسد الغابة، ج١، ص ١١ و ١٢؛ ج٢، ص ٢٠ و ج٣، ص ٤١٣؛ الاصابة، ج٢، ص ١٧٥ و ٤٣٣؛ اسباب النزول واحدی، ص ٢٦٧؛ المحاسن والمساوی بیہقی، ج١، ص ٤٨١)

آیہ تطہیرصرف اہل بیت علیہم السلام عصمت و طہارت، اصحاب کساء یعنی پیغمبر اسلام، حضرت علی، حضرت فاطمہ زہرا، امام حسن اور امام حسین علیہ السلام علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔

شیعہ و سنی مصادر میں مختلف طرق سے وارد ہونے والی روایات ہمارے اس دعوے کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔ یہ روایات امّہات المؤمنین، صحابہ و تابعین اور ائمہ علیہم السلام سے نقل کی گئی ہیں جنہیں چار گروہ میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

(حسینی مرعشی، احقاق الحق، ج٢، ص٥٠٢، ٥٧٣؛ موحد ابطحی، آیہ تطہیر فی احادیث الفریقین، ج١، ص٢)

١۔ روایات مکان نزول:

٭ حاکم نیشاپوری مستدرک صحیحین میں رقمطراز ہیں:

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ فِي بَيْتِي نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ( إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً ) ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى فَاطِمَةَ وَ عَلِيٍّ وَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْن‏فَقَال‏: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي‏قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّه‏! مَا أَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْت﷩‏؟قَالَ إِنَّكِ لَعَلَى خَيْر وَ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي‏ اللَّهُمَّ أَهْلِي أَحَق ‏۔

حاکم اس حدیث شریف کو بخاری کی شرائط کے مطابق صحیح مانتے ہیں۔

(نیشاپوری، المستدرک علی الصحیحین، ج٣ ، ص ٢٥)

جناب امّ سلمہ اس آیۂ کریمہ کے محل نزول کو اپنا گھر بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی و فاطمہ و حسن و حسین علیہما السلام کو زیر کساء جمع کرکے دعا فرمائی اور میرے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میرے اہل بیت علیہم السلام بس یہی افراد ہیں۔

٭ حضرت عائشہ کہتی ہیں: پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک دن بردیمانی کے ہمراہ تھے کہ امام حسن علیہ السلام آئے پیغمبر(صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) نے انہیں چادر میں لے لیا پھر امام حسین علیہ السلام آئے وہ بھی چادر میں چلے گئے پھر علی و فاطمہ علیہا السلام بھی زیر کساء چلےگئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔

(صحیح مسلم، ج٧، ص ١٣٠؛ مصابیح السنه ، ج٢، ص ٢٧٨؛ ذخائر العقبیٰ، ص ٢٤۔)

”اوزاعی“ شدّاد بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب دربار میں سر امام حسین علیہ السلام لایا گیا تو ایک مرد شامی نے امام اور ان کے والد بزرگوار کی شان میں جسارت کرنا شروع کردی، یہ دیکھ کر واثلہ بن اسقع کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے: خدا کی قسم؛ میں نے دیکھا کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک دن جناب امّ سلمہ کے گھر تشریف فرما تھے کہ حسن علیہ السلام آئے آپ (صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) نے انہیں اپنی آغوش میں بٹھایا پھر امام حسین علیہ السلام آئے انہیں بھی اپنی آغوش میں بائیں طرف بٹھالیا، پھر فاطمہ علیہاالسلام آئیں انہیں اپنے سامنے بٹھایا پھر علی کو بھی بلاکر اپنے پاس بٹھایا اور فرمایا:

( إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً ) ۔

اس وقت سے میں علی فاطمہ زہرا اور حسن و حسین سے بے پناہ محبت کرتا ہوں۔

(اسد الغابة ج٢، ص ٢٠)

٢۔آیت کی تفسیر بیان کرنے والی روایات:

٭ تفسیر طبری میں ابوسعید خدری سے اس طرح روایت کی گئی ہے:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي خَمْسَةٍ: فِيَّ وَ فِي عَلِيٍّ وَ حَسَنٍ وَ حُسَيْنٍ وَ فَاطِمَةَ

(جامع البیان ج١٢، ذیل آیهْ۔)

اس روایت میں سبب نزول آیہ تطہیر صرف و صرف اصحاب کساء، انوار خمسہ سے مختص ہے۔

٭ مجمع الزوائد میں ابو سعید خدری سے نقل کیا ہے:

أَهْلِ الْبَيْتِ الَّذِينَ أَذْهَبَ اللَّهُ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهَّرَهُمْ تَطْهِيراً، وَ خَدّهُم فِي يَدِهِ فَقَال‏: خَمْسَةٍ رَسُولِ اللَّهِ وَ عَلِيٍّ وَ فَاطِمَةَ وَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْن ۔

(ھیثمی؛ مجمع الزوائد ج٩، ص ١٦٥و ١٦٧۔)

اس روایت میں بھی سبب نزول آیت، اہل بیت علیہم السلام ہی سے وابستہ ہے اور آیت کے عینی و خارجی مضمون کی مکمل وضاحت کی گئی ہے۔

٭ صحیح مسلم میں زید ابن ارقم سے نقل کیا گیا ہے کہ کیا زنان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اہلبیت علیہم السلام میں شمار ہوتی ہیں؟ تو وہ کہتے ہیں:

لَا، وَ ايْمُ اللَّهِ إِنَّ الْمَرْأَةَ تَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ الْعَصْرَ مِنَ الدَّهْرِ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا فَتَرْجِعُ إِلَى أَبِيهَا وَ قَوْمِهَا، أَهْلُ بَيْتِهِ أَصْلُهُ وَ عَصَبَتُهُ الَّذِينَ حُرِّمُوا الصَّدَقَةَ بَعْدَه ‏۔

(مسلم نیشاپوری، صحیح مسلم، ج٧، ص ١٣٣۔)

اس روایت میں سرور کائنات کے مشہور صحابی زنان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر عنوان اہلبیت علیہم السلام کے صادق آنے کی نفی کرتے ہیں۔

٣۔ نزول آیہ تطہیر کے بعد آنحضرت کے عمل کو بیان کرنے والی روایات:

جلال الدین سیوطی ابن عباس سے نقل کرتے ہیں:

شهدت رسول الله تسعة اشهر یأتی کل یومٍ باب علی بن ابی طالب عند وقت کل صلاة فیقول: السلام علیکم و رحمة الله و برکاته اهل البیت،( إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً )

(الدرالمنثور، ج٦، ذیل آیہ۔)

اس روایت سے واضح ہے کہ سرکار رسالت، سرور کائنات نو ماہ تک روزانہ بوقت نماز در خانۂ علی و بتول و حسنین علیہم السلام پر آتے اور با آواز بلند فرماتے:

( إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ )

اور اہل بیت علیہم السلام کہہ کر سلام فرماتے تھے۔

٤۔ ائمہ و بعض صحابہ کا اس آیت کے ذریعہ احتجاج بیان کرنے والی روایات:

طبری، ابن اثیر اور سیوطی نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی بن الحسین (امام سجادعلیہ السلام) نے امام و اسیران کربلا کی توہین کرنے والے مرد شامی سے فرمایا: اے شخص کیا تو نے سورہ احزاب کی اس آیت

( إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ ) “

کو پڑھا ہے؟ کہا: کیوں نہیں؟ لیکن کیا آپ ہی اس کے مصداق ہیں؟ امام نے فرمایا: ہاں ہاں۔

(جامع البیان، ج١٢، ذیل آیه؛ الدرالمنثور ج٦، ذیل آیه؛ تفسیر القرآن کریم العظیم ج٣، ذیل آیه)

البتہ مذکورہ روایت دیگرمصادرمیں کامل طورسےآئی ہے اور امام نے اس طرح جواب دیا ہے:

''نحن اهل البیت الذی خصصنا بآیة التطهیر ۔''

(خوارزمی، مقتل الخوارزمی، ج٢، ص ٦١)

توجہ:اس موقع پر اس اہم نکتہ کی طرف توجہ مبذول کرانا مناسب ہے کہ نہ صرف یہ کہ تمام شیعہ علماء ودانشمندحضرات اس بات پرمتفق ہیں کہ یہ آیت تطہیرانوارخمسہ، اصحاب کساء کے بارے میں نازل ہوئی ہے بلکہ بعض منصف مزاج اہل سنت حضرات نے بھی اس بات کا اظہار کیا ہے کہ امت اسلامی کا اتفاق ہے کہ یہ آیہ مبارکہ صرف و صرف اہل بیت علیہم السلام عصمت و طہارت انوار خمسہ طیبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ مثلاً:

١۔ علامہ بھجت آفندی:

”امت اسلامی کا اتفاق ہے کہ آیہ

( إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ )

حضرت علی وفاطمہ وحسن وحسین علیہم السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔“

(بهجت افندی: تاریخ آل محمد (طبع آفتاب، ص ٤٢)

 

٢۔ علامہ حضرمی:

“حدیث آیہ تطہیر حدیث صحیح و مشہور و مستفیض ہے جو معنی و مدلول کے اعتبار سے متواتر اور امت اسلامی کے نزدیک مورد اتفاق ہے۔”

(حضرمی: القول الفصل، ج١ ، ص ٤٨)

حسیؑن ۔ فاتح مباہلہ

آیۂ مباہلہ:

( فمن حاجَّکَ فیه من بعد ما جاءَ ک من العلم فقل تعالوا ندعُ ابناء نا و ابنائَکم و نساء نا و نساء کم و أنفسنا و أنفسکم ثُمَّ نبتهل فنجعل لعنت الله علی الکاذبین )

سید الشہداء مظلوم کربلا وارث انبیاء صاحب ھل أتیٰ حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظمت و فضیلت کو بیان کرنے والی آیات میں سے ایک آیہ مباہلہ ہے، جسے تمام فرق اسلامی نے متفقہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

مباہلہ کا تاریخ ساز واقعہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کی حقانیت کی بہترین دلیل ہے اور اپنی رسالت و دعوت اسلامی پر ایمان و یقین کا منہ بولتا ثبوت ہے اس لئے کہ اگر حضور سرور کائنات کو اپنی دعوت اسلامی پر ایمان کامل نہ ہوتا تو یہ واقعہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تکذیب کیلئے دشمنوں کے ہاتھوں میں ایک مستحکم سند بن جاتا کیونکہ دو ہی صورتیں ممکن تھیں:

 

اول:

نصارائے نجران کی نفرین پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حق میں مستجاب ہوجاتی۔

 

دوم:

یا یہ کہ نہ نفرین نصاریٰ قبول ہوتی اور نہ ہی نفرین سرور کائنات بہرحال دونوں صورتوں میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دعویٰ نبوت باطل ہوجاتا اور دنیا کا کوئی صاحب عقل بھی ایسا کام نہیں کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے دشمن اور مخالفین اس کی تکذیب کردیں۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے دعویٰ نبوت، استجابت دعا اور دشمن کی ہلاکت کا یقین کامل تھا اسی لئے کمال شجاعت کے ساتھ دشمن کو مباہلہ کی دعوت دے رہے تھے۔

حضرت علی و فاطمہ و حسن و حسین علیہما السلام کو مباہلہ میں لیکر جانا ان کی عظمت و صداقت اور بلند مرتبہ ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہی حضرات بارگاہ خداوندی میں محبوب ترین اور مخلوق میں سب سے زیادہ لائق عزت و احترام ہیں۔

پس یہ آیہ کریمہ امام حسین علیہ السلام کی عظمت، شرافت، کرامت اور صداقت کی بہترین دلیل ہے کہ پیغمبر گرامی قدر بحکم پروردگار تمام امت اسلامی میں سے انہیں، ان کے والدین اور ان کے بھائی کو منتخب کرتے ہیں۔

اگرچہ اکثر مفسرین و محدثین اور مورخین نے واقعہ مباہلہ کو بیان کیا ہے لیکن اس کے باوجود ذوق مطالعہ رکھنے والے حضرات کیلئے چند منابع کا ذکر کرنا مناسب ہے۔

مثلاً: تفسیر طبری، بیضاوی، نیشاپوری، تفسیر کشاف، درمنثور، اسباب النزول واحدی، اکلیل سیوطی، مصابیح السنة، سُنن ترمذی و دیگر کتب۔

واقعہ مباہلہ کےسلسلہ میں اہل سنت کے عظیم مفسر جناب فخر رازی نے اس آیہ کریمہ کے ذیل میں جو روایت نقل کی ہے اسے یہاں بیان کردینا بھی مناسب ہے۔

روایت کی گئی ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جب نصاریٰ نجران کو مختلف دلائل پیش کئے اور وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے اور کسی طرح سر تسلیم خم کرنے کیلئے تیار نہ ہوئے تو آنحضرت نے فرمایا: پروردگار نے مجھے حکم دیا ہے کہ اگر تم لوگ میری دلیل و حجت کو قبول نہیں کرتے تو پھر میں تم سے مباہلہ کروں!

انہوں نے کہا:

اے ابا القاسم ہمیں گھر لوٹ کر کچھ سوچنے اور غور وفکر کرنے کا موقع دیجئے پھر ہم آپ کو جواب دیں گے!

جب یہ لوگ واپس پلٹ کر آئے تو عیسائیوں میں جو بافہم اور صاحب نظر شخص “عاقب” تھا اس سے رجوع کیا اور کہا: اے عبدالمسیح تمہاری کیا رائے ہے؟

اس نے کہا: اے گروہ نصاریٰ! تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پیغمبر ِمرسل ہیں اورانہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارےمیں حق بات کہی ہے۔خدا کی قسم اسکےباوجودتم لوگ ان کی بات ماننےکیلئےتیارنہیں ہواوراپنی ہٹ دھرمی پرقائم ہو۔اب اگرایسا ہی ہےتو ان سےکوئی مصالحت کرکےاپنےدیارکی طرف پلٹ جاؤ(ورنہ ذلّت ورسوائی اورتباہ وبربادی کےسوا کچھ ہاتھ نہ آئےگا)

جب آنحضرت گھرسےچلےتوسیاہ عبا دوش پرڈالی،حسیؑن کوگودمیں لیا،حسؑن کا ہاتھ پکڑا، فاطمہ زہرا علام اللہ علیہا پیچھےپیچھےاورعلؑی انکےپیچھےچلے۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس اندازسےمباہلہ کیلئےپہنچےاوران سےفرمایا:جب میں دعا کروں تو تم لوگ آمین کہنا!

ادھرعیسائیوں کےبافہم اوربزرگ حضرات یہ منظردیکھ رہےتھے، انہوں نےعیسائیوں سےکہا:اےگروہ نصاریٰ!ہم ایسےچہرےدیکھ رہےہیں کہ اگروہ خداسےپہاڑکےچلنےکی درخواست کریں توخداضروراس کام کوانجام دیگا لہٰذا ایسی صورت میں ان سے ہرگز مباہلہ نہ کرو ورنہ سب کے سب عیسائی نابود ہوجائیں گے اور پھر قیامت تک کے لیے عیسائیوں کا نام و نشان مٹ جائے گا۔

عیسائی ان کی بات سن کراجتماعی طور پر پیغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آئے اورکہنےلگے: اے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم آپ سے مباہلہ نہیں کرنا چاہتے،آپ اپنے دین پر رہیے(اورہم اپنے دین پر)۔

حضورسرورکائنات نے فرمایا: تو پھر میں تم سے جنگ کروں گا!

کہنےلگے:ہم آپ سےجنگ کی طاقت نہیں رکھتےلیکن آپ سےمصالحت کےلئےتیارہیں،مگرشرط یہ ہےکہ آپ ہم سےجنگ نہیں کریں اورہمیں ہمارے دین سے نہ نکالیں گے اور ہم اس کے بدلے آپ کو سالانہ دو ہزار لباس۔(ایک ہزار ماہ صفر میں اور ایک ہزار ماہ رجب میں)۔ اور تیس عدد آہنی زرہ ادا کریں گے۔

سرکاررسالت فرماتے ہیں: خدا کی قسم ہلاکت و بربادی اہل نجران پر سایہ فگن تھی اگر یہ لوگ مباہلہ کرتےتو سب کےسب بندرولومڑی کی صورت میں مسخ ہوجاتے،آسمان سےان پرآگ برستی، خدا نجران و اہل نجران کوتباہ وبربادکردیتاحتیٰ کہ انکےدرختوں پربیٹھےہوئےپرندےاورایک سال کےاندرتمام نصاریٰ نابود ہوجاتے!

پس پیغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے اہل بیت علیہم السلام کو دیکھ کر اہل نجران بغیرمباہلہ کیئے واپس پلٹ جاتے ہیں اور ان میں مقابلہ کی ہمت پیدا نہیں ہوتی گویا پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ میرے اہل بیت علہم السلام ایسے ہیں کہ جنہیں دشمن اسلام دیکھ کر مقابلہ کی ہمت نہیں کرتا بلکہ بھیگی بلی کی طرح دم دبا کر خاموشی سے نکل جاتا ہے۔

پس یادرکھناچاہیےکہ جس طرح پیغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فاتح مباہلہ ہیں حسین علیہ السلام بھی اسی طرح فاتح مباہلہ ہیں اگر ہم زندگی کے ہر مرحلہ میں انہیں اپنا راہنما اور نمونہ حیات قرار دیں تو کبھی نہ دشمن کے سامنے قدم ڈگمگائیں گے اور نہ ہی کبھی زندگی میں ناکام ہوں گے۔

مزید تفصیلات کے لیے لینک پر کلک کریں http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=441

شہنشاہِ وفا ابوالفضل العباس علیہ السلام

 

 

شہنشاہِ وفا ابوالفضل العباس علیہ السلام  

       

جب بھی زبانوں اور کانوں میں لفظ وفا آتا ہے، ایک ہی لمحے میں ذہن ایک پیکر وفا کی طرف جاتا ہے، جس نے صحیح معنوں میں وفا کے مفہوم کو دنیا والوں کو سمجھا دیا۔ وہ پیکر وفا جس نے وفا کا اصلی روپ دکھایا، وہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا بہادر اور شیر دل فرزند حضرت عباس علیہ السلام ہے۔ حضرت عباس علیہ السلام کی قدر و منزلت اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے کہ:(وَإنَّ لِلْعَبّاسِ عِنْدَ اللَّهِ تَبارَكَ وَتَعالی مَنْزِلَةٌ يَغبِطَهُ بِها جَمیعَ الشُّهدَاءِ يَوْمَ القِیامَةِ)1 “روز قیامت تمام شہداء حضرت عباس علیہ السلام کے مقام و منزلت پر رشک کریں گے۔” حضرت عباس اگرچہ امامت کے درجے پر فائز نہیں تھے لیکن مقام و منزلت میں اتنے کم بھی نہیں تھے، عباس علیہ السلام کے مقام و منزلت پر فرشتے قیامت کے دن رشک کرینگے۔ عباس بن علی بن ابی طالب، کنیت ابو الفضل امام حسن اور حسین علیہما السلام کے بھائی چار شعبان سن 26 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور 61 ہجری کو کربلا میں مقام شہادت پر فائز ہوئے۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر مبارک 34 سال تھی۔ چودہ سال اپنے پدر بزرگوار امیر المومنین علیہ السلام کے زیر سایہ، نو سال اپنے بھائی امام حسن علیہ السلام اور گیارہ سال امام حسین علیہ السلام  کے زیر تربیت گزارے۔ آپ کی والدہ محترمہ فاطمہ بنت حزام نسل بنی کلاب سے ہیں، جن کی کنیت ام البنین ہے۔

حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت کو دس برس ہوچکے تھے، ایک دن حضرت علی علیہ السلام نے جناب عقیل کو بلایا (کہ جو نسب شناسی میں ماہر تھے) اور کہا: میرے لئے ایسے خاندان کی خاتون تلاش کرو، جو شجاعت اور دلیری میں بے مثال ہو، تاکہ اس خاتون سے ایک بہادر اور شجاع فرزند پیدا ہو۔ جناب عقیل نے قبیلہ بنی کلاب کی ایک خاتون کی امیر المومنین علیہ السلام کو پہچان کروائی کہ جس کا نام بھی فاطمہ تھا، جس کے آباؤ اجداد عرب کے شجاع اور بہادر لوگ تھے۔ ماں کی طرف سے بھی عظمت و نجابت کی حامل تھیں۔ اسے فاطمہ کلابیہ کہا جاتا تھا اور بعد میں انہوں نے ام البنین کے نام سے شہرت پائی۔ جناب عقیل رشتہ کے لئے ان کے باپ کے پاس گئے، اس نے بڑے ہی فخر سے اس رشتہ کو قبول کیا اور مثبت جواب دیا۔ فاطمہ کلابیہ نہایت ہی نجیب اور پاکدامن خاتون تھیں۔ شادی کے بعد آپ امیر المومنین علیہ السلام کے گھر تشریف لائیں اور بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی خدمت شروع کی۔ جب انہیں فاطمہ کے نام سے بلایا جاتا تھا تو کہتی تھیں: مجھے فاطمہ کے نام سے نہ پکارو، کہیں تمہارے لئے تمہاری ماں فاطمہ کا غم تازہ نہ ہو جائے۔ میں تمہاری خادمہ ہوں۔ اللہ نے آپ کو چار بیٹوں سے نوازا۔ عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان، یہ چاروں بھائی کربلا میں شہید ہوگئے۔ ام البنین کے ایمان اور فرزندان رسول کی نسبت محبت کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ انہیں اپنی اولاد پر ترجیح دیتیں، جب واقعہ کربلا درپیش آیا تو اپنے بیٹوں کو امام حسین علیہ السلام  پر قربان ہونے کی خاص تاکید کی اور ہمیشہ جو لوگ کربلا اور کوفہ سے خبریں لے کر آرہے تھے، ان سے سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں سوال کرتی تھیں۔

امام سجاد علیہ السلام اپنے چچا عباس علیہ السلام کی اس طرح توصیف کرتے ہیں:(رَحِمَ اللَّهُ عَمِىَّ الْعَبَّاسَ فَلَقَدْ آثَرَ وأَبْلى وفَدى أَخاهُ بِنَفْسِهِ حَتَّى قُطِعَتْ يَداهُ فَأَبْدَلَهُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ مِنْهُما جِناحَيْن يَطيرُ بِهِما مَعَ الْمَلائِكَةِ فى‏ الْجَنَّةِ كَما جُعِلَ لِجَعْفَرِ بْنِ أَبى‏ طالِبْ عليه السلام؛ وَإنَّ لِلْعَبّاسِ عِنْدَ اللَّهِ تَبارَكَ وَتَعالى مَنْزِلَةٌ يَغبِطَهُ بِها جَميعَ الشُّهدَاءِ يَوْمَ القِيامَةِ)2″خدا میرے چچا عباس پر رحمت کرے کہ جنہوں نے ایثار و فداکاری کی اور اپنے آپ کو مشکلات میں ڈالا اور اپنے بھائی پر فدا ہوگئے، یہاں تک کہ ان کے دونوں بازوں قلم ہوگئے، پس خدا نے انہیں دو پر دیئے جن کے ذریعے وہ جنت میں ملائکہ کے ساتھ پرواز کرتے ہیں، جیسا کہ جناب جعفر بن ابی طالب علیہ السلام کو دو پر دیئے۔ عباس کا اللہ کے نزدیک ایسا رفیع مقام ہے، جس پر دوسرے شہداء قیامت کے دن رشک کریں گے۔” امام صادق علیہ السلام جناب عباس علیہ السلام کی توصیف میں فرماتے ہیں:(كانَ عَمُّنَا الْعَبَّاسَ نافِذَ البَصيرَةِ، صَلْبَ الْأيمانِ، جاهَدَ مَعَ أَبى‏ عَبْدِاللَّهِ عليه السلام وَأَبْلى بَلاءً حَسَناً وَمَضى شَهيدا)3″ہمارے چچا عباس علیہ السلام اہل بصیرت تھےو مستحکم ایمان کے مالک تھےو ابا عبد اللہ علیہ السلام کے رکاب میں جہاد کیا اور اس امتحان میں کامیاب ہوئے اور آخرکار مقام شہادت پر فائز ہوئے۔” جناب عباس علیہ السلام کے بچپنے کے بارے میں تاریخ کے اندر زیادہ معلومات نظر نہیں آتیں، صرف اتنا نقل ہوا ہے کہ ایک دن اپنے بابا امیر المومنین کے زانو پر بیٹھے ہوئے تھے، امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: بیٹا کہو ایک۔ حضرت عباس نے کہا ایک۔ پھر آنحضرت نے کہا: کہو دو۔ عرض کیا: جس زبان سے ایک کہا اس سے دو کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔

آپ کی دوران جوانی کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ آپ جنگ صفین میں موجود تھے۔ بعض نے ابوالشعثاء اور اس کے سات بیٹوں کے قتل کی آپ کی طرف نسبت دی ہے۔4 خوارزمی نے لکھا ہے کہ جنگ صفین میں جب کریب نامی ایک شخص امیر المومنین علیہ السلام کے ساتھ جنگ کرنے آیا تو آپ نے جناب عباس کا جنگی لباس پہنا اور اس کے ساتھ جنگ کی۔ حضرت علی علیہ السلام کو ایک ایسے بہادر فرزند کی تمنا تھی، جو اپنے بعد اسلام کی حفاظت کرسکے اور حسین بن علی علیہ السلام  کے لئے مددگار بنے۔ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی دعا عباس کی شکل میں پوری ہوئی۔ حسین علیہ السلام کے محافظ نے اس دنیا میں آنکھ کھولی۔ حضرت علی علیہ السلام نے حضرت عقیل کے ذریعے عرب کے بہادر قبیلے کی بہادر خاتون ام البنین کے ساتھ عقد کیا۔ ام البنین سیرت و کردار میں نہایت باکردار خاتون تھیں۔ یوں علی ابن ابی طالب کے نامور فرزند عباس کی شکل میں دنیا میں تشریف لائے، جس نے ایک دفعہ پھر جنگوں میں اپنے بابا کی یاد تازہ کر دی۔ عباس شجاعت کے دو سمندروں کے آپس میں عجین ہونے کا نام ہے۔ عباس وہ ذات ہے جسے باپ کی طرف سے بنی ہاشم کی شجاعت ملی اور ماں کی طرف سے بنی کلاب کی شجاعت ملی۔ صفین کی جنگ کے دوران، ایک نوجوان امیر المومنین علیہ السلام کے لشکر سے میدان میں نکلا کہ جس نے چہرے پر نقاب ڈال رکھی تھی، جس کی ہیبت اور جلوہ سے دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ گئے اور دور سے جاکر تماشا دیکھنے لگے۔

معاویہ کو غصہ آیا، اس نے اپنی فوج کے شجاع ترین آدمی (ابن شعثاء) کو میدان میں جانے کا حکم دیا کہ جو ہزاروں آدمیوں کے ساتھ مقابلہ کیا کرتا تھا۔ اس نے کہا: اے امیر لوگ مجھے دس ہزار آدمی کے برابر سمجھتے ہیں، آپ کیسے حکم دے رہے ہیں کہ میں اس نوجوان کے ساتھ مقابلہ کرنے جاؤں؟ معاویہ نے کہا: پس کیا کروں؟ شعثاء نے کہا میرے سات بیٹے ہیں، ان میں سے ایک کو بھیجتا ہوں، تاکہ اس کا کام تمام کر دے۔ معاویہ نے کہا: بھیج دو۔ اس نے ایک کو بھیجا۔ اس نوجوان نے پہلے وار میں اسے واصل جہنم کر دیا۔ دوسرے کو بھیجا وہ بھی قتل ہوگیا، تیسرے کو بھیجا ،چوتھے کو، یہاں تک کہ ساتوں بیٹے اس نوجوان کے ہاتھوں واصل جہنم ہوگئے۔ معاویہ کی فوج میں زلزلہ آگیا۔ آخرکار خود ابن شعثاء میدان میں آیا یہ رجز پڑھتا ہوا: اے جوان تو نے میرے تمام بیٹوں کو قتل کیا ہے، خدا کی قسم تمہارے ماں باپ کو تمہاری عزا میں بٹھاؤں گا۔ اس نے تیزی سے حملہ کیا، تلواریں بجلی کی طرح چمکنے لگیں، آخرکار اس نوجوان نے ایک کاری ضربت سے ابن شعثاء کو بھی زمین بوس کر دیا۔ سب کے سب مبہوت رہ گئے۔ امیر المومنین علی علیہ السلام نے اسے واپس بلا لیا اور نقاب کو ہٹا کر پیشانی کا بوسہ لیا۔ یہ قمر بنی ہاشم شیر خدا کا فرزند تھا۔ قمر بنی ہاشم ہمیشہ امام حسین علیہ السلام کے شانہ بہ شانہ رہے۔ جوانی کو امام کی خدمت میں گزار دیا۔ بنی ہاشم کے درمیان آپ کا خاص رعب اور دبدبہ تھا۔ جناب عباس بنی ہاشم کے تیس جوانوں کا حلقہ بنا کر ہمیشہ ان کے ساتھ چلتے تھے۔ جو ہمیشہ امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے ساتھ ساتھ رہتے اور ہر وقت ان کا دفاع کرنے کو تیار رہتے تھے اور اس رات بھی جب ولید نے معاویہ کے مرنے کے بعد یزید کی بیعت کے لئے امام کو دارالخلافہ بلایا، اس وقت بھی جناب عباس تیس جوانوں کو لے کر امام کے ساتھ دارالخلافہ تک جاتے ہیں اور امام کے حکم کے مطابق حکم جہاد کا انتظار کرتے ہیں، تاکہ اگر ضرورت پڑے تو فوراً امام کا دفاع کرنے کو حاضر ہو جائیں۔

حضرت عباس (ع) عرب کے عظیم بہادروں میں شمار ہوتے تھے، کوئی عباس کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا، لیکن ایک مقام پر جب اسلام کو خطرے میں دیکھا، نانا محمد(ص) کا دین سرے سے نابود ہوتے دیکھا، 61 ہجری میں یزید، علی ابن ابی طالب کے ہاتھوں بدر و احد میں واصل جہنم ہونے والے بڑے بڑے سرداروں کا بدلہ لینا چاہا تو عباس (ع) سے برداشت نہ ہوسکا کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا عظیم فرزند حسین علیہ السلام اور علی کی شیر دل بیٹیاں یزیدی فوجیوں کا سامنا کریں، اس لئے عباس (ع) نے حسین علیہ السلام کی فوج سے اسلام کا علم بلند کیا، وہی علم جسے محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم نے خیبر میں علی علیہ السلام کے سپرد کیا تھا، اسی علم کو حسین بن علی علیہ السلام نے کربلا میں حضرت عباس کو عطا کیا۔
مجھے جب حکم ملا عنوان وفا لکھنے کا
میں نے عباس لکھا اور قلم توڑ دیا
تعداد میں بہتر جان نثاروں کے سپہ سالار اور جرنیل عباس علمدار تھے، لیکن یہی بہتر افراد یزیدی افواج کے ہزاروں افراد سے مقام و منزلت میں بالا درجوں پر فائز تھے۔ حضرت عباس (ع) نے اس مشکل وقت میں اسلام کو بچانے کے لئے جان کی پروا نہ کی اور دنیا والوں کو وفائے عباس دکھا دی۔ یزیدی فوجوں نے عباس کو امان نامہ پیش کرکے راہ مستقیم سے ہٹانے کی کوشش کی، تاکہ قمر بنی ہاشم حسین (ع) کا ساتھ نہ دیں اور حسین اکیلے میدان میں رہ جائیں، لیکن قمر بن ہاشم نے ایسا عملی نمونہ پیش کیا، جو قیامت تک کے لئے اسوہ بن گیا۔
عباس کبریا کا عجب انتخاب تھا
طفلی میں بھی علی کا مکمل شباب تھا

حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کے مشہور القاب میں سے ایک باب الحوائج ہے اور آپ کا یہ لقب آشنا ترین اور مشہور ترین القاب میں سے ہے۔ حضرت عباس علمدار علیہ السلام کو دو جہت سے باب الحوائج کہا جاتا ہے، ایک یہ کہ آپ واقعہ کربلا میں اہل بیت اطہار کی ہر مشکل گھڑی میں ان کا سہارا تھے اور ہر ایک کی حاجت روائی فرماتے تھے۔ دوسری علت یہ ہے کہ آپ کا روضہ آج بھی لوگوں کی مشکلات اور حاجت روائی کا مرجع ہے، جہاں سے ہزاروں لاکھوں حاجت مند آپ کے روضے سے اپنی مرادیں پوری کرکے واپس ہوتے ہیں، اس بنا پر بھی آپ کو باب الحوائج یعنی مرادیں پوری کرنے والا در کہا جاتا ہے۔ سلام ہو اس عظیم غازی پر، حسین (ع) کے علمدار پر، سقائے سکینہ پر، جس نے فرات کے پانی پر حوض کوثر کے پانی کو ترجیح دی اور نانا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور بابا علی مرتضٰی علیہ السلام کے ہاتھوں سیراب ہونے کے لئے اسلام پر قربان ہوئے۔ عباس علمدار نہ صرف حسینی فوج کے علمدار تھے بلکہ سقائے سکینہ بھی تھے، اس لئے مشک اٹھا کر علقمہ کا رخ کرتے ہیں۔ یزیدی فوج فرزند علی علیہ السلام سے بخوبی واقف تھی کہ کوئی عباس کا مقابلہ نہیں کرسکتا، اس لئے عباس کو گھیرے میں لینے کا حکم ہوا اور یوں عباس اشقیاء کے گھیرے میں آگئے۔
شجاعت کا صدف مینارہ الماس کہتے ہیں
غریبوں کا سہارا بے کسوں کی آس کہتے ہیں
یزیدی سازشیں جس کے علم کی چھاوں سے لرزیں
اسے ارض و سماء والے سخی عباس کہتے ہیں

عباس (ع) جو سکینہ سے پانی لانے کا وعدہ کرکے آئے تھے، اس لئے مشک پانی سے بھر کر جلدی سے خیمے کا رخ کرتے ہیں۔ یزیدی افواج کو یہ بات ناگوار گزری کہ خیمے کے اندر پانی پہنچ جائے اور حسین علیہ السلام کے معصوم بچے سیراب ہوں، اس لئے ہر طرف سے تیروں کی بارش شروع کر دی، لیکن عباس (ع) نے امام وقت کی دفاع کرتے ہوئے فرمایا:
وَاللَّهِ إِنْ قَطَعْتُمُ يَمينى‏
إنّى‏ أُحامِى أبَداً عَنْ دينى‏
وَعَنْ إمامٍ صادِقِ الْيَقينِ
نَجْلِ النَّبىِّ الْطَّاهِرِ الأَمينِ
‏5
خدا کی قسم اگر میرا دایاں ہاتھ قلم کیا (تو کوئی بات نہیں) میں اب بھی اپنے دین کا دفاع کروں گا اور اپنے سچے امام کی حمایت کروں گا، جو پاک اور امین نبی کا فرزند ہے۔ پیکر وفا نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اسلام اور وقت کے امام کا دفاع کرتے ہوئےقربان کر دیا۔
جنہیں بھی حق نے بنایا تھا کربلا کے لئے
وہ سب کے سب ہی نمونہ تھے دوسروں کے لئے
مگر یقین ہے قائم کہ حضرت عباس
بطور خاص بنائے گئے وفاء کے لئے

امام جعفرصادق علیہ السلام حضرت عباس علیہ السلام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اَلسَّلامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْعَبْدُ الصّالِحُ الْمُطيعُ للهِ وَلِرَسُولِهِ وَلاِميرِالْمُؤْمِنينَ وَالْحَسَنِ والْحُسَيْنِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ۔ “سلام ہو آپ پر اے خدا کے نیک بندے، اے اللہ، اس کے رسول، امیرالمؤمنین اور حسن و حسین علیھم السلام کے اطاعت گزار و فرمانبردار…”
امام زمانہ عج زیارت ناحیہ میں شہدائے کربلا کو سلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: “السلام على أبي الفضل العباس بن أمير المؤمنين، المواسي أخاه بنفسه، الآخذ لغده من أمسه، الفادي له، الواقي الساعي إليه بمائه المقطوعة يداه۔6 “سلام ہو ابوالفضل العباس بن امیرالمؤمنین پر، جنہوں نے اپنے بھائی پر اپنی جان نچھاور کر دی، دنیا کو اپنی آخرت کا ذریعہ قرار دیا، وہ جو محافظ تھے اور لب تشنگانِ حرم تک پانی پہنچانے کی بہت کوشش کی اور ان کے دونوں ہاتھ قلم ہوئے۔”
حوالہ جات:
1۔ صدوق، محمد بن علی، الخصال، ج۱، ص۶۸
2۔ صدوق، محمد بن علی، الخصال، ج۱، ص۶۸
3۔ حسینی، سید جمال‌الدین، عمدة الطالب، ج۱، ص ۳۵۶
4۔ بیرجندی، محمدباقر، کبریت احمر، ج۱، ص۳۸۵
5۔ ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی ‌طالب، ج۳، ص۲۵۶
6۔ ابن طاووس، علی بن موسی، الاقبال بالاعمال الحسنه، ج۳، ص

(موالف ،محمد لطیف مطہری کچوروی)

ماہ شعبان کے مخصوص اعمال

ماہ شعبان کے مخصوص اعمال

 

فضیلت روز اول شعبان

پہلی شعبان کی رات

کتاب اقبال میںشعبان کی پہلی رات میں پڑھی جانے والی کافی نمازوں کا ذکر ہوا ہے ، ان میں سے ایک بارہ رکعت نماز ہے کہ جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد گیارہ مرتبہ سورہ توحید پڑھی جاتی ہے۔

پہلی شعبان کا دن

ماہ شعبان کے پہلے دن کا روزہ رکھنے کی بڑی فضیلت ہے۔ اور امام جعفر صادق -سے روایت ہوئی ہے کہ یکم شعبان کا روزہ رکھنے والے کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے ۔ سید ابن طاؤس نے رسول اللہ سے نقل کیا ہے کہ شعبان کے پہلے تین دن کا روزہ رکھنے اور پہلی تین راتوں میں دو، دو رکعت نماز پڑھنے کاثواب بہت زیادہ ہے، اس نماز کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد گیارہ مرتبہ سورہ توحید پڑھے:

واضح رہے کہ ماہ شعبان اور اسکے پہلے دن کے روزے کی فضیلت تفسیر امام -میں مذکور ہے۔ ہمارے استاد ثقۃ الاسلام نوریرحمه‌الله نے کتاب کلمہ طیبہ کے آخر میں ایک روایت نقل کی ہے۔ جس میں ا سکے بہت سے فوائد و برکات کا ذکر ہے، یہ روایت بڑی طویل ہے۔ ہم یہاں ا سکا خلاصہ نقل کررہے ہیں:

 

خلاصہ روایت

یکم شعبان کو چند افراد مسجد میں بیٹھے قضا و قدر کے مسئلہ پر بحث و تکرار کرتے ہوئے بلند آواز سے بول رہے تھے۔ امیرالمومنین -نے ان لوگوں کو سلام کیا، جب انہوں نے آپ سے وہاںتشریف رکھنے کی خواہش کی تو آپ نے فرمایا : تم لوگ ایسی باتیں کر رہے ہو، جن میںکوئی فائدہ نہیں آیا تم نہیں جانتے کہ خدا کے ایسے بندے بھی ہیں جو صرف خوف خدا سے خاموشی اختیار کرلیتے ہیں لیکن وہ بولنے سے قاصر نہیں ہوتے۔ بات یہ ہے کہ جب ان کے دلوں میں عظمت خداوندی کا تصور آتا ہے۔ تو ان کی زبانیں گنگ اور ان کی عقلیں حیران ہوجاتی ہیں پھر جب وہ اپنی حالت میں آتے ہیں تو خود کو بارگاہ الٰہی میںگنہگار و خطاکار سمجھتے ہوئے آہیں بھرتے ہیںجبکہ وہ گناہوں سے مبرأ ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے عمل کو کم تر سمجھتے ہیں اور ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ ہم میں تقصیر اور کوتاہی ہے۔ پس وہ ہر وقت عمل خیر میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ان کی طرف نظر کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ حالت خوف میں عبادت میں کھڑے ہیں اور ان کا اضطراب ظاہر ہے۔ ان لوگوں کے مقابلے میں تم کہاں ہو؟ کیا تم نہیں جانتے کہ سب سے بڑا دانا وہ ہے جو زیادہ خاموش رہے اور سب سے بڑا جاہل وہ ہے جو بہت زیادہ باتیں کرتا ہو۔ اے نادان و کم سمجھ لوگو! آج یکم شعبان ہے اور خدائے تعالیٰ نے اس کا نام شعبان اس لیے رکھا ہے کہ اس میں نیکیاں عام کردی جاتی ہیں، حسنات کے دروازے کھل جاتے ہیں اورجنت کے محلات ارزاں قیمت اورآسان تر اعمال سے حاصل ہوتے ہیں۔ پس عبادت کرکے انہیں خریدلو۔ شیطان، ابلیس نے برائیوں کو تمہارے لیے پسندیدہ بنادیا ہے، تم گمراہی نافرمانی اور سرکشی میں پڑے ہو، شیاطین کی بدیوں اور برائیوں کی طرف متوجہ ہو اور شعبان کی خوبیوں اور اچھائیوں سے منہ نہ موڑو۔ جب کہ خدا کی طرف سے حسنات و خیرات کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔

آج یکم شعبان ہے اور اس کی حسنا ت و خیرات میں نماز، روزہ، امر بہ معروف و نہی از منکر، والدین، ہمسایہ اور اقربا سے حسن سلوک، آپس کے اختلافات دور کرنا اور فقرائ و مساکین کے لیے صدقہ و خیرات کرنا ہے۔ ادھر تم ہو کہ قضا و قدر کی بحث میں الجھے ہوئے ہو۔ کہ جس کا تمہیںحکم نہیں دیا گیا، جن باتوں سے تمہیں منع کیا گیا ہے تم ان میں مشغول ہو۔ خبر دار رہو کہ جو راز الٰہی کے کھولنے میں کوشاں ہوگا وہ برباد ہوجائے گا۔ آج کے دن اطاعت کرنے والوں کے لیے خدا نے جو کچھ مہیا فرمایا ہے اگر تمہیں اس کا علم ہوجائے تو یقینا تم ان بے کار بحثوں کو چھوڑکر احکام خد اکی طرف متوجہ ہوجاؤگے۔

ان سب نے عرض کی کہ یا امیرالمومنین-! خدا تعالیٰ نے اطاعت گذاروں کے لیے کیا کچھ مہیا فرمایا ہے؟ تب حضرت نے ایک لشکر کا قصہ اس طرح نقل فرمایا:

رسول اکرم نے کفار سے جنگ کے لیے ایک لشکربھیجا تو کافروں نے اس پر شب خون مارا۔ جب کہ وہ ایک تاریک ترین رات تھی اور سبھی مسلمان پڑے سورہے تھے ۔ اس لشکر میںسے صرف چار افراد جاگ رہے تھے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے لشکر کے ایک کونے پر تلاوت، ذکر اور نماز میں مشغول تھا۔ یہ چار افراد زید بن حارثہ، عبداللہ بن رواحہ، قتادہ بن نعمان اور قیس بن عاصم منقری تھے۔ جب دشمن نے مسلمانوں پر سوتے میں حملہ کردیا تو قریب تھا کہ سب کے سب مارے جائیں۔ لیکن اچانک ان چار اشخاص کے چہروں سے نور کی کرنیں پھوٹ نکلیں کہ سارا میدان روشن ہوگیا۔ اس روشنی میں مسلمان سنبھلے اور دیکھ بھال کر دشمن کا مقابلہ کرنے لگے۔ اور اس نور کو دیکھ کر ان کے حوصلے اور بھی بڑھتے جاتے تھے۔ پس انہوں نے دشمنوں کو تلواروں سے زیر کرلیا۔

یہاں تک کہ بہت سے مارے گئے اور بہت سے زخمی و اسیر ہوگئے۔ جب یہ فاتح لشکر واپس آیا تو یہ ماجرا رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا گیا، آپ نے فرمایا کہ یہ نور تمہارے ان بھائیوں کے ان اعمال کی برکت سے ظاہر ہوا جو اس رات (یکم شعبان کے سلسلہ میں) انجام دے رہے تھے۔ ہاں یہ یکم شعبان کے اعمال ہی ہیںکہ جن کے باعث تمہیں فتح حاصل ہوئی اورتم لوگ دشمن کے اچانک حملے میں اس کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے ہو۔

پھر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک ایک کرکے یکم شعبان کے اعمال کا ذکر فرماتے ہوئے کہا: جب یکم شعبان کا دن آتا ہے تو شیطان اپنے گماشتوں سے کہتا ہے کہ ہر طرف پھیل جاؤ، لوگوں کو اپنی طرف بلاؤ اور انہیں خدا سے دور کرو۔ جب کہ خدائے رحمان اپنے ملائکہ سے فرماتا ہے کہ آج یکم شعبان ہے، تم ہر طرف پھیل جاؤ اور میرے بندوں کو میری طرف بلاؤ، انہیں نیکی کی طرف راغب کرو تاکہ وہ سب با سعادت اور نیک بخت بن جائیںالبتہ ان میں سے سرکش اور نافرمان لوگ شیطان کے گروہ میں ہی رہیں گے۔

آنحضرت نے فرمایا کہ جب یکم شعبان ہوتی ہے تو بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، شجر طوبیٰ کو حکم ہوتا ہے کہ اپنی شاخیں پھیلائے اور انہیں زمین کے قریب کرے، خدا کا ایک منادی یہ ندا دیتا ہے کہ اے خدا کے بندو اور اے نیکوکار لوگو! طوبیٰ کی ان شاخوں سے لپٹ جاؤ کہ وہ تمہیں اٹھاکے جنت میں لے جائیں۔ جب کہ بدکاروں کی لیے تھوہر کا درخت ہے اور ڈرتے رہو کہ کہیں اس کی شاخیں تمہیں جہنم میں نہ لے جائیں۔

رسول اللہ نے یہ بھی فرمایا:اس ذات کی قسم جس نے مجھ کو حق کے ساتھ رسالت پر مبعوث فرمایا کہ جو یکم شعبان کے دن نیکی کرے تو وہ طوبیٰ کی شاخ سے لپٹ گیا اور وہ اسے جنت میں لے جائے گی۔ پھر فرمایا جو آج کے دن نماز پڑھے یا روزہ رکھے تو وہ بھی شاخ طوبیٰ سے لپٹ گیا۔ اسی طرح جوشخص آج کے دن باپ بیٹے میں صلح کرائے۔ میاں بیوی میں سمجھوتہ کرائے، رشتہ داروں میں راضی نامہ کرائے یا اپنے ہمسائے یا کسی اجنبی میں مصالحت کرائے تو وہ بھی شاخ طوبیٰ سے لپٹ گیا۔ جو مقروض کی پریشانی کم کرے یا طلب میں تخفیف کرے تو وہ شاخ طوبیٰ سے لپٹ گیا۔ جو شخص آج کے دن اپنے حساب پر نظر کرے اور دیکھے کہ ایک پرانا قرضہ ہے جسے مقروض ادا نہیں کرسکتا۔ پس وہ اس قرضے کو حساب سے کاٹ دے تو وہ طوبیٰ کی شاخ سے لپٹ گیا۔ جو کسی یتیم کی کفالت کرے، کسی جاہل کومؤمن کی ہتک کرنے سے باز کرے تو وہ بھی شاخ طوبیٰ سے لپٹ گیا۔ جو قرآن کی تلاوت کرے، مریض کی عیادت کرے، خداکا ذکر کرے اور خدا کی نعمتوں کا نام لے لے کر اس کا شکر ادا کرے تو وہ بھی طوبیٰ کی شاخ سے لپٹ گیا۔ جوشخص آج کے دن اپنے ماں یا باپ یا دونوں میںسے ایک کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ بھی طوبیٰ کی شاخ سے لپٹا، جو اس سے پہلے کسی کو غضب ناک کرچکا ہو اور آج اسے راضی اور خوش کردے تو وہ بھی شاخ طوبیٰ سے لپٹا جو شخص جنازے کے ساتھ چلے تو وہ بھی طوبیٰ کی شاخ سے لپٹ گیا۔ جو کسی مصیبت زدہ کی بھی دلجوئی کرے وہ شاخ طوبیٰ سے لپٹا اور جو شخص آج کے دن کوئی بھی نیک کام کرے تو وہ شاخ طوبیٰ سے لپٹ گیا۔

اس کے بعد رسول اکرم نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھ کورسالت پر مامور کیا ہے کہ جو شخص آج کے دن شر و بدی کا کوئی بھی کام کرے تو وہ زقوم(تھوہر) کی شاخوں سے لپٹ گیا اوروہ اسے جہنم کی طرف کھینچ لے جائیں گیں پھر فرمایا کہ قسم ہے مجھ کو اس ہستی کی جس نے مجھے پیغمبر قرار دیا کہ جو شخص بھی آج کے دن واجب نماز میں کوتاہی کرتے ہوئے اسے ضائع کرے تو وہ بھی شجر زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ جس کے پاس کوئی فقیر و ناتواں آئے کہ جس کی حالت کو یہ جانتا ہے اور اس کی حالت کو بدل بھی سکتا ہے۔ کہ خود اس کو کچھ ضرر نہیں پہنچتا۔ نیز اس غریب کی مدد کرنے والا کوئی دوسرا شخص بھی نہ ہو پس اگر وہ اس درماندہ کو اس حالت میںچھوڑدے اور وہ ہلاک ہوجائے تو یہ مدد نہ کرنے والازقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ جس کے سامنے کوئی برے کام والا آدمی معذرت کرے اور پھر بھی وہ اس کو اس کی برائی کی سزا سے کچھ زیادہ سزا دے تو یہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹا۔ جو شخص آج کے دن میاں بیوی یا باپ بیٹے یا بھائی بھائی یا بھائی بہن یا کسی قریبی رشتہ داریا ہمسائے یا دو دوستوں میں جدائی اور غلط فہمی پیدا کرے تو وہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔

جو شخص کسی تنگ دست پر سختی کرے کہ جس کی حالت کو جانتاہے اور اس کی مصیبت میںاپنے غصے کا اضافہ کرے تو وہ زقوم کی شاخوں سے لپٹا۔ جس پر کسی کا قرض ہو اور یہ اس کا انکار کردے اور اپنی عیاری سے اس قرض کو باطل قرار دے تو یہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔جو شخص کسی یتیم کو اذیت دے۔ اس پر ستم توڑے اور اس کے مال و متاع کو ضائع کردے تو وہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا اور جو شخص کسی مومن کی عزت کو خراب کرے اور دوسروں کو ایسا کرنے کے لیے شہ دے تو وہ بھی اس درخت کی شاخوں سے لپٹا۔ جو شخص اس طرح گانا گائے کہ لوگ اس کے گانوں سے گناہوں میں مبتلا ہوں تو وہ زقوم کی شاخوںسے لپٹا اور جوشخص زمانہ جنگ میں کیے ہوئے اپنے برے کاموں اور اپنے ظلم و ستم کے دوسرے واقعات لوگوں میں بیٹھ کر فخرسے سنائے تو وہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹا۔

جو شخص اپنے بیمار ہمسائے کو کم تر تصور کرتے ہوئے اس کی عیادت نہ کرے تو وہ زقوم کی شاخوںسے لپٹ گیا۔ اور جو شخص اپنے مردہ ہمسائے کو ذلیل سمجھتے ہوئے اس کے جنازے کے ساتھ نہ جائے تو وہ بھی اس درخت کی شاخوں سے لپٹا۔ جو شخص کسی ستم رسیدہ سے بے رخی برتے اوراسے پست خیال کرتے ہوئے اس پر سختی کرے تو وہ زقوم کی شاخوں سے لپٹا اور جو شخص اپنے ماںباپ یا دونوں میں سے کسی ایک کا نافرمان ہوجائے تو وہ بھی اس درخت کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ جو شخص آج کے دن سے قبل اپنے ماں باپ کا نافرمان ہو اور آج کے دن ان کو راضی و خوش نہ کرے تو وہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ نیز جو بھی شخص ان برائیوں کے علاوہ کسی اور بدی و گناہ کا ارتکاب کرے تو وہ بھی درخت زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مزید فرمایا: قسم ہے مجھے اس ذات کی جس نے مجھ کو نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و پیغمبر بنایا کہ جو لوگ درخت طوبیٰ کی شاخوں سے لپٹے ہوئے ہونگے وہ انہیں اٹھاکر جنت میں لے جائینگے۔ اس کے بعد رسول ﷲ نے چند لمحوں کیلئے اپنی نگاہ آسمان کیطرف بلند کی تو آپ خوش ہوئے اور ہنسے پھر اپنی نگاہ زمین پر ڈالی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا چہرہ مبارک کچھ ترش ہؤا۔ تب اپنے اصحاب کی سمت دیکھتے ہوئے فرمایا مجھ کو قسم ہے ا س ہستی کی جس نے مجھے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قرار دیا کہ میں نے شجر طوبیٰ کو بلند ہوتے اور اپنے سے لپٹے ہوئے لوگوں کو جنت کیطرف لے جاتے دیکھا ہے۔ بقدر اپنی اطاعت و نیکوکاری کے کہ اسکی ایک شاخ یا کئی کئی شاخوں سے لپٹے ہوئے تھے میں نے دیکھا کہ زید بن حارثہ اسکی کئی شاخوں سے لپٹے ہوئے ہیں اور وہ انکو جنت کے مقام اعلیٰ علیین کیطرف بلند کرتی جارہی ہیں یہ دیکھ کر میں خوش ہؤا اور ہنسا۔پھر میں نے زمین پر نظر ڈالی تو قسم ہے اس ہستی کی جس نے مجھ کونبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنایا۔ کہ میں نے درخت زقوم کو دیکھا کہ اس کی شاخیں نیچے کو جارہی ہیں اور جو لوگ اپنی برائیوں کے مطابق اس کی ایک یا کئی شاخوں سے لپٹے ہوئے ہیں وہ ان کو جہنم کے سب سے نچلے طبقے کی طرف لے جارہی ہیں۔ اس سے میرے چہرے پر بیزاری کے آثار ظاہر ہوئے تھے۔اور اس کے ساتھ کئی منافق لپٹے ہوئے تھے۔ 

 http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=193&search=مفاتیح الجنان

 

 

''پیغام کربلا''

''پیغام کربلا''

  • راقم الحروف: سید بہادرعلی زیدی 

 

''پیغام کربلا''
    واقعہ کربلا ایسے دورمیں پیش آیا جب اسلامی معاشرہ ایسے حالات سے دُچار تھا کہ جس میں بڑے بڑے مصلح کہلائے جانے والے بھی اس کی اصلاح کرنے میں اپنے کو ناکام دیکھ رہے تھے۔
    ایسے میں عاشورا نے ذلت کی زندگی بسر کرنے والوں کو ایک انقلابی و نورانی راہ کی ہدایت کی اور انہیں حیات ِ جاویدانی کا پیام دیتے ہوئے کہا کہ:
    ''ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے''
    o کربلا نے بشریت کی رگوں میںایسا خون بھردیا جس کی حرکت کبھی نہ رک سکے۔
    o  دلوں کو ایسا جوش و ولولہ عطا کیا کہ پھر کبھی سرد مہری کا شکار نہ ہوسکیں۔
    o  ذہنوں کو ایسا شعور دیا کہ ہمیشہ راہِ شہادت پیش نظر رہے۔
    لہٰذا ہمیں روز عاشورا کی خونی شہادتوں سے کبھی غافل نہ ہونا چاہیئے اور ان کے اسباب کو جاننا چاہیئے۔
    اگر ہم کربلا کو سمجھ لیں اور اپنی زندگی میں اسے بروئے کار لائیں تو لشکرِ امام حسین ـ میں داخل ہوسکتے ہیں اور ہر زمانے کے ظالم و ستمگر کے مدِّ مقابل آسکتے ہیں۔
٭دین سے مقابلے کے انداز:
    شروع میں دشمنانِ اسلام اپنی بھرپور قدرت و توانائی اور مکمل تیاری کے ساتھ اسلام و مسلمین کی سرکوبی کیلئے گھڑے ہوئے لیکن کسی طرح کامیاب نہ ہوسکے اور پروردگارِ عالم نے تمام جنگوں میں پیغمبرِ اسلام کو فتح و کامیابی عطا فرمائی۔
    جب دشمنانِ اسلام مصلحانہ جنگوں میں ناکام ہوگئے تو پھر انہوں نے سیاست کا رُخ کیا اور مسلمانوں کے افکار کو برباد کرنے کیلئے فریب کاری کا سہارا دیا۔
    o ظاہراً اسلام قبول کرلیا تاکہ مناسب موقع دیکھ کر داخلی حملہ کرسکیں۔
    o غیر فوجی کاروائیاں شروع کردیں۔
    o سیاست ''مذہب علیہ مذہب'' کا سہارا لیا۔
    o دین کی نابودی کیلئے طرفداریِ دین کا شعار اپنالیا۔
    o مسجد ِ نبوی کے مقابلے میں مسجد ِ ضرار بناڈالی۔
    o عترتِ اہل بیت ٪ کے مقابلے میں ''صرف کتاب کافی ہے'' کا نعرہ بلند کردیا۔
    o اصلاحِ دین کے بہانہ سے بہت سے حلال کو حرام اورحرام کو حلال کردیا۔
    o سینکڑوں خرافات کو اسلام کے نام سے رواج دیدیا۔
    o معاویہ و دیگر بنوامیہ احکام اسلام میںتبدیلیاں لائے۔
    مختصر یہ کہ دینِ اسلام بنو امیہ کی ہوا پرستیوں کا شدت سے شکار ہوچکا تھا جس طرح چاہتے (اس کی تبلیغ ِ سوء کرتے) دین لوگوں کے سامنے پیش کرتے۔
    ایک طرف تو یہ حالت تھی اور دوسرے طرف اسلام کے شیدائی، فقر وتنگدستی، تشدّد اور شہادتوں کا شکار تھے۔ ایسے پُر آشوب اور تشنّجی حالات میں کون تھا جو اسلام کی آواز بلند کرتا۔ یہ ہی وہ مقام ہے کہ جہاں ہم عاشورائے حسینی   ـ  کے نقشِ اساسی کو درک کرسکتے ہیں کہ عاشورا سے اسلام کو کس درجہ کمال اور دوام حاصل ہوا ہے، اور واقعہ عاشورا ہمیںکیا پیغام دے رہا ہے۔

"پیام عاشورا"
''١٤٢٤ھ کی مناسبت سے کربلا و روز عاشوراسے ٢٤ ماخوذ پیام''
(١ )عاشورا اورپاسداری دین:
    امام حسین  ـ ایسے حالات سے دُچار تھے کہ جس میں بنوامیہ کے سپوت حلال کو حرام اور حرام کو حلال کررہے تھے او دین کی اساس مکمل طور پر خطرہ میں تھی۔ ایسے میں اگردین کو تحفظ مل جائے تو لوگ بھی محفوظ ہوجائیں،اور اگر دین مٹ گیا تو یہ لوگ خود بخود مٹ جائیں گے اور دین کے مٹ جانے سے تمام انبیاء و مرسلین کی زحمتیں اورمحنتیں بے ثمر ہوکر رہ جائیں گی۔ اس لئے امام حسین ـ  فرماتے ہیں:''کہ صرف ایک راہ باقی ہے کہ اسلام پر فدا ہوجائیں''
    اس لیے کہ پھر دشمن کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ رنگِ خون سب رنگوں پر برتری رکھتا ہے، شہادت کا راستہ تمام راستوں سے زیادہ روشن ہے، شہید سب سے زیادہ جاذبِ نظر ہوتا ہے اور سب نے دیکھ لیا کہ قیام حسینی  ـ اور ان کے خون سے بنو امیہ رسوا پھر نابود ہوگئے، دین اسلام کو کمال و دوام حاصل ہوا، ساکت و پست حوصلہ افراد کو دین کی حفاظت اور شہادت کا حوصلہ ملا۔ پھر اس کے بعد کتنی ہی آذادی کی تحریکیں چلیں اورظلام حکومتوں کو نابود کرتی گئیں، پس دین کی پاسداری عاشورا کا ایک اہم پیام ہے۔

(۲ )احیاء سنت پیغمبرۖ
    بنو امیہ نے جس طرح چاہا سنت ِنبی ۖ  کو تبدیل کیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ حلالِ محمدیۖ کو حرام اور حرام محمدیۖ کو حلال کرنے لگے۔
    لیکن امام حسین ـ نے روز عاشورا اپنی گفتگو اور تقاریر وغیرہ میں حتی الامکان کوشش کی کہ ''سنت پیغمبر'' کے بارے میں پیغام پہنچاتے رہیں۔ امام  ـ نے رسول خدا  ۖ کا عمامہ سر پر رکھا، دوش پر رسول اللہ کی عباء رکھی اور پیغمبر ۖ کے اندار میں کوفیوں سے خطاب کیا اور انہیں سرور کائنات کی باتیں یاد لانے کیلئے فرماتے رہے: ''سَمِعْتُم عن جَدِّی'' تم نے میرے نانا سے سنا،''سَمِعْتُ عَنْ جَدِّی'' میں نے اپنے نانا سے سُنا، وغیرہ۔
    جب حُرّ کے لشکر کے سامنے خطاب کیا تو فرمایا:آگاہ رہو کہ بنو امیہ کے حکمران اور ان کے چاہنے والے شیطان کی پیروی کررہے ہیں اور انہوں نے اطاعت ِ پروردگار ترک کردی ہے،حدود و احکام الٰہی کو ترک کردیا ہے، بیت المال کو غارت اور حلال الٰہی کو حرام اور حرام الٰہی کو حلال کردیا ہے۔
    امام  ـ اچھی طرح اس نکتہ سے باخبر تھے کہ اگر سنت نبی ۖ زندہ رہے گی تو لوگ ہدایت حاصل کرکے حقیقی اسلام کو پہچان سکیں گے اور بنو امیہ کی جاری کردہ بدعتوں کا مقابلہ کرسکیں گے۔
    اِسی لیئے امام  ـ نے ایک ہدف، احیائِ سنت ِ پیغمبر ۖ  بھی بیان کیا ہے ''وأَسِیر بِسِیرَة جَدِّی'' میں اپنے جد ، رسول خدا کی سیرت جاری رکھوں گا۔
(۳ )امر بہ معروف و نہی عن المنکر:
    امام حسین  ـ کے خطوط اور کربلا کی جانب سفر کے دوران تمام تقاریر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امامـ نے خود بیان کیا کہ: میں امر بہ معروف و نہی از منکر کی خاطر قیام کررہا ہوں۔ امام  ـ کے اس اقدام سے تمام عاشقان ِ حسین ـ  کو یہ پیغام ملتا ہے کہ امر بہ معروف و نہی از منکر کو کبھی فراموش نہ کیا جائے۔
(۴ )اسلامی معاشرے کی اصلاح:
    معاشرے کی اصلاح، عاشور کاایک خاص پیام ہے تاکہ پاکیزہ و اصلاح شدہ معاشرے میں انسان کی صلاحیتیں اجاگر ہوسکیں اور باطل کی جڑیں خشک ہوجائیں۔ معاشرے کی اصلاح کا مسئلہ اتنا اہم تھا کہ امام  ـ نے اپنے قیام کا ایک سبب معاشرے کی اصلاح بیان کیا ہے۔ اس اہم کام کیلئے امامـ نے اپنے اور اپنے ساتھیوں اور اولاد کے خون کا نذرانہ پیش کردیا۔
     تاکہ اسلامی معاشرہ برائیوں سے پاک رہے اور اخلاقی قدریں برقرار رہیں۔
(۵ )عاشورا اور حمایتِ قرآن:
    سقیفہ سے عاشورا تک قرآن کی نابودی کی ہر ممکن کوشش کی گئی، زمانہ جاہلیت کی رسومات کو زندہ کیا گیا۔ قرآن کے احکام پر عمل کو ترک کردیا گیا۔
    اور معاویہ کے بعد جب فاسق فاجر شراب خور یزید مسندِخلافت پر برانجمان ہوا تو امام حسین ـ نے فرمایا: ''وعلی الاسلام السلامُ'' یعنی اب اسلام پر سلام کہہ دیا جائے کہ اب اس کا کوئی اثر باقی نہیں رہ سکتا۔
    جب امام حسین ـ نے یہ حالات دیکھے تو اسلام کی بقا وسلامتی کیلئے یزید کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔ جب تک زندہ رہے کبھی خطوط ونصیحت اور کبھی تقاریر کے ذریعے اور بالآخر قرآن کی حمایت اوراس کی بقاء کیلئے تلوار لیکر میدانِ جہاد میں آگئے اور جب شہید ہوگئے تو سرِ امام حسین ـ کبھی نوکِ نیزہ پر بازارِ کوفہ میں اور کبھی یزید کی محفل میں قرآن کی تلاوت کرکے قرآن کی حمایت کرتا رہا اور اس کی بقاء و جاودانی کا اعلان کرتا رہا تاکہ دشمن دیکھ لیں کہ قرآن کبھی نہیں مٹ سکتا۔
    ان کے علاوہ عاشورا سے ہمیں اور بہت سے اہم پیام ملتے ہیں اختصار کا لحاظ رکھتے ہوئے فقط ان کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔
(۶ )وطن کتنا ہی عزیز کیوں نہ ہو اسلام پر وقت پڑجائے تو اِسے ترک کردینا چاہئیے۔
(۷ )مقصد کی راہ میں ہر طرح کی قربانی ضروری ہے۔
(۸ )حقیقی مساوات یہ ہے کہ غلام کا سر بھی اپنے زانو پر رکھا جائے۔
(۹ )شجاعت جذبات نفس پر قابو پانے اور جذبات کو پابند مشیت بنادینے کا نام ہے۔
(۱۰)تقاضائے زمانہ ہے کہ امان نامہ ملے مگر اسے ٹھکرا دیا جائے۔
(۱۱)قربانی کا مفہوم یہ ہے کہ جذبات کی قربانی دی جائے نہ جذباتی قربانی۔
( ۱۲)تبلیغ کا صحیح راستہ یہ ہے کہ راستہ روکنے والے کو بھی پانی پلادیا جائے۔
(۱۳ )اسلامی جہاد کا انداز یہ ہے کہ شدّت مظالم میں بھی جنگ کی ابتداء نہ کی جائے۔
(۱۴ )دشمن لاکھ سرکشی پر آمادہ ہو لیکن دعوت الٰی اللّٰہ دیتے رہو۔
( ۱۵)میدان جہاد میں قدم جمادو تو لاکھوں کے مقابلے میں بھی قدم پیچھے نہ ہٹیں۔
(۱۶ )بندگی کی شان یہ ہے کہ زیر خنجر بھی سجدہ معبود ادا کیا جائے۔
(۱۷ )کربلا دو  شہزادوں کی جنگ نہیں بلکہ حق و باطل کی جنگ ہے۔
(۱۸ )اسلام پر سب کچھ قربان کیا جاسکتا ہے مگر اسلام کو کسی چیز پر بھی قربان نہیں کیا جاسکتا۔
(۱۹ )قرآن و اہل بیت میں کبھی جدائی نہیں ہوسکتی۔
(۲۰ )پرچم حق ہمیشہ اونچا رہے گا۔
(۲۱ )راہ خدا میں جہاد کرنے والوں کے لیے موت شہد سے زیادہ شیریں ہوتی ہے۔
(۲۲ )یہ دو خاندانوں کی جنگ نہیں۔
(۲۳ )حسین کو قتل کرنے والے جہنمی ہیں۔
(۲۴ )کربلا میں حسین، دین اسلام بچا کر کامیاب ہو اور یزید دین مٹانے میں ناکام۔

بعثت پیغمبراسلام(ص)

بعثت پیغمبراسلام(ص)

رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)

حضرت محمد(ص) بن عبداللہ بن عبدالمطلب(ص) پیغمبر آخر الزمان ہیں کہ جنہیں اللہ نے انسان کی ھدایت اور رہنمائی کیلۓ منتخب کیا ہے ۔

نام مبارک:

محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
بعض آسمانی کتابوں میں آنحضرت کا نام احمد آیا ہےاور آنحضرت کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ بنت وھب نے جناب عبد المطلب کے نام رکھنے سے پہلے آنحضرت کا نام احمد رکھا تھا (1)

کنیت:

" ابو القاسم" اور " ابوا براھیم"

القاب شریف:

رسول اللہ ، نبی اللہ ، مصطفی ، محمود ، امین ، امی ، خاتم اور ـ ـ ـ ـ ـ
حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) شیعہ روایت کے مطابق 17 ربیع الا ول اور سنی روایت کے مطابق 12 ربیع الاول عام الفیل میں پیدا ہوے(2)۔
( انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد امام خمینی (رہ) کے فتوے سے پورے عالم اسلام میں 12 سے 17 ربیع الاول تک " ھفتہ وحدت " کے نام سے ایک ساتھ منایا جارہا ہے )۔
آنحضرت کے والد گرامی (حضرت عبداللہ) حضورۖ کی ولارت سے دو مہینے پہلے وفات پاچکے تھے اور والدہ ماجدہ آمنہ بنت وھب بن عبدمناف ولادت کے دو سال اور چار مہینے بعد اور دوسری روایت کے مطابق 6 سال کے بعد وفات پا گئی تھیں ۔(3)
حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی کفالت اور پرورش کی ذمہ داری آپکے دادا جناب عبدالمطلب پر آن پڑی اور جناب عبد المطلب کی رحلت کے بعد جناب ابو طالب آنحضرت کے کفیل اور سرپرست بنے(4)
بہر حال حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) 27 رجب سن 40 عام الفیل مطابق 610 عیسوی ، چالیس سال کی عمر میں ظاہری طور پر پیغمبری کے عہدے پر مبعوث ہوے، اس دن جب حضرت غار حرا میں عبادت میں مصروف تھے تو اس دوران حضرت جبرئیل امین نازل ہوے،اور حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر قرآن کی چند آیتیں(5) تلاوت کرکے خبر دی کہ آپ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر آخر الزمان ہیں اور کہا کہ پڑو:
بسْمِ اللہ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ. اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذی خَلَقَ. خَلَقَ الْاِنسانَ مِنْ عَلَقَ. اِقْرَا وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ. اَلَّذی عَلَّمَ بِالْقَلَمِ …
ایک روایت میں آیا ہے کہ اس وقت جبرئیل امین 70 ہزار فرشتوں اور میکائیل 70 ہزار فرشتوں کے ہمراہ آئے اور آنحضرت کیلۓ عزت و کر امت کی کرسی لائی اور نبوت کا تاج سرور دو عالم کے سر مبارک پر رکھا لواحی حمد انکے ہاتھوں میں دیا اور کہا اس پر چڑھ کر اللہ کا شکرانہ بجا لائیں،
دوسری روایت میں آیا ہے کرسی سرخ یاقوت کی تھی جس کے پایے زبر جد اور موتیوں کے تھے اور جب فرشتے آسمان کی طرف صعود کرنے لگے حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) غار حرا سے نیچے آ‎ۓ انوار جلال نے ان کے چہرے کو کچھ اس طرح مجلل بنالیا تھا کہ کسی کو آنحضرت ۖ کے چہرے کی طرف دیکھنے کی جرءت نہیں ہوتی تھی۔جن درختوں اور پودوں سے گزرتے آنحضرت ۖ کا سجدہ کرتے اور فصیح زبان میں کہتے تھے " السلام علیک یا نبی الله السلام علیک یا رسول الله
جب گھر میں داخل ہوئے تو آپکے چہرہ مبارک کے نور نے حضرت خدیجہ کبری(س) کے گھر کو منور کردیا اور اس خاتون معظم نے سوال کیا: اے محمدۖ تمہارے چہرے پر میں یہ کیسا نور دیکھ رہی ہوں؟ آنحضرت نے فرمایا یہ میری رسالت کا نور ہے کہو لا اله الا الله محمد رسول الله
خدیجہ کبری(س) نے کہا میں تو کئ سالوں سے آپکو پیغمبر مانتی ہوں اور اب شھادت دیتی ہوں کہ خدای واحد کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور تم خدا کے رسول اور پیغمبر ہو،
اس طرح حضرت خدیجہ (س) سب سے پہلے پیغمبر اسلام ۖ پر ایمان لائیں(6)
اسی طرح مردوں میں جب حضرت علی (ع) نے آنحضرت ۖ کا نورانی چہرہ دیکھا تو ان پر ایمان لے آۓ اور زبان پر شہادتین جاری کیا،
اسکے بعد آنحضرت ۖ گھر میں نماز پڑتے تھے اور حضرت خدیجہ کبری(س) اور حضرت علی (ع) انکے پیچہے اقتدا کرتے تھے(7)ان تین شخصیتوں نے اپنے جان و مال و حیثیت سے اسلام کی پرورش اور اسے عالمگیر بنایا۔
خدا کا یہ عظیم تحفہ ھدایت عالم بشریت کو مبارک ہو۔
---------
1- فرازہایی از تاریخ پیامبر اسلام(ص) (جعفر سبحانی)، ص 59
2- کشف الغمہ (علی بن عیسی اربلی)، ج1، ص 10
3- کشف الغمہ، ج1، ص 17؛ منتهی الآمال (شیخ عباس قمی)، ج1، ص 13؛ تاریخ ابن خلدون، ج1، ص 383؛ فرازہایی از تاریخ پیامبر اسلام، ص 59
4- منتہی الآمال، ج1، ص 44؛ فرازہای از تاریخ پیامبر اسلام(ص)، ص 67
5- ہمان و تاریخ ابن خلدون، ج1، ص 384
6- فرازہایی از تاریخ پیامبر اسلام(ص)، ص 93؛ تاریخ ابن خلدون، ج1، ص 385
7- منتہی الآمال، ج1، ص 47 ، فرازہایی از تاریخ پیامبر اسلام(ص)، ص 95

حضرت علی علیه السلام کے والد گرامی جناب ابوطالب (ع)

حضرت علی علیه السلام کے والد گرامی جناب ابوطالب (ع)

جناب ابوطالب (ع) مؤمن قريش

ايمان ابوطالب(ع)

اہلبيت رسول(ص) اور ان كے شيعہ حضرت ابوطالب(ع) كے مومن ہونے پر متفق الخيال ہيں_ (1) يہ بھى مروى ہے كہ وہ اوصياء ميں سے تھے (2)اور ان كا نور قيامت كے دن پيغمبر(ص) آئمہ(ع) اور حضرت فاطمہ(ع) زہرا كے نوركے سوا ہر نور پر غالب ہوگا(3)_

اہلبيت معصومين(ع) سے منقول بہت سارى احاديث آپ كے ايمان پر دلالت كرتى ہيں_ علماء نے ان احاديث كو الگ كتابوں كى شكل ميں جمع كيا ہے_ تازہ ترين كتابوں ميں سے ايك جناب شيخ طبسى كى كتاب ''منية الراغب فى ايمان ابيطالب'' ہے_ واضح ہے گھر والے دوسروں كے مقابلے ميں گھر كے اسرار كو زيادہ جانتے ہيںاورابن اثير كہتے ہيں كہ نبي(ص) كے چچاؤں ميں حضرت حمزہ، حضرت عباس اور (اہل بيت (ع) كے بقول)حضر ت ابوطالب (ع) كے سوا كسى نے اسلام قبول نہ كيا تھا_ (4)

________________________________________

1_ روضة الواعظين ص 138، اوائل المقالات ص 13، الطرائف از ابن طاؤس ص 298، شرح نہج البلاغہ معتزلى ج 14ص 165، بحارالانوار ج 35ص 138، الغدير ج 7ص 384كتب مذكورہ سے، التبيان ج 2ص 398، الحجة از ابن معد ص 13اور مجمع البيان ج 2ص 287 _

2_ الغدير ج 7 ص 389_

3_ الغدير ج7 ص 387 كئي ايك منابع سے_

4_ بحارالانوار ج 3ص 139اور الغدير ج 7 ص 369_

171

ان باتوں كے علاوہ بھى ان كے مومن ہونے پر بہت سارے دلائل موجود ہيں _ان كے ايمان كے اثبات ميں شيعوں اور سنيوں دونوں كى طرف سے بہت سى كتابيں لكھى گئي ہيں _كچھ حضرات نے ان كتابوں كى تعداد تيس تك بتائي ہے_ان كتابوں ميں سے ايك استاد عبدالله الخنيزى كى كتاب (ابوطالب مومن قريش) ہے_ اس كتاب كو لكھنے كے جرم ميں قريب تھا كہ وہ اپنى زندگى سے ہاتھ دھو بيٹھتے _كيونكہ سعودى عرب كے وہابي، اس كتاب كى تاليف كے جرم ميں ان كے پروانہ قتل كو عملى جامہ پہنانے كى تيارى ميں تھے ليكن خدانے اپنى رحمت سے انہيں نوازا _يوں وہ ان كے شرسے نجات پاگئے_

يہ ان متعددابحاث كے علاوہ ہيں جو مختلف چھوٹى بڑى كتابوں ميں بكھرى ہوئي ہيں_ يہاں ہم علامہ امينى كى كتاب الغدير كى جلد 7 اور 8ميں مذكور بيان كے تذكرے پر اكتفا كريں گے_

علامہ امينى رحمة الله عليہ نے اہل سنت كى ايك جماعت سے نقل كيا ہے كہ وہ بھى يہى عقيدہ ركھتے ہيں اور ان ميں سے كئي حضرات نے اس بات كے اثبات ميں كتابيں لكھى اور بحثيں كى ہيں_ مثال كے طور پر برزنجى نے اسنى المطالب (ص 6_ 10) ميں، الاجھوري، اسكافي، ابوالقاسم بلخى اور ابن وحشى نے شہاب الاخبار كى شرح ميں، تلمسانى نے حاشيہ شفاء ميں، شعراني، سبط ابن جوزي، قرطبي، سبكي، ابوطاہر اور سيوطى وغيرہ نے اس مسئلے پر بحث كى ہے_ بلكہ ابن وحشي، الاجہورى اور تلمسانى وغيرہ نے تو يہ فيصلہ ديا ہے كہ جو حضرت ابوطالب سے كينہ ركھے وہ كافر ہے اور جو ان كا ذكر برائي كے ساتھ كرے وہ بھى كافر ہے_ (1)

ايمان ابوطالب(ع) پر دلائل

حضرت ابوطالب كو مومن ماننے والوں نے كئي ايك امور سے استدلال كيا ہے مثلا:

1) رسول(ص) الله اور آئمہ معصومين(ع) سے منقول وہ احاديث جو ايمان ابوطالب(ع) پر دلالت كرتى ہيں اور واضح ہے كہ اس قسم كے امور ميں يہى ہستياں تمام دوسرے لوگوں كى نسبت زيادہ باخبر ہيں _

________________________________________

1_ رجوع كريں: الغدير ج 7ص 382اور 383اور دوسرى كتب_

172

2)جيساكہ گذر چكا ہے كہ ان كى جانب سے رسول(ص) الله كى حمايت و نصرت اور عظيم مشكلات و مصائب ميں ان كى استقامت، اپنى معاشرتى حيثيت و مقام كى قربانى يہاں تك كہ اپنے بيٹے كو بھى قربانى كيلئے پيش كرنا اور ايك ايسى جنگ كيلئے ان كى آمادگى جو ہر خشك و تر كو نابود كردے_ يہ سب باتيں دلالت كرتى ہيں كہ اگر وہ نعوذ بالله كافر ہوتے تو كيونكر ان سب باتوں كو برداشت كرتے؟ كيا وجہ ہے كہ حضرت محمد(ص) كى حمايت ميں حضرت ابوطالب(ع) كو جن مشكلات سے دوچار ہونا پڑا ان كے بارے ميں ہم حضرت ابوطالب سے ملامت و توبيخ كا ايك لفظ بھى نہيں سن پاتے_

رہا يہ احتمال كہ حضرت ابوطالب مزيد جاہ ومقام كى لالچ ميں حضور(ص) كى حمايت كرتے تھے تو يہ احتمال ہى غلط ہے كيونكہ وہ نہايت عمر رسيدہ ہوچكے تھے چنانچہ جب ان كى وفات ہوئي تو ان كى عمر اسى سال سے كہيں زيادہ تھي_ ادھر حضرت ابوطالب(ع) قوم كے نزديك اپنى اور حضرت محمد(ص) كى حيثيت سے بھى باخبر تھے انہيں يہ اميد نہيں تھى كہ اس مقام كے حصول تك وہ زندہ رہيں گے جيساكہ گردوپيش كے حالات و قرائن سے وہ اس امر كا بخوبى اندازہ لگا سكتے تھے_

3) سبط ابن جوزى نے حضرت ابوطالب كے ايمان پر يوں استدلال كيا ہے، (جيساكہ نقل ہوا ہے) اگر حضرت علي(ع) كے باپ كافر ہوتے تو معاويہ اور اس كے حامى نيز زبيرى خاندان اور ان كے طرفدار اور علي(ع) كے باقى دشمن اس بات پر ان كى شماتت كرتے، حالانكہ علي(ع) ان لوگوں كو ان كے آباء اور ماؤں كے كافر ہونے نيز نسب كى پستى كا طعنہ ديتے تھے_ (1)

4) خود حضرت ابوطالب كے بہت سارے صريح كلمات اور بيانات ان كے ايمان كو ثابت كرتے ہيں_ يہاں ہم بطور نمونہ ان كے چند اشعار نقل كرنے پر اكتفا كرتے ہيں جن كے بارے ميں ابن ابى الحديد معتزلى نے يوں كہا ہے كہ مجموعى طور پريہ سارے اشعار تو اتركے ساتھ ثابت ہيں_ (2)

________________________________________

1_ رجوع كريں: ابوطالب مومن قريش ص 272_273 مطبوعہ سنہ 1398 ھ از تذكرة الخواص_

2_ شرح نہج البلاغہ ج 14ص 78اور بحار الانوار ج 35ص 165_

173

يہاں ہم ان كى صلب سے پيدا ہونے والے بارہ اماموں كى تعداد كے عين مطابق ان كے بارہ اشعار تبركاً پيش كرنے كى سعادت حاصل كررہے ہيں:

1_

ألم تعلموا انا وجدنا محمداً

نبياً كموسى خط فى اول الكتب

كيا تم لوگ نہيں جانتے كہ ہم نے موسي(ع) كى طرح محمد(ص) كو بھى خدا كا نبى پايا ہے؟ يہ امر تمام كتابوں كى ابتداء ميں مذكورہے_

2_

نبى اتاہ الوحى من عند ربہ

ومن قال لا يقرع بہا سن نادم

وہ ايسے نبى ہيں جن كے پاس الله كى طرف سے وحى آئي ہے جو اس كا منكر ہو وہ ندامت كے دانت پيستارہ جائے گا_

3

يا شاہد الله عل فاشہد

إنى على دين النب احمد

من ضل فى الحق فانى مہتد

اے شاہد خدا ميرے بارے ميں گواہ رہ كہ ميں احمد مرسل كے دين پر ہوں،

اگر كوئي حق كے بارے ميں گمراہى كا شكار ہوا تو مجھے كيا ميں تو ہدايت يافتہ ہوں_

4_

انت الرسول رسول الله نعلمہ

عليك نزل من ذى العزة الكتب

ہم آپ(ص) كو الله كا رسول(ص) سمجھتے ہيں صاحب عزت ہستى كى طرف سے آپ(ص) كے اوپر كتابيں نازل ہوئي ہيں_

5_

انت النبى محمد

قرم اغر مسود

آپ الله كے رسول(ص) محمد(ص) ہيں جو نورانى سيد اور سردار ہيں_

6_

او تومنوا بكتاب منزل عجب

على نبى كموسى او كذى النون

پيغمبر(ص) پر نازل ہونے والى اس عجيب كتاب پر ايمان لے آؤ ،كہ يہ پيغمبر(ص) موسى (ع) اور يونس (ع) كى مانند ہيں_

7_

وظْلم نبى جاء يدعوا الى الہدي

وا مر ا تى من عند ذى العرش قيم

174

جو نبى ہدايت كى طرف بلانے آيا تھا اس پر ظلم ہوا ، وہ صاحب عرش كى طرف سے آنے والى گراں بہا چيز كى طرف لوگوں كو بلانے آيا تھا_

8_

لقد اكرم الله النبى محمدا

فاكرم خلق الله فى الناس احمد

الله نے اپنے نبى محمد(ص) كو تعظيم سے نوازا لہذا سب سے زيادہ با عزت ہستى احمد(ص) ہيں_

9_

وخير بنى ہاشم احمد

رسول(ص) الالہ على فترة

بنى ہاشم ميں سب سے افضل، احمد ہيں وہ زمانہ فترت (جاہليت)(1) ميں الله كے رسول(ص) ہيں_

10_

والله لااخذل النبى ولا

يخذلہ من بنى ذوحسب

الله كى قسم نہ ميں نبى كو بے يار ومدد گار چھوڑوں گا اور نہ ہى ميرے شريف ونجيب بيٹے آپ(ص) كو تنہا چھوڑ سكتے ہيں_

11_

أتعلم ملك الحبش ان محمدا

نبيا كموسى والمسيح ابن مريم

اتى بالہدى مثل الذى اتيا بہ

فكل بامر الله يہدى ويعصم

وانكم تتلونہ فى كتابكم

بصدق حديث لاحديث الترجم

فلا تجعلوا الله نداً فا سلموا

فان طريق الحق ليس بمظلم

(نجاشى كو دعوت اسلام ديتے ہوئے :)اے بادشاہ حبشہ كيا تجھے معلوم ہے كہ محمد رسول(ص) الله كى مثال حضرت موسي(ع) ور حضرت عيسي(ع) كى طرح ہے_

ان دونوں كى طرح وہ بھى ہدايت كا پيغام ليكر آئے _ وہ سب بحكم خدا ہدايت كرتے ہيں اور (ہميں شر سے) بچاتے ہيں_

تم لوگ اپنى كتاب ميں اس كے بارے ميں پڑھتے ہو شك وابہام كے ساتھ نہيں بلكہ صدق دل كے ساتھ_

الله كے ساتھ كسى كو شريك قرار نہ دو اور مسلمان ہوجاؤ كيونكہ حق كا راستہ تاريك نہيں_

________________________________________

1_ دو نبيوں كى بعثت كے درميانى زمانے كو فترت كہتے ہيں يہاں مراد عيسي(ع) كے بعد كا زمانہ ہے جسے زمانہ جاہليت بھى كہا جاتا ہے_

175

12_

فصبراً ابايعلى على دين احمد

وكن مظہراً للدين وفقت صابرا

وحط من اتى بالحق من عند ربہ

بصدق وعزم ولا تكن حمز كافرا

فقد سرنى ان قلت انك مومن

فكن لرسول الله فى الله ناصرا

وباد قريشا فى الذى قد اتيتہ

جہارا وقل ما كان احمد ساحرا

(اپنے بيٹے حمزہ سے مخاطب ہوكر :)اے ابويعلى (حمزہ) دين احمد پر ثابت قدم رہ اور اس كا اظہار كر خدا تجھے توفيق صبر عطا كرے گا_

اے حمزہ جو شخص اپنے رب كى جانب سے حق كے ساتھ آيا ہے اسكى حفاظت صدق دل اور عزم راسخ كے ساتھ كرو، كہيں كافر نہ ہوجانا_

اگر تم اپنے ايمان كا اقرار كرو تو يہ ميرے لئے باعث مسرت ہوگا پس رضائے الہى كيلئے رسول(ص) الله كى مدد كر _

قريش كے سامنے اپنے عقيدے كا كھل كر اظہار كرو اور كہو كہ احمد جادو گر نہيں_

حضرت ابوطالب كے وہ اشعار جو ان كے ايمان پر دلالت كرتے ہيں زيادہ ہيں ليكن ہم اسى پر اكتفا كرتے ہيں تاكہ ان كے علاوہ ديگر باتوں كے تذكرے كا بھى موقع فراہم ہو جو اس موضوع كے حوالے سے كہى گئي ہيں يا كہى جاسكتى ہيں_

5)ابن ابى الحديد معتزلى كہتے ہيں كہ ہمارے ساتھى على ابن يحيى بطريق رحمة الله عليہ كہا كرتے تھے اگر نبوت كى طاقت اور پوشيدہ حقيقت كارفرما نہ ہوتى تو حضرت ابوطالب جيسے قريش كے صاحب عزت بزرگ اور سردار شخصيت اپنے اس بھتيجے كى تعريف وتمجيد نہ كرتے جو نوجوان تھا، ان كى گودميں پلا تھا ،ايك يتيم تھا جس كى انہوں نے پرورش كى تھى اوران كے بيٹے كى حيثيت ركھتا تھا اورا ن كى تعريف ميں يوں رطب اللسان نہ ہوتے_

وتلقوا ربيع الابطحين محمدا

على ربوة فى را س عنقاء عيطل

وتا وى اليہ ھاشم ان ہاشما

عرانين كعب آخر بعد ا ول

176

اور تم لوگ ديكھو گے كہ سرزمين حجاز كى بہار (حضرت) محمد مصطفى (ص) بلند و بالا اونچى گردن والے اونٹ پر نہايت نماياں طور سے بيٹھے ہوں گے اور ان كے ارد گردہر طرف ہاشمى جوان ہوں گے كيونكہ اول سے آخر تك بنى ہاشم (ع) كے تمام افراد نہايت عالى وقار سيد و سردار ہيں_

اور يہ اشعار نہ كہتے:

وابيض يستسقى الغمام بوجھہ

ثمال اليتامى عصمة للارامل

يطيف بہ الھلاك من آل ھاشم

فھم عندہ فى نعمة و فواضل

درخشندہ چہرے والا جس كے رخ زيبا كا واسطہ دے كر بارش كى دعا كى جاتى ہے جو يتيموں كى پناہگاہ اور بيواؤں كا والى و وارث ہے_ بنى ہاشم كے ستم رسيدہ افراد اسى كى پناہ چاہتے ہيں كيونكہ وہ ان كے لئے (درحقيقت اللہ كى ) ايك بڑى نعمت اور بہت بڑا احسان ہے_

كسى ما تحت اور تابع شخص كى تعريف ميں اس قسم كے اشعار نہيں كہے جاسكتے _اس طرح كى مدح سرائي تو بادشاہوں اور عظيم شخصيات كى ہوتى ہے _جب آپ اس حقيقت كا تصور كريں كہ يہ اشعار حضرت محمد(ص) كى شان ميں ايك صاحب عزت اور عظيم شخصيت يعنى ابوطالب(ع) نے كہے ہيں جبكہ حضرت محمد(ص) جوان تھے اور قريش كے شرسے بچنے كيلئے حضرت ابوطالب(ع) كى پناہ ميں تھے، حضرت ابوطالب نے ہى بچپن سے آپ كى پرورش كى تھى لڑكپن كا دور آيا تو اپنے كاندھوں پراٹھاتے تھے اور جب جوان ہوئے تو اپنے ہمراہ ركھا آپ(ص) حضرت ابوطالب كے مال سے كھاتے پيتے تھے اوران كے گھر ميں رہتے تھے ، تب آپ كو نبوت كى حيثيت اورعظيم مقام ومرتبے كا ضروراندازہ ہوگا_ (1)

اس طرح كا مذكورہ بالا قصيدہ لاميہ (2) جس ميں انہوںنے يہ كہا تھا وابيض يستسقى الغمام بوجہہ ... (جو بہت طويل ہے) بنى ہاشم اپنے بچوں كو يہ قصيدہ ياد كراتے تھے (3) اس ميں بہت سے ايسے

________________________________________

1_ شرح نہج البلاغہ معتزلى ج 14ص 63و ماذا فى التاريخ ج 3 ص 196_197 (از اول الذكر) _

2_ يعنى وہ قصيدہ جس كے آخر ميں لام كا تكرار ہوتا ہے_ (مترجم) _

3_ مقاتل الطالبيين ص 396 _

177

نكات نہاں ہيں جن سے ان كے ايمان كى صداقت كا اندازہ ہوتا ہے_ابن ہشام ،ابن كثير اور ديگر حضرات نے اس كا تذكرہ كيا ہے_

6)ہم نے مشاہدہ كيا كہ جوحضرت ابوطالب(ع) بادشاہ حبشہ كو دعوت اسلام دے رہے ہيں_ وہى اپنے بيٹے حضرت جعفر كو بلاكر حكم ديتے ہيں كہ اپنے چچازاد بھائي كے ساتھ نماز كى صف ميں شامل ہوجائے_ (1)انہوں نے اپنى زوجہ فاطمہ بنت اسد كو اسلام كى دعوت دى (2) اور حضرت حمزہ كو دين اسلام پر ثابت قدم رہنے كى تلقين كى اور ان كے مسلمان ہونے پر خوشى كا اظہار كيا_ يہى حال اپنے نور چشم اميرالمؤمنين علي(ع) كے بارے ميں بھى تھا اور مختلف موقعوں پر ان كے كلام اور ان كے طرزعمل كى تحقيق سے مزيد نكات ہاتھ آتے ہيں_

7) حضرت ابوطاب (ع) نے اپنى وصيت ميں يہ تصريح كردى تھى كہ '' ميں رسول (ص) اللہ كے معاملہ ميں دشمنيوں كے ڈ رسے تقيہ اختيار كئے ہوئے تھا اور محمد (ص) كى تعليمات كو ميرا دل تو قبول كرتا تھا ليكن زبان سے انكار جارى ہوتا '' (3) _ اور انہوں نے قريش كو رسول كريم (ص) كى دعوت اسلام پر لبيك كہنے اور فرمانبردارى كرنے كى بھى وصيت كى تھى كہ اسى ميں ہى ان كى كاميابى اور سعادت ہے(4)

8)نبى كريم(ص) بار بار خدا سے حضرت ابوطالب(ع) كيلئے طلب رحمت ومغفرت فرماتے تھے اوران كى وفات سے حضور(ص) بے تاب ہوئے_ (5)

واضح ہے كہ كسى غيرمسلم كيلئے طلب رحمت نہيں ہوسكتي_ اسى لئے آپ(ص) نے سفانہ بنت حاتم طائي سے فرمايا: ''اگر تمہارا باپ مسلمان ہوتا تو ہم اس كيلئے خدا سے طلب مغفرت كرتے''_ (6)

________________________________________

1_ رجوع كريں: الاوائل از ابى ہلال عسكرى ج 1 ص 154، روضة الواعظين ص 140اور شرح نہج البلاغہ معتزلى ج 13ص 269 ، السيرة الحلبيہ ج1 ص 269 ، اسنى المطالب ص 17 ، الاصابہ ج4 ص 116 ، اسد الغابہ ج1 ص 287 اور الغدير ج7 ص 357_

2_ شرح نہج البلاغہ معتزلى ج13ص 272_

3_ قابل تعجب بات تو يہ ہے كہ كچھ لوگ حضرت عمر كے كرتو توں پر پردہ ڈالنے كے لئے كہتے ہيں كہ ان كا دل برا نہيں تھا صرف زبان كے برے تھے اور اعمال كا دارو مدار نيتوں پر ہے جبكہ حضرت ابوطالب كے معاملے ميں ان كے تقيہ كے پيش نظر كئے ہوئے زبانى انكار كو بہانہ بناتے ہوئے انہيں كافر سمجھتے ہيں (از مترجم) _

4_ الروض الانف ج 2 ص 171 ، ثمرات الاوراق ص 94 ، تاريخ الخميس ج 1 ص 300تا 301، سيرہ حلبيہ ج 1 ص 352، بحار ج 35ص 107 اور الغدير ج 7 ص 366 مختلف منابع سے_

5_ تذكرة الخواص ص 8_

6_ السيرة الحلبية ج 3ص 205 _

178

يہ لوگ زيد بن عمرو ابن نفيل (عمر بن خطاب كے چچازاد بھائي) اس كے بيٹے سعيد ابن زيد، ورقہ بن نوفل، قس بن ساعدہ نيز ابوسفيان (جو ہميشہ منافقين كيلئے جائے پناہ تھا، اور جنگ احد كے حالات ميں ہم اس كے كچھ صريح بيانات اور اقدامات كا تذكرہ كريں گے) وغيرہ كے بارے ميں كيونكرمسلمان ہونے كا فتوى ديتے ہيں؟ يہاں تك كہ يہ لوگ رسول(ص) خدا سے روايت كرتے ہيں كہ آپ(ص) نے اميہ ابن صلت كے بارے ميں فرمايا: ''قريب تھا كہ وہ اپنے اشعار كے ذريعے مسلمان ہوجاتا''_ (1)

شافعى ،صفوان بن اميہ كے بارے ميں كہتے ہيںكہ اس كے مسلمان ہونے ميں گويا شك كى گنجائشے نہيں ہے كيونكہ جب اس نے جنگ حنين كے دن كسى كوكہتے سنا كہ قبيلہ ھوازن كو فتح حاصل ہوئي اور محمد(ص) قتل ہوگئے تو اس نے كہا تھا :''تيرى زبان جل جائے والله قريش كا خدا ميرے نزديك ھوازن كے خدا سے زيادہ محبوب ہے''_

ملاحظہ كريں يہ لوگ ان سارے افراد كو كيونكر مسلمان مانتے ہيں جبكہ انہوں نے اسلام كو سمجھا ہى نہيں اور اگر سمجھابھى تو قبول نہيں كيا يا يہ كہ ظاہراً مسلمان ہوئے ليكن دل كے اندر كفر كو چھپائے ركھا؟ اس كے بر عكس وہ اس ابوطالب كو كافر قرار ديتے ہيں جو كئي بار اپنے اقوال واعمال كے ذريعے خدا كى وحدانيت اور اس كے رسول(ص) كى نبوت و رسالت كا صريحاً اعلان كرتے رہے امويوں اور ان كے چيلوں كا كہناہے كہ اس شخص كے متعلق دليليں جتنى بھى زيادہ ہوجائيں پھر بھى اس شخص كو ہم مؤمن نہيں مانيں گے چاہے خود رسول اكرم(ص) ہى كيوں نہ كہيں _ پس زمانہ جاہليت كے طاغوتوں اور سركشوں كے نقش قدم پر چلنے والے اموى اور ان كے چيلے كتنے برے لوگ ہيں_

واضح ہے كہ كسى شخص كے مسلمان ہونے يا نہ ہونے كا علم چار چيزوں سے ہوتا ہے_

(الف) اس كى عملى پاليسيوں سے اور يہ بھى واضح ہے كہ حضرت ابوطالب كى عملى پاليسياں دين اسلام كے بارے ميں ان كے اخلاص اور جذبہ فداكارى كى اس قدر واضح دليل ہے كہ اس سے زيادہ وضاحت كى ضرورت نہيں_

(ب) شہادتين كے زبانى اقرار سے، اس حوالے سے حضرت ابوطالب(ع) كے ان متعدد اشعار كى طرف اشارہ كافى ہے جو انہوں نے متعدد موقعوں پر كہے_

________________________________________

1_ صحيح مسلم ج 7ص 48_49 نيز الاغانى مطبوعہ ساسى ج 3ص 190 اور التراتيب الاداريہ ج1 ص 213 _

179

(ج) اس شخص كے بارے ميں نمونہ اسلام اور كارواں سالار حق يعنى نبى اعظم(ص) كے موقف سے، چنانچہ حضرت ابوطالب كے بارے ميں آپ(ص) كا محبت آميز اور پسنديدہ موقف بھى مكمل طور پر ثابت ہے_

(د) اس كے قريبى ذرائع سے ، مثال كے طور پر اس كے گھر والوں اور اس كے ساتھ رہنے والوں كے توسط سے، اس سلسلے ميں ہم پہلے عرض كرچكے كہ وہ (اہلبيت) حضرت ابوطالب كے مومن ہونے پر متفق الخيال ہيں_

بلكہ وہ لوگ جو حضرت ابوطالب عليہ السلام كو كافر قرار ديتے ہيں جب وہ ان كى عملى پاليسيوں كا انكار نہ كرسكے، اور نہ ان كے صريح بيانات كو رد كرسكے تو انہوں نے ايك مبہم جملے كے ذريعے عوام كو دھوكہ دينے كى كوشش كى اور كہا كہ وہ دل سے مطيع اور فرمانبردار نہ تھے_ (1)

يہ سب اوٹ پٹانگ اور خيالى باتيں ہيں جو حق وحقيقت پر بہتان باندھنے كہ سوا كچھ نہيں تاكہ يوں ان روايات كو صحيح قرار دے سكيں جو انہوں نے مغيرة بن شعبہ اور اس جيسے دوسرے دشمنان آل ابوطالب سے نقل كى ہيں_ آئندہ صفحات ميں ان كى بے بنياد دليلوں كا ذكر كرتے ہوئے اس بات كى طرف اشارہ كريں گے انشاء الله تعالي_

حضرت ابوطالب عليہ السلام كے احسانات كا معمولى سا حق ادا كرنے كى غرض سے يہاں ہم ان كے ايمان كى بعض دليليں جو زيادہ تر غير شيعہ مآخذ سے لى گئي ہيں بيان كرتے ہيں اور ديگر متعدد دلائل كا تذكرہ نہيں كرتے كيونكہ چند مثالوں سے زيادہ بيان كرنے كى گنجائشے نہيں_

پہلى دليل: عباس نے كہا:'' اے رسول(ص) خدا آپ(ص) ابوطالب كيلئے كس چيز كى آرزو كرتے ہيں؟'' فرمايا:'' ميں ان كيلئے خدا سے تمام اچھى چيزوں كى آرزو كرتا ہوں''_ (2)

________________________________________

1_ سيرت دحلان ج 1ص 44_47 اور الاصابة ج 4ص 116_199 كى طرف رجوع كريں _

2_ الاذكياء ص 128، شرح نہج البلاغہ معتزلى ج 14ص 68، طبقات ابن سعد ج 1حصہ اول ص 79اور بحار الانوار ج 35ص 151اور 159_

180

دوسرى دليل: حضرت ابوبكر اپنے باپ ابوقحافہ (جو بوڑھا اور نابينا تھا) كو لے كر فتح مكہ كے دن رسول(ص) الله كى خدمت ميں آئے تو رسول(ص) الله نے فرمايا:'' اس بوڑھے كو اپنے گھر چھوڑ آتے تاكہ ہم اس كے پاس جاتے'' _حضرت ابوبكر نے كہا:'' ميں نے چاہا كہ الله اسے اجر دے مجھے اپنے باپ كے مسلمان ہونے كى بہ نسبت ابوطالب كے مسلمان ہونے پر زيادہ خوشى ہوئي تھى ،خدا كرے كہ اس سے آپ(ص) كى آنكھوں كو ٹھنڈك ملے''_ (1)

اگرچہ علامہ امينى نے الغدير ميں اس بات سے اختلاف كيا ہے كہ رسول(ص) الله نے حضرت ابوبكر سے مذكورہ جملے كہے ہوں_ انہوں نے اس موضوع پر نہايت عمدہ بحث كى ہے اور ہم بھى اس مسئلے ميں ان كے ہم خيال ہيں_

تيسرى دليل: ابن ابى الحديد معتزلى كہتے ہيں كہ متعدد سندوں كے ساتھ( جن ميں سے بعض عباس بن عبدالمطلب كے ذريعے اور بعض حضرت ابوبكر ابن ابوقحافہ سے منقول ہيں) مروى ہے كہ حضرت ابوطالب نے اپنى موت سے پہلے لا الہ الا الله محمد رسول(ص) الله كا اقرار كيا_ (2)

چوتھى دليل: نبى كريم(ص) نے ابوطالب عليہ السلام كيلئے طلب رحمت واستغفار اور دعا كى يہاں تك كہ جب آپ(ص) نے مدينہ والوں كيلئے بارش كى دعا كى اور بارش ہوئي تو آپ(ص) نے حضرت ابوطالب كو ياد كيا اور منبر پر بيٹھ كر ان كيلئے مغفرت طلب كى (3)آپ(ص) نے ان كے جنازے ميں شركت كى حالانكہ ان لوگوں كى روايت كے مطابق مشركين كے جنازے ميں شركت حرام ہے_ نيز يہى لوگ روايت كرتے ہيں كہ رسول(ص) الله

________________________________________

1_ مجمع الزوائد ج 6ص 174الطبرانى اور بزار سے نقل كيا ہے حياة الصحابہ ج 2ص 344المجمع سے، الاصابة ج 4ص 116اور شرح نہج البلاغة معتزلى ج 14ص 69_

2_ شرح نہج البلاغة معتزلى ج 14 ص 71، الغدير ج 7 ص 329 البداية و النہاية ج 3 ص 123 سے نقل كيا ہے، سيرت ابن ہشام ج 2 ص 87، الاصابة ج 4 ص 116، عيون الاثر ج 1 ص 131، المواہب اللدنية ج 1 ص 71، السيرة الحلبية ج 1 ص 372 و السيرة النبوية (از دحلان حاشيہ كے ساتھ) ج 1 ص 89، اسنى المطالب ص 20، دلائل النبوة (بيہقي)، تاريخ ابوالفداء ج 1ص 120 اور كشف الغمة ( شعراني) ج 2 ص 144_

3_ مراجعہ ہو : عيون الانباء ص 705_

181

نے حضرت على (ع) كو حكم ديا كہ وہ ابوطالب كو غسل و كفن ديں اور دفن كريں_ (1) ہاں ان كو نماز جنازہ پڑھنے كا حكم نہيں ديا كيونكہ نماز جنازہ اس وقت تك فرض نہيں ہوئي تھي_ اسلئے كہتے ہيں كہ جب حضرت خديجہ(س) كى وفات ہوئي تو حضرت نے ان پر نماز جنازہ نہيں پڑھى حالانكہ آپ عالمين كى عورتوں كى سردار ہيں_

پانچويں دليل: جب حضرت ابوطالب(ع) كى وفات ہوئي تو ان كے فرزند حضرت على (ع) نے يہ مرثيہ كہا:

اباطالب عصمة المستجير

وغيث المحول ونور الظلم

لقد ھد فقدك اہل الحفاظ

فصلى عليك ولى النعم

ولقاك ربك رضوانہ

فقدكنت للطہر من خيرعم (2)

اے ابوطالب اے پناہ ڈھونڈنے والوں كى جائے پناہ اے خشك زمينوں كيلئے باران رحمت اور تاريكيوں كو روشن كرنے والے نور تيرى جدائي نے (اسلام كي) حمايت كرنے والوں كو نڈھال كر كے ركھ ديا_ نعمتوں كے مالك (خدا) كى رحمتيں آپ(ع) پر نازل ہوں خدانے آپ كو اپنى خوشنودى سے ہمكنار كرديا_ آپ(ع) نبى پاك(ص) كے بہترين چچا تھے_

چھٹى دليل: اميرالمومنين علي(ع) نے معاويہ كوايك طويل خط لكھا جس ميں مذكور ہے كہ نہ اميہ، ہاشم كى مانند ہے، نہ حرب عبدالمطلب كے مساوى اور نہ ابوسفيان ابوطالب كے برابر، نہ آزاد شدہ غلام ہجرت كرنے

________________________________________

1_ رجوع كريں (ان تمام باتوں كے بارے ميں) تذكرة الخواص ص 8، شرح نہح البلاغة معتزلى ج 14 ص 81، سيرت حلبى ج 1 ص 147، المصنف ج 6 ص 38 السيرة النبوية ( دحلان) ج1 ص 87، تاريخ يعقوبى ج 2 ص 35و طبقات ابن سعد ج 1 ص 78، تاريخ بغداد ( خطيب) ج3 ص 126 اور ج 13 ص 196، تاريخ ابن كثير ج 3 ص 125 و الطرائف (ابن طاؤس) ص 305 از حنبلى در نہاية الطلب نيز البحار ج 35 ص 151 و التعظيم و المنة ص 7 و لسان الميزان ج 1 ص 41، الاصابة ج 4 ص 116، الغدير ج 7 ص 372 و 374 و 375از مذكورہ كتب اور شرح شواہد مغنى (سيوطي) ص 136اعلام النبوة (ماوردي) ص 77 و بدائع الصنائع ج1 ص 283 و عمدة القارى ج 3 ص 435 و اسنى الطالب ص 15 و 21 و 35 و طلبة الطالب ص 43، دلائل النبوة ( بيہقي) ا ور برزنجي، ابن خزيمہ، ابوداؤد اور ابن عساكر_

2_ تذكرة الخواص ص 9_

182

والے كا ہم پلہ ہے اور نہ ہى خودساختہ نسب والا صحيح النسب انسان كے برابر_ (1)

اگر حضرت ابوطالب كافر ہوتے اور ابوسفيان مسلمان تو حضرت علي(ع) كسى كافر كو ايك مسلمان پر كيسے ترجيح دے سكتے تھے؟ ليكن حقيقت اس كے بالكل برعكس ہے كيونكہ ابوسفيان وہ ہے جس نے كہا تھا كہ اسے معلوم نہيں جنت كيا ہے اور جہنم كيا ہے (اس كا ذكر جنگ احد كے حالات كے آخر ميں ہوگا)_ يہاں يہ بھى ظاہر ہوتا ہے كہ اميرالمؤمنين(ع) معاويہ كے مجہول النسب ہونے كى طرف اشارہ فرما رہے ہيں_ بہرحال اس بحث كا مقام الگ ہے_

ساتويں دليل: پيغمبر خدا سے منقول ہے كہ آپ نے(ص) فرمايا: ''اذا كان يوم القيامة شفعت لابى وامى وعمى ابيطالب واخ لى كان فى الجاہلية'' (2) يعنى قيامت كے دن ميں اپنے والدين، اپنے چچا ابوطالب اور اپنے اس بھائي كى شفاعت كروں گا جو ايام جاہليت ميں زندہ تھا_

آٹھويں دليل: نيز آپ(ص) نے فرمايا كہ خدا نے آپ(ص) كو جبرئيل كى زبانى بتايا ''حرمت النار على صلب انزلك و بطن حملك وحجر كفلك اما الصلب فعبد الله و اما البطن فآمنہ و اما الحجر فعمہ يعنى اباطالب و فاطمہ بنت اسد'' يعنى خدانے آتش كو حرام كيا ہے اس صلب پر جس نے تجھے اتارا اور اس بطن پر جس ميں تو رہا اور اس دامن پر جس ميں تونے پرورش پائي، (3) يہاں صلب سے مراد حضرت عبدالله ہيں بطن سے مراد حضرت آمنہ ہيں اور دامن يا گود سے مراد آپ(ص) كے چچا حضرت ابوطالب اور فاطمہ بنت اسد ہيں_ يہى مضمون مختصر فرق كے ساتھ ديگر روايات ميں بھى موجود ہے_

________________________________________

1_ وقعة صفين نصر بن مزاحم ص 471 ، الفتوح ابن اعثم ج 3 ص 260 ، نہج البلاغہ شرح محمد عبدہ ج 3 ص 18، خط 17 ، شرح نہج البلاغہ معتزلى ج 15 ص 117 ، الامامة و السياسة ج 1 ص 118، الغدير ج 3 ص 254 ، مذكورہ كتب سے و از ربيع الابرار زمخشرى باب 66 و مروج الذہب ج 2 ص 62 اور ملاحظہ ہو الفتوح ابن اعثم ج 3 ص 260 و مناقب خوارزمى حنفى ص 180_

2_ ذخائر العقبى ص 7 مكمل طور پر الفوائد رازى سے ، الدرج المنيفہ سيوطى ص 8 ، مسالك الحنفاء ص 14 از ابن النعيم و غيرہ اور مذكور ہے كہ حاكم نے اسے صحيح قرار ديا ہے ، تفسير قمى ج 1 ص 380 ، تفسير برہان ج 2 ص 358 ، تاريخ يعقوبى ج 2 ص 35 اور تاريخ الخميس ج 1 ص 232_

3_ اصول كافى ج 1 ص 371 ، بحار ج 35 ص 109 ، التعظيم و المنة سيوطى ص 27 اور ملاحظہ ہو ، روضة الواعظين ص 139 ، شرح نہج البلاغہ معتزلى ج 14 ص 67، الغدير ج 7 ص 378 مذكورہ كتب سے و از كتاب الحجة (ابن معد) ص 8و تفسير ابوالفتوح ج 4 ص 210

183

نويں دليل: حضرت امام سجاد عليہ السلام سے ايمان ابوطالب(ع) كے بارے ميں سوال ہوا تو انہوں نے فرمايا:'' تعجب كى بات ہے خدا نے اپنے رسول(ص) پر نازل كيا كہ كوئي مسلمان عورت كسى كافر كے حبالہ عقد ميں باقى نہ رہے اور فاطمہ بنت اسد اسلام كى اولين عورتوں ميں سے ہيں وہ حضرت ابوطالب كى موت تك ان كے عقد ميں رہيں؟''_ (1)

البتہ كافر عورتوں كے ساتھ ازدواجى رابطہ باقى ركھنے سے منع كرنے والى آيت كے مدينہ ميں نزول سے مذكورہ روايت كو كوئي ٹھيس نہيں پہنچتى اور نہ وہ اس روايت كے بطلان كا باعث ہے كيونكہ ممكن ہے كہ قرآنى آيت كے نزول سے قبل ہى آپ(ص) كى زبانى مذكورہ امر سے ممانعت ہوئي ہو_ رہا بعض مسلمانوں كا اس حكم پر (اس زمانے ميں) عمل نہ كرنا تو ممكن ہے كہ بعض مخصوص حالات كے تحت وہ اس امر پر مجبور ہوئے ہوں_

دسويں دليل: بعض لوگوں نے حضرت ابوطالب(ع) كے مسلمان ہونے يا نہ ہونے كے بارے ميں خط كے ذريعے امام على ابن موسى الرضا (ع) سے سوال كيا تو انہوں نے جواب ميں لكھا (و من يشاقق الرسول من بعد ما تبين لہ الہدى ويتبع غير سبل المومنين ...) (سورہ نساء آيت 115) يعنى جو شخص راہ ہدايت كے واضح ہونے كے بعد بھى رسول(ص) كى مخالفت كرے اور مومنين كے راستے سے ہٹ كر كسى اور راہ پر چلے ..._ اس كے بعد فرمايا: ''اگر تم حضرت ابوطالب كے ايمان كا اعتراف نہ كرو تو تمہارا ٹھكانہ جہنم ہوگا''_(2)

گيارہويںدليل: جنگ جمل كے موقع پر جب جناب محمد بن حنيفہ نے اہل بصرہ كے ايك آدمى پر قابو پايا تو اسى كا كہناہے كہ جب ميں نے اس پر قابو پاليا تو اس نے كہا : '' ميں ابوطالب كے دين پر ہوں '' پس جب ميں نے اس كى مراد سمجھ لى تو اسے چھوڑ ديا (3)

بارہويںدليل: غزوہ بدر كے ذكر ميں عنقريب آئے گا كہ حضرت رسول اكرم(ص) نے شہيد بدر عبيدہ بن حارث سے اپنے چچا ابوطالب كے متعلق چھوٹے سے طعنے كو بھى برداشت نہيں كيا _ حتى كہ اس كا يہ كہنا بھى برداشت نہيں ہوا كہ ابوطالب نے جو يہ كہا ہے:

________________________________________

1،2_ شرح نہج البلاغة معتزلى ج 14 ص 68، الغدير ج 7 ص 381 اور 394 نے كراجكى ص 85 سے اور كتاب الحجة (ابن معد) ص 24،16 سے و الدرجات الرفيعہ و البحار اور ضياء العالمين سے نقل كيا ہے اور امام سجاد (ع) كى حديث كے تواتر كا دعوى بھى كيا گيا ہے_

3_ طبقات ابن سعد ج5 ص 68 مطبوعہ ليدن_

184

كذبتم و بيت اللہ بيدى محمد

و لما نطاعن دونہ ونناضل

و نسلمہ حتى نصرع دونہ

و نذہل عن ابنائنا و الحلائل

خدا كى قسم كبھى نہيں ہوسكتا كہ ہم رسول خدا(ص) كا ساتھ چھوڑ ديں ( بلكہ ہم تو ان كى حمايت ميں ) تم سے نيزوں اور تلواروں كے ذريعہ سے مقابلہ كريں گے _

تو ہم لوگ ا س سے كہيں بہتر ہيں _ پس جب نبى كريم (ص) اس جيسے طعنے پر بھى غضبناك ہوسكتے ہيں تو كيا آپ كے خيال ميں اپنے چچا كے متعلق مشرك كا حكم لگاكر خوش ہوں گے ؟ اور انہيں دوزخ كے ايك كنارے پر ٹھہرائيں گے جس كى آگ سے ان كا بھيجہ ابل رہا ہوگا؟ يہ بے انصافى كہاں تك رہے گي؟

يہاں ہم انہى مثالوں پر اكتفا كرتے ہيں جو حضرت ابوطالب كے ايمان كو ثابت كرنے كيلئے كافى ہيں مزيد تحقيق كے متلاشى متعلقہ كتب كى طرف رجوع كريں_

بے بنياد دلائل

حضرت ابوطالب عليہ السلام كو نعوذ بالله كافر سمجھنے والوں نے بے بنياد دلائل اور روايات كا سہارا ليا ہے_ يہاں ہم ان ميں سے چند ايك كى طرف جو زيادہ اہميت كى حامل ہيں اشارہ كرتے ہيں_

1_ حديث ضحضاح

ابوسعيد خدرى سے منقول ہے كہ نبى كريم(ص) كے پاس آپ(ص) كے چچا ابوطالب(ع) كا ذكر ہوا تو آپ(ص) نے فرمايا: شايد ان كو ميرى شفاعت روز قيامت فائدہ دے اور آگ كے ايك ضحضاح ( كنارے) ميں ركھا جائے جہاں ان كے ٹخنوں تك آگ پہنچے جس سے ان كا دماغ كھولنے لگے_ ايك اور روايت كے مطابق حضرت عباس نے نبى اكرم(ص) سے عرض كيا آپ(ص) اپنے چچا سے بے نياز نہ تھے والله وہ آپ(ص) كى حفاظت كرتے اور آپ(ص) كى خاطر غضبناك ہوتے تھے فرمايا:'' وہ آگ كے ايك حوض ميں ہيں اگر ميں نہ ہوتا تو وہ جہنم كے

185

سب سے نچلے حصے ميں ہوتے''_ (1)

اس حوالے سے ہم درج ذيل عرائض پيش كرتے ہيں_

(الف) علامہ امينى نے الغدير (ج 8 ص 23_24) ميں اور خنيزى نے ''ابوطالب مومن قريش'' نامى كتاب ميں اس روايت كى اسناد سے بحث كى ہے_ ان دونوں حضرات نے اس روايت كے كمزور اور بے بنياد ہونے، نيز اس كے الفاظ وعبارات كے درميان تضاد كو واضح طور پر ثابت كيا ہے_

(ب) جب پيغمبر(ص) ابوطالب(ع) كو فائدہ پہنچاتے ہوئے جہنم كے آخرى حصے سے انہيں نكال كر گوشہ آتش تك لے آسكتے ہيں تو پھر تھوڑى سى مہربانى اور كرتے ہوئے ان كو اس كنارے سے ہى باہر كيوں نہيں نكال لاتے؟ اس كے علاوہ چونكہ اس وقت رسول(ص) الله زندہ تھے اور قيامت برپانہيں ہوئي تھى اس لئے يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ كيا دنيا ميں شفاعت ہوسكتى ہے؟

(ج) يہى لوگ روايت كرتے ہيں كہ رسول(ص) خدا نے ابوطالب(ع) كو موت كے وقت كلمہ لا الہ الا الله محمد رسول الله ، جارى كرنے كيلئے كہا تاكہ اس طرح بروز قيامت انہيں آپ كى شفاعت نصيب ہو ليكن ابوطالب نے ايسا نہيں كيا _يہ روايت اس بات پر دلالت كرتى ہے كہ كلمہ كے بغير كسى قسم كى شفاعت نہيں ہوسكتي، (2) پھر كيونكر ابوطالب(ع) كى شفاعت ممكن ہوئي (اگرچہ ايك حد تك ہى سہي) حالانكہ ان لوگوں كے بقول انہوں نے كلمہ شہادت زبان پر جارى نہيں كيا جس كى وجہ سے شفاعت ممكن ہوسكتي_

نيز كيايہى لوگ روايت نہيں كرتے كہ مشرك كى شفاعت نہيں ہوسكتي؟ پھر كيونكر اس مشرك كى شفاعت

________________________________________

1_ صحيح بخارى مطبوعہ سن 1309 ج 2 ص 209 اور ج 4 ص 54، المصنف ج 6 ص 41، النسب الاشرف (بہ تحقيق محمودي) ج 2 ص 29_30، صحيح مسلم كتاب الايمان، طبقات ابن سعد ج 1حصہ اول ص 79مسند احمد ج 1 ص 206 و 207 البداية و النہاية ج 3 ص 125، الغدير ج 8ص 23 كہ بعض مذكورہ كتب اور عيون الاثر ج 1ص 132 سے نقل كيا ہے اور شرح نہج البلاغة معتزلى ج 14 ص 66_

2_ الترغيب و الترھيب ج 4 ص 433 از احمد (دو صحيح سندوں كے ساتھ) از بزاز اور طبرى (مختلف اسانيد كے ساتھ جن ميں سے ايك اچھى ہے) اور ابن حبان (اپنى صحيح ميں) نيز رجوع ہو الغدير ج 2 ص 25 _

186

ہوئي اور وہ اس كے سبب جہنم كے آخرى طبقے سے نكال كر آتش كے كنارے ميں منتقل كئے گئے_(1)

(د) ابن ابى الحديد معتزلى نے مذہب اماميہ اور مذہب زيديہ سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ ان كا كہنا ہے حديث ضحضاح ( كنارہ آتش والى حديث) كو تمام لوگ صرف ايك ہى فرد سے نقل كرتے ہيں اور وہ ہے مغيرہ بن شعبہ حالانكہ بنى ہاشم خصوصاً حضرت على (ع) سے اس كا بغض و عناد ہر خاص و عام كو معلوم ہے_ نيز اس كى داستان اور اس كا فاسق ہونا كسى سے مخفى نہيں_ (2)

ليكن ہم ديكھتے ہيں كہ وہ (غيرشيعہ حضرات) اس روايت كو مغيرہ كے علاوہ ديگر افراد سے بھى نقل كرتے ہيں جيساكہ بخارى وغيرہ نے نقل كيا ہے_ پس ممكن ہے كہ مغيرہ كے علاوہ ديگر افراد سے نقل كرنے كا عمل بعد كى پيداوار ہو كيونكہ يہ معقول نہيں كہ شيعہ حضرات ان پر بے جا طور پر مذكورہ اعتراض كريں جبكہ معتزلى نے شيعوں كے اعتراض كے آگے خاموشى اختيار كرلى ہے گويا اس نے بھى يہى احتمال ديا تھا جو ہم نے ديا ہے ، وگرنہ وہ اس اعتراض كا جواب دے سكتے تو ضرور ديتے_

(ہ) امام باقرعليہ السلام سے لوگوں كے اس قول (كہ ابوطالب(ع) آگ كے گوشے ميں ہيں) كے بارے ميں سوال ہوا تو انہوں نے فرمايا:'' اگر ابوطالب(ع) كا ايمان ترازو كے ايك پلڑے ميں ڈالاجائے اور لوگوں كاايمان دوسرے پلڑے ميں تو بے شك ابوطالب(ع) كے ايمان كا پلڑا بھارى ہوگا''_ پھر فرمايا:'' كيا تمہيں نہيں معلوم كہ اميرالمومنين على (ع) اپنى زندگى ميں حضرت عبدالله ، ان كے بيٹے اور حضرت ابوطالب كى نيابت ميں حج بجالانے كا حكم ديا كرتے تھے اور انہوں نے ان كى طرف سے حج بجالانے كى وصيت كي''_ (3)

________________________________________

1_ مستدرك الحاكم ج 2 ص 336اور تلخيص مستدرك (ذہبي) (ان دونوں نے اسے صحيح قرار ديا ہے) المواہب اللدنية ج 1 ص 71، الغدير ج 8 ص 24 از مستدرك مواھب لدنيہ اور از كنز العمال ج 7 ص 128 سے نقل كيا ہے شرح المواہب (زرقاني) ج 1 ص 291 كشف الغمة (شعراني) ج 2 ص 124 اور تاريخ ابوالفداء ج 1 ص 120_

2_شرح نہج البلاغة معتزلى ج 14ص 70و بحار الانوار ج 35ص 112 _

3_ شرح نہج البلاغة معتزلى ج 14ص 68، الدرجات الرفيعة ص 49، بحار ج 35ص 112، الغدير ج 8ص 380_390 (ان دونوں اور السيد كى كتاب الحجة كے ص 18سے) از طريق شيخ الطائفة ازصدوق اور ضياء العالمين (مصنف فتوني) _

187

(و) كوفہ كے مضافات (رحبہ) ميں جب على (ع) سے پوچھا گيا كہ كيا آپ (ع) كے والد عذاب جہنم ميں مبتلا ہوں گے يا نہيں ؟ تو آپ (ع) نے اس آدمى سے فرمايا:'' خاموش تيرى زبان جلے_ حضرت محمد (ص) كو بر حق نبى بناكر بھيجنے والى ذات كى قسم اگر ميرے والد روئے زمين كے تمام گناہگاروں كى بھى شفاعت كريں تو خدا ان سب كو معاف كردے_ واہ باپ تو جہنم كے عذاب ميں مبتلا ہو اور بيٹا ہو قسيم النار والجنة''؟ (جنت و دوزخ تقسيم كرنے والے بيٹے كى موجودگى ميں باپ دوزخ ميں جلے؟ معاذ اللہ )(1)

(ز) روايات ضحضاح ميں اختلاف و تناقض ملاحظہ فرمايئے ايك روايت تو يہ كہتى ہے كہ شايد ميرى شفاعت كام كرجائے اور قيامت كے دن دوزخ كے كنارے پر ٹھہرائے جائيں _ جبكہ دوسرى روايت يقين كے ساتھ كہتى ہے كہ وہ ابھى دوزخ كے كنارے پر موجود ہيں _ ملاحظہ فرمائيں_

2_ عقيل اور ارث ابوطالب(ع)

كہتے ہيں كہ حضرت ابوطالب كى وراثت عقيل نے پائي نہ كہ على (ع) اور جعفر (ع) نے اور اسكى وجہ يہ بتاتے ہيں كہ ابوطالب(ع) مشرك تھے اور يہ دونوں مسلمان تھے پس ان دونوں فريقوں كے دين مختلف ٹھہرے اور دو مختلف اديان كے پيروكار ايك دوسرے سے وراثت نہيں پاتے_ (2) ان كى يہ دليل بھى صحيح نہيں ہے اور اس كى وجوہات درج ذيل ہيں_

(الف) يہ كہاں سے ثابت ہوا كہ جعفر (ع) اور على (ع) نے وراثت نہيں پائي_

(ب) ان كا يہ كہنا كہ دو مختلف اديان كو ماننے والے ايك دوسرے سے وراثت نہيں پاسكتے درست ہے اور ہم بھى اس كى تائيد كرتے ہيں كيونكہ لفظ توارث باب تفاعل سے ہے _باب تفاعل كام كيلئے دو طرف كے ہونے پر دلالت كرتا ہے اور ہم بھى مسلمانوں اور كافروں كے درميان توارث (دونوں طرف سے ايك دوسرے سے وراثت پانے) كے قائل نہيں_

________________________________________

1_ بحار الانوار ج 5 3 ص 110 اور كنز الفوائد ص80 مطبوعہ حجريہ_

2_ المصنف ج 6ص 15اور ج 10 ص 344 اور اس كى جلد ششم كے حاشيے ميں بخارى (ج 4 ص 293) سے مروى ہے نيز طبقات ابن سعد ج 1حصہ اول ص 79 _

188

لفظ توارث كا تقاضا يہ ہے كہ يہ عمل دو طرفہ ہو جس طرح تضارب (ايك دوسرے سے كو مارنا) جو بغير طرفين كے نہيں ہوسكتا_ بنابريں مكتب اہلبيت كا نظريہ ہى درست ہے يعنى يہ كہ مسلمان كافر سے وراثت پاسكتا ہے ليكن كافر مسلمان سے نہيں_ (1)

(ج) حضرت عمر سے منقول ہے كہ ہم مشركين سے وراثت پاتے ہيں ليكن وہ ہم سے نہيں_ (2) نيز بہت سے فقہاء نے فتوى ديا ہے كہ مرتد كى ميراث مسلمانوں كو ملتى ہے اور ہم ان سے وراثت پاتے ہيں ليكن وہ ہم سے نہيں_ (3)

(د) وہ لوگ خود ہى كہتے ہيں كہ حضرت ابوطالب كے وقت و فات تك ميراث ابھى فرض ہى نہيں ہوئي تھى اور معاملہ وصيت كے ساتھ چلتا تھا_ تو اس بناپر ہوسكتاہے كہ جناب ابوطالب (ع) نے عقيل كے ساتھ محبت كى وجہ سے اس كے نام وصيت كى ہو(4)_

3_ وھم ينہون عنہ، وينأون عنہ

ابوطالب پر اعتراض كرنے والوں نے ذكر كيا ہے كہ آيت (وہم ينہون عنہ و يناون عنہ) ابوطالب(ع) كے بارے ميں نازل ہوئي ہے حضرت ابوطالب پيغمبر(ص) كو ستانے سے لوگوں كو منع كرتے تھے ليكن خود دائرہ اسلام ميں داخل ہونے سے دورى اختيار كئے ہوئے تھے_ (5)جبكہ ہم كہتے ہيں كہ :

1_ خنيزى نے اس روايت كى سند پر جو اعتراضات كئے ہيں وہ كافى ہيں لہذا اس كى سند پر ہم بحث نہيں كرنا چاہتے ... (6)

________________________________________

1_ شرح نہج البلاغة معتزلى ج 14 ص 69 كى طرف رجوع كريں _

2_ المصنف (حافظ عبدالرزاق) ج 10 ص 339 اور ج 6 ص 106 _

3_ المصنف ج 6 ص 104_107 اور 105 اور ج 10 ص 338_341_

4_ مراجعہ ہو: اسنى المطالب ص 62_

5_ الاصابة ج 4 ص 115، تفسير ابن كثير ج 2 ص 127، طبقات ابن سعد ج 1 ص 78 حصہ اول بھجة المحافل ج 1 ص 116 انساب الاشراف بہ تحقيق محمودى ج 2 ص 26، الغدير ج8 ص3 ميں مذكورہ افراد اور تفسير خازن ج2 ص11 سے نيز تفسير ابن جزى ج2 ص6، نيز طبرى اور كشاف سے نقل كيا گيا ہے اور دلائل النبوية (بيہقي) مطبوعہ دار الكتب العلميہ ج2 ص 340 و 341_

6_ كتاب ابوطالب مومن قريش ص 305_306_

189

2_ اسى طرح ہم ديكھتے ہيں كہ يہ آيت كسى لحاظ سے ابوطالب(ع) پر منطبق نہيں ہوسكتى كيونكہ اللہ تعالى نے اس سے قبل ارشاد فرمايا ہے: (و ان يروا كل آية لا يومنوا بھا حتى اذا جائوك يجادلونك يقول الذين كفروا ان ھذا الا اساطير الاولين و ہم ينھون عنہ ...) (1) يعنى اور اگر وہ تمام تر معجزے ديكھ ليں تو بھى وہ اس پر ايمان نہيں لائيں گے يہاںتك كہ جب وہ تمہارے پاس آئيں گے تو تم سے بھى جھگڑا كريں گے اور وہ لوگ جو كافر ہوگئے كہيں گے، يہ نہيں مگر پہلوں كى كہانياں اور وہ اس سے روكتے ہيں ...

اس آيت ميں جمع كى ضمائر مثلاً'' ھم'' اور ''ينھون و ينأون ''كے فاعل كى ضمير جمع انكى طرف لوٹ رہى ہے جن كا ذكر اللہ تعالى نے اس آيت ميں كيا ہے اور وہ ايسے مشرك ہيں جو ہر آيت اور معجزے كو ديكھنے كے باوجود اس پر ايمان نہيں لاتے اور ان معجزات كے بارے ميں رسول(ص) (ص) سے جھگڑا كرتے ہيں اور اپنے عناد كى وجہ سے اس معجزے كو گذشتہ لوگوں كا افسانہ قرار ديتے ہيں_ ان كى ہٹ دہرمى كى حد اتنى ہى نہيں بلكہ وہ اس سے بھى آگے قدم بڑھاتے ہوئے لوگوں كو نبى اكرم(ص) كى باتيں سننے سے روكتے ہيں جس طرح كہ وہ خود بھى ان سے دور رہتے ہيں ...

ان ميں سے كوئي بات بھى حضرت ابوطالب(ع) پر پورى نہيں اترتي، وہ ابوطالب (ع) جوہميشہ نبى اكرم(ص) كى اطاعت پر حوصلہ افزائي كرتے تھے اور اپنے ہاتھ اور زبان كے ساتھ نبي(ص) كى تائيد كرتے بلكہ ہم تو يہ ديكھتے ہيں كہ وہ دوسرے لوگوں كو بھى اس دين كے دائرے ميں آنے كى دعوت ديتے اور خود بھى اس دين پر ڈٹے رہے اور اس سلسلے ميں ہر مشكل كا خندہ پيشانى سے سامنا كيا ،جس طرح كہ ان كى بيوي، حمزہ(ع) ، جعفر(ع) ، حضرت علي(ع) اور بادشاہ حبشہ كى بھى يہى صورت حال تھي_

مفسرين نے بھى اس آيت سے عموم ہى سمجھا ہے اور اس سے سب كفار مراد لئے ہيں اور اس كا يہ معنى كيا ہے كہ وہ لوگ كفار كو روكتے تھے اور اتباع رسول(ص) سے منع كرتے تھے اور خود بھى اس سے دور رہتے تھے ...ابن عباس، حسن، ... قتادہ، ابى معاذ، ضحاك، ابن الحنفيہ، السدي، مجاہد الجبائي اور ابن جبير سے بھي

_1_ سورہ انعام، آيت 25_26_

190

يہى تفسيرتفسير مروى ہے_ (1)

3_علامہ امينى فرماتے ہيں مذكورہ روايت كہتى ہے كہ سورہ انعام كى آيت (وہم ينہون عنہ و يناون عنہ) حضرت ابوطالب كى وفات كے وقت نازل ہوئي_ دوسرى روايت كہتى ہے كہ آيت (انك لا تھدى من اجبت ...) بھى ان كى وفات كے وقت نازل ہوئي جبكہ قرآن كى يہ آيت سورہ قصص كى ہے، جس كى تمام آيات ايك ساتھ نازل ہوئيں اور سورہ قصص پانچ سورتوں كے فاصلے كے ساتھ سورہ انعام سے قبل نازل ہوئي_ (2) يہ اس بات كى دليل ہے كہ مذكورہ آيت حضرت ابوطالب كى وفات كے كافى عرصے بعد نازل ہوئي_

بنابر ايں ان لوگوں كا يہ كہنا كہ يہ آيت وفات ابوطالب(ع) كے وقت نازل ہوئي كيونكر معقول ہو سكتا ہے؟

4_ مشرك كيلئے طلب مغفرت سے منع كرنے والى آيت

بخاري، مسلم اور ديگر محدثين نے ابن مسيب سے اور اس نے اپنے باپ سے ايك روايت نقل كى ہے جس كا خلاصہ يہ ہے كہ رسول(ص) الله نے وفات ابوطالب(ع) كے وقت ان سے لا الہ الا الله كہنے كى خواہش كى تاكہ اس كے ذريعے آپ(ص) خدا كے نزديك ان كى مغفرت كيلئے دليل قائم كرسكيں اس وقت ابوجہل اور عبدالله بن اميہ نے ابوطالب(ع) سے كہا:'' كيا آپ عبدالمطلب كے دين سے منہ موڑنا چاہتے ہيں؟ ''رسول(ص) الله ابوطالب(ع) كو كلمہ توحيد كى دعوت ديتے رہے اور وہ دونوں مذكورہ بات دہراتے رہے يہاں تك كہ ابوطالب(ع) نے آخرى جملہ يہ كہا (عبدالمطلب كے دين پر ہوں) اور لا الہ الا الله كہنے سے احتراز كيا_

يہ ديكھ كر رسول(ص) الله نے فرمايا : ''خدا كى قسم جب تك خدا كى طرف سے ممانعت نہ ہو آپ كيلئے طلب

________________________________________

1_ رجوع كريں: مجمع البيان ج 7 ص 35، 36، تفسير ابن كثير ج 2 ص 127، الغدير ج 8 ص 3 درالمنثور ج 3 ص 8_9، ان سب نے تمام يا بعض مطالب كو قرطبي، طبري، ابن منذر، ابن ابى حاتم، ابن ابى شيبہ ، عبد بن حميد اور ابن مردويہ سے نقل كيا ہے_ قرطبى ج 6 ص 406 _

2_ الدر المنثور ج 2ص 3 ،تفسير شوكانى ج 3، ص 91_92، تفسير ابن كثير ج 2ص 122اور الغدير ج8 ص 5 نے نقل كيا ہے از افراد مذكور و از تفسير قرطبى ج 6ص 386 و383 ،ان سب نے نقل كيا ہے از ابى عبيد و ابن منذر و طبرانى و ابن مردويہ و نحاس ...

191

مغفرت كرتا رہوں گا''_ اس مناسبت سے يہ آيت اترى (ما كان للنبى والذين آمنوا ان يستغفروا للمشركين ولو كانوا اولى قربى من بعد ما تبين لہم انہم اصحاب الجحيم) (1) يعنى پيغمبر(ص) اور مومنين كيلئے روا نہيں كہ وہ مشركين كيلئے مغفرت طلب كريں اگرچہ وہ ان كے قرابت دارہوں بعد اس كے كہ ان كا جہنمى ہونا واضح ہوجائے، نيز خدا نے ابوطالب(ع) كے بارے ميں يہ آيت اتارى (انك لاتہدى من احببت ولكن الله يہدى من يشائ) (2) يعنى اے رسول آپ(ص) ہر اس شخص كى ہدايت نہيں كرسكتے جسے آپ چاہيں بلكہ خدا جسے چاہتا ہے ہدايت ديتا ہے_

ہم نہ تو اس مقطوعہ روايت كى سندوں پر بحث كرنا چاہتے ہيں (3)اور نہ ابن مسيب جيسے لوگوں پر جن كى حضرت على (ع) سے دشمنى واضح ہے اور بعض لوگوں نے تواس كى تصريح كى ہے_ (4) البتہ درج ذيل امور كى طرف اشارہ كريں گے_

1) وہ آيت جو (مشركين كيلئے) طلب استغفار سے منع كرتى ہے سورہ توبہ كى ہے اور اس بات ميں شك كى گنجائشے نہيں كہ يہ سورت مدينہ ميں رسول(ص) پر اترنے والى آخرى سورتوں ميں سے ايك ہے بلكہ بعض حضرات نے يہ دعوى كيا ہے كہ آخرى سورہ يہى ہے_ (5) يہ بات غيرمعقول ہے كہ يہ آيت دس سال سے زيادہ عرصے تك تنہا پڑى رہى ہو پھر جب سورت توبہ نازل ہوئي تو اس ميں شامل كر دى گئي ہو كيونكہ قرآنى آيات كسى سورہ كے ساتھ اس صورت ميں ملحق ہوتى ہيں جبكہ وہ سورت اس سے قبل نازل ہوچكى ہو_اور يہ بات قرآن كى لمبى سورتوں سے متعلق ہے نہ كہ ديگر سورتوں سے جس كى تمام آيات ايك ساتھ اترتى تھيں_

________________________________________

1_ سورہ توبہ، آيت 113_

2_ سورہ قصص آيت 56روايت بخارى مطبوعہ 1309كى ج 3ص 111وغيرہ ميں

3_ رجوع كريں: ابوطالب مومن قريش ص 313_340اور انساب الاشراف بہ تحقيق محمودى ج 2ص 25اور 26 نيز دلائل النبوة (بيہقي) مطبوعہ دار الكتب العلميہ ج2 ص 342 و 343_

4_ الغارات (ثقفي) ج 2ص 569

5_ الغدير ج 8ص 10، ابوطالب مومن قريش ص 341از بخاري، كشاف، بيضاوي، تفسير ابن كثير، الاتقان، ابن ابى شيبہ، نسائي، ابن الضريس، ابن منذر، نحاس، ابوالشيخ اور ابن مردويہ_

192

بنابريں رسول(ص) خدا اس قدر طويل عرصے تك ابوطالب(ع) كيلئے طلب مغفرت و رحمت كرتے رہے حالانكہ يہ عمل كافر سے محبت كا واضح ترين نمونہ ہے اور خدا نے سورہ توبہ كے نزول سے قبل ہى متعدد آيات ميں كفار كى محبت سے منع كيا تھا جيساكہ اس آيت ميں فرماتا ہے:(لا تجد قوماً يومنون بالله واليوم الآخر يوادون من حاد الله ورسولہ ولو كانوا آبائہم اَو ابنا ھم اواخوانھم اوعشيرتہم) (1) يعنى اے رسول(ص) آپ(ص) الله اور يوم آخرت پر ايمان ركھنے والوں كو الله اور اس كے مخالفين سے محبت كرتے ہوئے نہيں پائيں گے اگرچہ وہ ان كے باپ يا بيٹے يا بھائي يا رشتہ دار ہى كيوں نہ ہوں_

نيز فرمايا ہے: (يايہا الذين آمنوا لا تتخذوا الكافرين اولياء من دون المؤمنين) (2) يعنى اے مومنوا مومنين كے بجائے كافروں كو اپنا دوست اور حامى نہ سمجھو_

يا يہ فرمايا ہے: (الذين يتخذون الكافرين اولياء من دون المؤمنين ايبتغون عندہم العزة) (3) يعنى جو لوگ مومنين كو چھوڑ كر كافروں سے دوستى كرتے ہيں كيا وہ عزت ان كے ہاں ڈھونڈتے ہيں؟

نيز فرمايا: (لايتخذ المؤمنون الكافرين اولياء من دون المؤمنين) (4) يعنى مومنين كو چاہيئے كہ وہ مومنوں كے بجائے كافروں كو اپنا دوست اور ہمدرد نہ بنائيں_

انكے علاوہ اور بھى آيات موجود ہيں جن كے بارے ميں تحقيق كى يہاں گنجائشے نہيں_

2)خدانے سورہ منافقين ميں جو بنابر مشہور ہجرت كے چھٹے سال ميں سورہ توبہ سے پہلے، نيز غزوہ بنى مصطلق سے قبل نازل ہوئي فرمايا ہے:(سواء عليہم استغفرت لہم ام لم تستغفرلہم لن يغفر الله لہم) يعنى كہ آپ ان كيلئے خواہ طلب مغفرت كريں يا نہ كريں(ايك ہى بات ہے) خدا ان كو كبھى نہيں

________________________________________

1_ سورہ مجادلہ 22نيز يہ سورہ توبہ سے سات سورتوں كے فاصلے پر پہلے نازل ہوئي (جيساكہ الاتقان ج 1ص 11تفسير ابن كثير ج4ص 329فتح القدير ج 5ص 186اور الغدير ج 8ص 10ميں ان سے اور تفسير آلوسى ج 28و 37سے منقول ہے) ابن ابى حاتم، طبراني، حاكم، بيہقي، ابونعيم وغيرہ نے كہا ہے كہ يہ سورہ بدر يا احد ميں نازل ہوئي_

2_ سورہ نساء آيت 144 _

3_ سورہ نساء آيت 139_

4_ سورہ آل عمران، آيت 28_

193

بخشے گا_

پس جب آپ(ص) كو يہ علم تھا كہ خدا كافروں كو ہرگز نہ بخشے گا خواہ آپ(ص) ان كيلئے استغفاركريں يا نہ كريں ، تو پھرآپ خواہ مخواہ كى زحمت كيوں كرتے؟ حالانكہ واضح سى بات ہے كہ يہ امر عقلاء كے نزديك معقول نہيں_

3)ہم ديكھتے ہيں كہ رسول خدا(ص) نے صاف صاف فرمايا: ''اللہم لاتجعل لفاجر او لفاسق عندى نعمة''(1) يعنى اے خدا كسى فاسق يا فاجر كيلئے ميرے پاس كوئي نعمت اور احسان قرار نہ دے_

نيز آپ(ص) نے حكيم بن حزام كا تحفہ اس كے كافر ہونے كى بنا پر واپس كرديا تھا_ عبيدالله كہتا ہے ميرا خيال ہے آپ(ص) نے فرمايا تھا: ''ہم مشركين سے كوئي چيز قبول نہيں كرتے ليكن اگر تم چاہو توقيمت كى ادائيگى كے ساتھ قبول كريں گے''_ (2)

پيغمبر اكرم(ص) نے عامر بن طفيل كا تحفہ بھى قبول نہيں فرمايا تھا كيونكہ وہ اس وقت تك مسلمان نہيں ہوا تھا_اس كے علاوہ آپ(ص) نے ملاعب الاسنہ ( بوڑھوں كا مذاق اڑانے والوں )كا ہديہ بھى رد كرديا تھا_ آپ (ص) نے فرمايا ميں كسى مشرك كا تحفہ قبول نہيں كرتا_ (3)

عياض مجاشعى سے منقول ہے كہ اس نے نبى اكرم(ص) كے پاس كوئي تحفہ بھيجا ليكن آپ(ص) نے اسے لينے سے

________________________________________

1_ رجوع كريں ابوطالب مومن قريش (خنيزي)

2_ مستدرك الحاكم ج 3ص 484اور تلخيص مستدرك (ذہبي) اس صفحے كے حاشيہ پر_ ان دونوں نے اس روايت كو صحيح گردانا ہے_ نيز كنز العمال ج6ص 57و 59از احمد، طبرانى الحاكم اور سعيد بن منصور ، حيات صحابہ ج2 ص 258 و 259 ، 260 از كنزالعمال و از مجمع الزوائد ج8 ص 278 اور التراتيب الاداريہ ج2 ص 86_ يہاں پر ملاحظہ ہو كہ آپ(ص) نے وقت ہجرت جناب ابوبكر سے بھى صرف قيمت دے كر اونٹ لئے تھے_

3_ كنز العمال ج 3ص 170طبع اول از ابن عساكر طبع ثانى ج 6ص 57از طبراني، المصنف (عبدالرزاق) ج 1ص 446و 447 اورحاشيہ ميں مغازى اور ابن عقبہ سے منقول ہے اور مجمع البيان ج1 ص 353_

194

انكار كيا اور فرمايا مجھے كافروں كے عطيات سے منع كيا گيا ہے_ (1)

آنحضرت(ص) كے اس عمل كى وجہ سوائے اس كے كچھ نہيں كہ كفار كے تحائف كا قبول كرنا آپ(ص) كے دل ميں ان كيلئے محبت واحترام كا گوشہ پيدا كرنے كا باعث نہ ہو_

4)صحيح سند كے ساتھ حضرت علي(ع) سے مروى ہے (جيساكہ علامہ امينى نے ذكر كيا ہے )كہ انہو ں نے سنا ايك شخص اپنے والدين كيلئے طلب مغفرت كررہا ہے جبكہ وہ دونوں مشرك تھے، حضرت علي(ع) نے يہ بات پيغمبر(ص) خدا كو سنائي تو مذكورہ آيت اتري_ (2)

ايك روايت كى رو سے مسلمانوں نے كہا كيا ہم اپنے آباء كيلئے طلب مغفرت نہ كريں؟ اس كے جواب ميں مذكورہ آيت نازل ہوئي_ (3)

ايك اور روايت كے مطابق جب پيغمبر(ص) خدانے الله سے اپنى والدہ كيلئے طلب مغفرت كى اجازت چاہى تو خدانے آپ(ص) كو اجازت نہ دى اور يہ آيت اترى پھر آپ(ص) نے ان كى قبر پر جانے كى اجازت مانگى تو اس كى اجازت مل گئي_ (4)

________________________________________

1_ كنز العمال ج 6ص 57و 59ابوداؤد اور ترمذى سے، احمد او ر طيالسى اور بيہقى نے اسے صحيح قرار ديا ہے_ نيز رجوع كريں كنزالعمال ج 6ص 57 و 59ميں عمران بن حصين سے مروى روايت كى طرف نيز المنصف (عبد الرزاق) ج 10ص 447اور اس كے حاشيے ميں ج 2ص 389اس نے ابوداؤد احمد اور ترمذى سے روايت كى ہے او ر ملاحظہ ہو الوسائل ج12 ص 216 از كافى اور المعجم الصغير ج1 ص 9_

2_ الغدير ج 8ص 12نيز ديگر مآخذ از طيالسي، ابن ابى شيبہ، احمد، ترمذي، نسائي، ابويعلي، ابن جرير، ابن منذر، ابن ابى حاتم، ابوشيخ، ابن مردويہ، حاكم (جس نے اسے صحيح قرار ديا ہے)، بيہقى (در شعب الايمان)، ضياء (المختارة ميں)، الاتقان، اسباب النزول، تفسير ابن كثير، كشاف، اعيان الشيعة، اسنى المطالب ص 18 (دحلان)، ابوطالب مومن قريش، شيخ الابطح اور مسند احمد ج 1ص 130_131_

3_ مجمع البيان ج 5 ص 76 از حسن، تفسير ابن كثير ج 2 ص 393، ابوطالب مومن قريش ص 348 از مجمع البيان اور تفسيرابن كثير سے اور الاعيان ج 39 ص 158 و 159ميں ابن عباس اور حسن سے، كشاف، ج 2 ص 246_

4_ تفسير طبرى ج 11ص 31و الدر المنثور ج 3 ص 283 و ارشاد السارى ج 7 ص 282 اور 158 از صحيح مسلم، تفسير ابن كثير ج 2 ص 394، مسند احمد، سنن ابوداؤد، ابن ماجہ، حاكم، بيہقي، ابن ابى حاتم، طبراني، ابن مردويہ، كشاف ج 2 ص 49 اور ابوطالب مومن قريش ص 349 _

195

يہاں اگرچہ ہمارا عقيدہ تو يہ ہے كہ اس آخرى روايت كا صحيح ہونا بہت بعيد ہے كيونكہ ہمارے عقيدے كے مطابق آپ(ص) كى والدہ مومنہ تھيں جيساكہ ہم حضور(ص) كے آباء كے ايمان كے بارے ميں ذكر كرچكے ہيں ليكن اس سے قطع نظر يہ روايت گزشتہ روايات كے منافى ہے_ شايد راويوں نے اپنى صوابديد كے مطابق عمداً يا سہواً اس آيت كو حضرت آمنہ پر منطبق كيا ہے ليكن صحيح روايت اميرالمؤمنين علي(ع) سے مروى مذكورہ بالا روايت ہى ہے وگرنہ يہ كيسے ہوسكتا ہے كہ رسول(ص) الله اپنى زندگى كے آخرى ايام تك اپنى والدہ كيلئے استغفار كرنا بھول جاتے؟ يہ ان باتوں كے علاوہ ہے جن كا ذكر گزرچكا ہے_

5)(انك لا تہدى من اجبت) والى آيت كے بارے ميں كہتے ہيں كہ يہ احد كے دن اترى جب رسول(ص) الله كا دندان مبارك شہيد ہوا اور چہرہ مبارك پر زخم آيا_ اس وقت آپ(ص) نے فرمايا تھا خدايا ميرى قوم كو ہدايت دے كيونكہ وہ نادان ہيں پس خدانے يہ آيت نازل كى (انك لا تہدى من احببت ...)(1)

يہ بھى كہا گيا ہے كہ يہ آيت حارث بن عثمان بن نوفل كے بارے ميں نازل ہوئي ہے كيونكہ رسول(ص) الله كى خواہش تھى كہ وہ مسلمان ہوجائے كہا گيا ہے كہ يہ مسئلہ اجماعى ہے_ (2)

6)جب رسول(ص) الله چاہتے تھے كہ حضرت ابوطالب ايمان لے آئيں تو يقيناً يہى بات خدا بھى چاہتا تھا كيونكہ رسول(ص) كسى ايسے امر كو پسند نہيں فرماتے جو خدا كو ناپسند ہو_ رہا ان لوگوں كا يہ كہنا كہ آپ(ص) كو ايك وحشى كا قبول اسلام پسند نہ تھا ليكن وہ ايمان لے آيا تو يہ صحيح نہيں كيونكہ يہ امر خدا اور پيغمبر(ص) كے درميان اختلاف اور تضاد كى علامت ہے يعنى يہ كہ ان دونوں ميں توافق نہ ہو_ ليكن اگر توافق موجود ہو تو پھر يہ كيسے

________________________________________

1_ ابوطالب مومن قريش 368 از اعيان الشيعة ج 39 ص 259، الحجة ص 39 اس روايت كے بعض مآخذ كا ذكر جنگ احد كے بيان ميں ہوگا نيز ملاحظہ ہو: التراتيب الاداريہ ج1 ص 198 از استيعاب_

2_ ابوطالب مؤمن قريش ص 369از شيخ الابطح ص 69_

196

ممكن ہے كہ الله اور رسول(ص) الله ايك شخص كے ايمان كو ناپسند كريں؟ (1)

7) '' انك لا تھدى من احبيت ...'' والى آيت جناب ابوطالب (ع) كے ايمان سے مانع نہيں ہے كيونكہ جس طرح روايات دلالت كرتى ہيں خدا نے جناب ابوطالب (ع) كا مؤمن ہوناپسند كيا ہے اور يہ آيت رسول اكرم(ص) كويہ بتانا چاہتى ہے كہ صرف آپ (ص) كى محبت ہى كسى شخص كے ہدايت يافتہ ہونے كے لئے كافى نہيں ہے بلكہ اس كے علاوہ خدا كى مرضى بھى ساتھ ہونى چاہيئے_

آخر ميں يہ بھى عرض كرتے چليں كہ گذشتہ معروضات كى رو سے جناب عبدالمطلب نہ كافر تھے نہ مشرك بلكہ وہ مؤمن اور دين حنيف كے پيروكار تھے بلكہ مسعودى نے تو اپنى ايك كتاب ميں صاف كہہ ديا ہے كہ وہ اسلام پر مرے_ (2) پس حضرت ابوطالب كا يہ كہنا كہ ميں عبدالمطلب كے دين پر ہوں ان كے كفر پر دلالت نہيں كرتا_ اگر بالفرض انہوں نے ايسا كہا بھى ہو تو پھر اس كى وجہ لازماً يہى ہوسكتى ہے كہ وہ قريش كو اس وقت كى بعض مصلحتوں كى بناپر بے خبر ركھنا چاہتے تھے_

باقيماندہ دلائل

يہ تھے ابوطالب(ع) كو نعوذ بالله كافر سمجھنے والوں كے اہم دلائل ليكن ہم نے ديكھا كہ يہ دلائل صحيح اور عالمانہ تحقيق كے آگے نہيں ٹھہرسكتے _ان دلائل كے علاوہ بعض روايات باقى ہيں جن سے ممكن ہے كہ مذكورہ مطلب (كفر ابوطالب) پر استدلال كيا جائے حالانكہ ان روايات ميں كوئي ايسا نكتہ نہيں جو اس بات كو ثابت كرسكے_ ہم نہايت اختصار كے ساتھ ان كى طرف اشارہ كرتے ہوئے عرض كرتے ہيں كہ ان لوگوں كى روايت كے مطابق:

________________________________________

1_ رجوع كريں حاشيہ كتاب انساب الاشراف جلد 2 كے صفحہ 28پر_

2_ الروض الانف ج 2ص 170_171_

197

1) رسول(ص) الله نے وسوسے سے رہائي كے بارے ميں ابوبكر سے فرمايا ہے كہ تمہيں چاہ يے كہ وسوسے سے نجات كيلئے وہ جملہ پڑھو جس كے پڑھنے كا ميں نے اپنے چچا كو حكم ديا تو انہوں نے نہيں پڑھا يعني: لا الہ الاالله محمد رسول الله كى شہادت (1)_ عمر سے مروى ہے كہ وہ كلمہ تقوى جس كى تاكيد رسول(ص) الله نے حضرت ابوطالب كو ان كى موت كے وقت كى كلمہ شہادت ہے ... (2)

ليكن واضح رہے كہ بعض لوگ رسول(ص) الله سے اس بارے ميں سوال كرتے تھے ا ور اسے اپنى زبان پر جارى بھى كرتے تھے ليكن اس كے باوجود وسوسے كا شكار تھے_ مگر يہ كہ اس سے آپ (ص) كى مراد شہادتين كا تكرار اور كثرت تلفظ ليا جائے_ جيساكہ يہ روايت ايك معتبر سندكے ساتھ بھى مروى ہے اور اس ميں آيا ہے كہ سعد اور عثمان كے درميان اختلاف ہوا_ حضرت عمرنے ان دونوں كے درميان فيصلہ كيا اور كہا كہ حضرت يونس(ع) كى دعا يہ تھى (لا الہ الا انت سبحانك انى كنت من الظالمين) ليكن اس نے ابوطالب(ع) كا ذكر نہيں كيا_(3)

2)جب ابوقحافہ نے مسلمان ہونے كيلئے بيعت كا ہاتھ بڑھايا تو حضرت ابوبكر روئے، رسول(ص) الله نے پوچھا :''كيوں روتے ہو؟'' بولے:'' اس خيال سے روتا ہوں كہ كاش اس كے بدلے آپ(ص) كے چچا كا ہاتھ ہوتا جو بيعت كر كے مسلمان ہوتا اور يوں الله آپ(ص) كى آنكھوں كو ٹھنڈك بخشتا تو مجھے زيادہ خوشى ہوتي''_ (4) ليكن يہى روايت قبل ازيں مختلف مآخذ سے ايك اور انداز سے بيان ہوچكى ہے جس سے ابوطالب(ع) كے

________________________________________

1_ حياة الصحابة ج 2 ص 540 و 541 و كنز العمال ج 1 ص 259_261 از ابى يعلى و البوصيرى (زوايد ميں) اور طبقات ابن سعد ج 2 ص 312 سے _

2_ مجمع الزوايد ج 1 ص 15 و كنز العمال ج 1 ص 262 و 63 از ابى يعلى و ابن خزيمہ و ابن حبان و بيہقى وغيرہ جن كى تعداد زيادہ ہے_

3_ مجمع الزوائد ج 7 ص 68 از احمد (اس سند كے راوى صحيح بخارى كے راوى ہيں سوائے ابراہيم بن محمد بن سعد كے جو ثقہ ہے) اور حياة الصحابة ميں احمد، ترمذى اور الكنز ج 1 ص 298 ميں ابى يعلى اور طبرانى سے_ طبرانى نے اسے صحيح قرار ديا ہے_

4_ الاصابة ج 4ص 116اور الحاكم (جس نے اس روايت كو صحيح قرار ديا ہے، بخارى و مسلم كے معيار كے مطابق) از عمر بن شبہ، ابويعلي، ابوبشر سمويہ (در فوائد) و نصب الراية ج 6 ص 281 و 282 (بعض مآخذ سے جن كا ذكر حاشيہ ميں ہوا ہے) المصنف ج 6 ص 39 اور اس كے حاشيہ ميں نقل ہوا ہے از ابن ابى شيبہ ج 4 ص 142 اور 95، ابوداؤد ص 458 اور مسند احمد ج 1 ص 131 _

198

ايمان كى تائيد ہوتى ہے_ لہذا اس كا اعادہ نہيں كرتے_ بلكہ يہ بھى منقول ہے كہ جب ابوقحافہ مسلمان ہوا تو حضرت ابوبكر كو اس كے قبول اسلام كا پتہ ہى نہ چلا يہاں تك كہ رسول(ص) الله نے ان كو خوشخبرى دي_ (1)

بنابر اين حضرت ابوبكر نے مذكورہ بات اس وقت جب ان كے باپ نے بيعت كيلئے ہاتھ بڑھاياكيسے كہي؟

3)ايك روايت ميں مذكور ہے جب حضرت ابوطالب(ع) كى وفات ہوئي تو حضرت علي(ع) رسول(ص) الله كے پاس آئے اور عرض كيا كہ آپ(ص) كا بوڑھا اور گمراہ چچا چل بسا_

ايك اور روايت كے مطابق حضرت علي(ع) نے ابوطالب(ع) كے غسل و كفن كے بارے ميں رسول(ص) الله كا حكم ماننے سے انكار كرديا چنانچہ رسول (ص) الله نے آپ كو حكم ديا يہ كام كسى اور كے ذمے ڈال ديں_(2)

جبكہ امام احمد نے بھى اپنى مسند ميں اس روايت كو نقل كيا ہے ليكن اس ميں لكھا ہے آپ كا بوڑھا چچا وفات پاچكا ہے اس ميں گمراہ كا لفظ نہيں آيا_ (3)يہاں يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ آپ (ص) نے (نعوذ باللہ) ايك مشرك كو غسل دينے كا حكم كيسے ديا ؟ اوريہاں پر يہ سوال بھى پيدا ہوتا ہے كہ آخر رسول(ص) الله نے عقيل اور طالب كو جو مشرك تھے غسل دينے كا حكم دينے كى بجائے علي(ع) كو كيوں حكم ديا؟ پھر يہ بات رسول(ص) كے غمگين ہونے، ابوطالب(ع) كيلئے طلب مغفرت و رحمت كرنے، ان كے جنازے كو كندھا دينے اور جنازے كے ساتھ چلنے سے كيسے ہماہنگ ہوسكتى ہے؟ جبكہ يہى لوگ روايت كرتے ہيں كہ پيغمبر(ص) مشرك كے جنازے كے ساتھ چلنے كو جائز نہيں سمجھتے؟ (4)

________________________________________

1_ المحاسن والمساوى جلد 1 صفحہ 57_

2_ المصنف ج 6ص 39 نيز ملاحظہ ہو: كنز العمال ج17 ص 32 و 33 ، نصب الرايہ ج2 ص 281 و 282 اور اسى كے حاشيہ ميں مختلف منابع سے مذكور احاديث_

3_ مسند الامام احمد ج1 ص 129 اور 35 1و انساب الاشراف بہ تحقيق المحمودى ج 2 ص 24 اس ميں مذكور ہے كہ آپ نے انكو بذات خود حكم ديا تو انہوں نے انہيں دفن كرديا_

4_ اس بحث كى ابتدا ميں بعض مآخذ كا ذكر ہوچكا اور يہ بھى كہ مشرك كے جنازے ميں شركت جائز نہيں ہے_ رجوع كريں سنن بيہقى وغيرہ جيسى كتب احاديث كى طرف_

199

اس كے علاوہ كيا يہ درست ہوسكتاہے كہ حضرت علي(ع) نے رسول(ص) كا حكم ماننے سے انكار كيا ہو يہاں تك كہ رسول(ص) الله ان سے يہ كہنے پر مجبور ہوں كہ يہ كام كسى اور كے ذمے لگادو؟ كيا حضرت علي(ع) اس قسم كى باغيانہ ذہنيت ركھتے تھے؟ نہيں ايسا ہرگز نہيں ہوسكتا_

اس كے علاوہ يہ لوگ متعدد مآخذ سے منقول اس حقيقت كے بارے ميں كيا جواب ديں گے جن كے مطابق حضرت علي(ع) نے خود بہ نفس نفيس ابوطالب(ع) كو غسل ديا، دفن كيا اور ان كو غسل دينے كے بعد غسل مس ميت كيا جو كسى بھى مسلمان ميت كو چھونے پر واجب ہوتا ہے؟(1)

پس جب يہ واضح ہوگيا كہ ابوطالب سچے مسلمان تھے تو پھر مدينى جيسے افراد كى يا وہ گوئي پرجو نہ عقل كے مطابق ہے نہ شرع كے، كان دھرنے كى كيا ضرورت ہے؟ يہ لوگ چاپلوسى اور نيكى كے دكھا وے كے ذريعے كوئي نتيجہ حاصل نہيں كرسكتے جيسا كہ مدينى كہتا ہے كہ ميرى آرزو تھى كہ ابوطالب(ع) مسلمان ہوتے يوں رسول(ص) الله كو خوشى حاصل ہوتى اگرچہ اس كے بدلے مجھے كافر ہونا پڑتا_ (2)

ابوطالب(ع) نے اپنا ايمان كيوں چھپايا؟

اگر ہم دعوت اسلامى كے تدريجى سفر اورابوطالب(ع) كے طرز عمل كا مطالعہ كريں تو پتہ چلتا ہے كہ وہ پہلے پہل ہوبہو مومن آل فرعون كى طرح اپنا ايمان چھپاتے تھے_ ان كى روش يہ رہى كہ كبھى اس كو ظاہر كرتے اور كبھى مخفى ركھتے يہاں تك كہ بنى ہاشم شعب ابوطالب ميں محصور ہوئے اس كے بعد انہوں نے اسے زيادہ ظاہر كرنا شروع كيا_

امام صادق(ع) سے منقول ہے كہ حضرت ابوطالب(ع) كى مثال اصحاب كہف كى سى ہے جنہوں نے اپنا ايمان چھپايا اور شرك كا دكھاوا كيا پس خدانے ان كو دگنا اجر عنايت كيا_ (3)

________________________________________

1_ تاريخ الخميس ج 1 30

2_ عيون الاخبار ج 1ص 263 (ابن قتيبہ) _

3_ امالى صدوق ص 551، شرح نہج البلاغة معتزلى ج 14 ص 70، اصول كافى ج 1 ص 373، روضة الواعظين ص 139، بحار الانوار ج 35 ص 111، الغدير ج 7 ص 385_390 از مآخذ مذكور، الحجة (ابن معد) ص 17اور 115، تفسير ابى الفتوح ج 4 ص 212، الدرجات الرفيعة اور ضياء العالمين_

200

شعبى نے ذكر سندكے بغير اميرالمؤمنين حضرت علي(ع) سے نقل كيا ہے كہ والله ابوطالب بن عبدالمطلب بن عبد مناف مسلمان اور مومن تھے اور اس خوف سے اپنا ايمان چھپاتے تھے كہ قريش بنى ہاشم كے خلاف اعلان جنگ نہ كريں_ ابن عباس سے بھى اسى طرح كى بات مروى ہے_ (1) اسكى تائيد ميں اور بھى متعدد احاديث موجود ہيںجنكے ذكر كى يہاں گنجائشے نہيں_ (2)

ليكن ايك اور روايت كا تذكرہ ضرورى معلوم ہوتا ہے جو شايد حقيقت سے قريب تر ہو_ اسے شريف نسابہ علوى (معروف بہ موضح) نے اپنى اسناد كے ساتھ يوں بيان كيا ہے جب ابوطالب(ع) كى وفات ہوئي تو اس وقت مْردوں پر نماز نہيں پڑھى جاتى تھى پس نبي(ص) نے ان كى اور حضرت خديجہ كى نماز جنازہ نہيں پڑھى _بس اتنا ہوا كہ حضرت ابوطالب كا جنازہ گزرا جبكہ حضرت علي(ع) ، جعفر(ع) اور حمزہ(ع) بيٹھے ہوئے تھے_ (3) تب وہ كھڑے ہوگئے اور جنازے كى مشايعت كى پھر ان كيلئے مغفرت كى دعا كي_

پس بعض لوگوں نے كہا ہم اپنے مشرك مردوں اور رشتہ داروں كيلئے دعا كرتے ہيں_ (لوگوں نے يہ خيال كيا كہ حضرت ابوطالب كى حالت شرك ميں وفات ہوئي اسلئے كہ وہ ايمان كو چھپاتے تھے) چنانچہ خدا نے اس آيت ميں حضرت ابوطالب كو شرك سے منزہ ،نيز اپنے نبي(ص) اور مذكورہ تين ہستيوں كو خطاسے برى قرار ديا ہے (ما كان للنبى والذين آمنوا ان يستغفروا للمشركين و لوكانوا اولى قربي) يعنى نبى اور مومنين كيلئے روانہيں كہ وہ مشركين كيلئے طلب مغفرت كريں اگرچہ وہ ان كے قريبى رشتہ دارہى كيوں نہ ہوں_

پس جو بھى حضرت ابوطالب كو نعوذ بالله كافر سمجھے تو گويا اس نے نبي(ص) كو خطا كار ٹھہرايا حالانكہ خدانے آپ(ص) كے اقوال و افعال كو خطاسے منزہ قرار ديا ہے_ (4)

________________________________________

1_ امالى صدوق ص 550، الغدير ج 8 ص 388 از كتاب الحجة ص 24، 94، 115 _

2_ رجوع كريں الغدير ج 7 ص 388_390 از الفصول و المختارة ص 80، اكمال الدين ص 103 اور كتاب الحجة (ابن معد) از ابوالفرج اصفہاني_

3_ حضرت جعفر حبشہ گئے ہوئے تھے پس يا تو وہ مختصر مدت كيلئے وہاں سے لوٹنے كے بعد پھر واپس ہوئے تھے يا راوى نے اپنى طرف سے عمداً يا سہواً ايسى بات لكھ دى ہے_

4_ الغدير ج 7ص 399 از كتاب الحجة (ابن معد) ص 168_

201

ايمان ابوطالب (ع) كو چھپانے كى ضرورت كيا تھي؟

ہم جرا ت كے ساتھ يہ كہہ سكتے ہيں كہ ابوطالب(ع) كا اپنے ايمان كو مخفى ركھنا اسلام كى ايك شديد ضرورت تھى اور اس كى وجہ يہ تھى كہ دعوت اسلامى كو ايك ايسے بااثر فرد كى ضرورت تھى جو اس دعوت كيپشت پناہى اور اس كے علمبردار كى محافظت كرتا بشرطيكہ وہخود غير جانبدار ہوتا تاكہ اس كى بات ميں وزن ہو _يوں اسلامى دعوت اپنى حركت و كاركردگى كو غير مؤثر بنانے والے ايك بہت بڑے دباؤ كا سامنا كئے بغير اپنى راہ پر چل نكلتي_

ابن كثير وغيرہ نے كہا ہے اگر ابوطالب(ع) مسلمان ہوجاتے (ہم تو يہ كہتے ہيں كہ وہ مسلمان تھے ليكن اس حقيقت كو چھپاتے تھے) تو مشركين قريش كے پاس ان كى كوئي حيثيت نہ رہتى اور نہ ان كى بات ميں وزن ہوتا _نيز نہ ان پر آپ كى ہيبت باقى رہتى اور نہ وہ ان كا احترام ملحوظ ركھتے بلكہ ان كے خلاف ان ميں جسارت پيدا ہوتى اور اپنے دست و زبان سے ان كى مخالفت كرتے_ (1)

ابوطالب (ع) پر تہمت كيوں؟

شايد حضرت ابوطالب كا واحد جرم يہ ہو كہ وہ اميرالمومنين حضرت على (ع) كے والد تھے_ درحقيقت اس قسم كى ناروا تہمتوں كا اصلى ہدف حضرت ابوطالب(ع) نہيں بلكہ ان كے بيٹے حضرت علي(ع) ہيں جوامويوں، زبيريوں اور دشمنان اسلام كى آنكھوں كا كانٹا تھے _ان لوگوں كى ہميشہ يہ كوشش رہى ہے كہ حضرت على (ع) سے مربوط ہر كام ميں عيب نكاليں يہاں تك كہ نوبت ان كے بھائي جعفر اور ان كے والد ابوطالب(ع) تك بھى جا پہنچى _بلكہ ہم تو ديكھتے ہيں كہ ان كے حق ميں مختلف فرقوں كے نزديك صحيح سند كے ساتھ ثابت كوئي فضيلت ايسى نہيں جس كى نظير خلفاء ثلاثہ كيلئے بھى بيان نہ كى گئي ہو (البتہ ضعيف اسناد كے ساتھ) تمام تعريفيں اس خدا كيلئے ہيں اور برہان كامل بھى اس كى ہى ہے_

ہم يقين كے ساتھ كہتے ہيں كہ اگر ابوسفيان يا حضرت على (ع) كے ديگر دشمنوں كے آباء و اجداد ميں سے كسي

________________________________________

1_ البداية و النہاية ج 3 ص 41 نيز رجوع كريں السيرة النبوية (دحلان) ج 1 ص 46_

202

ايك نے بھى ابوطالب(ع) جيسى خدمات كا دسواں حصہ انجام ديا ہوتا تو اس كى خوب تعريفيں ہوتيں اور اسے زبردست خراج تحسين پيش كياجاتا _اس كى شان ميں احاديث كے ڈھير لگ جاتے_ نيز دنيوى و اخروى لحاظ سے اس كى كرامتوں اور شفاعتوں كا زبردست چرچاہوتا بلكہ ہر زمانے اور ہر مقام پر ان چيزوں ميں مسلسل اضافہ ہى ہوتا رہتا_

عجيب بات تو يہ ہے كہ معاويہ كا باپ ابوسفيان جس نے حضرت عثمان (كے خليفہ بننے كے بعد ان )كى محفل ميں يہ كہا: '' يہ حكومت تيم اور عدى سے ہوتے ہوئے اب تم تك آئي ہے اسے اپنے درميان گيند كى طرح لڑھكا تے رہو اور بنى اميہ كو اس حكومت كے ستون بناؤ ، كيونكہ يہ تو صرف حكومت كا كھيل ہے_ قسم ہے اس كى جس كى ابوسفيان قسم كھاتا ہے نہ جنت كى كوئي حقيقت ہے نہ جہنم كي''(1) وہ تو ان كى نظر ميں مؤمن متقى عادل اور معصوم ٹھہرا ليكن حضرت ابوطالب (بہ الفاظ ديگر حضرت علي(ع) كے والد) كافر و مشرك ٹھہرے اور جہنم كے ايك حوض ميں ان كا ٹھكانہ ہو جس كى آگ ان كے ٹخنوں تك پہنچے اور جس كى حرارت سے ان كا دماغ كھولنے لگے_ (نعوذ بالله من ذلك) آگے آگے ديكھئے ہوتا ہے كيا

ابولہب اور پيغمبر(ص) كى نصرت؟

مذكورہ بالا معروضات كے بعداس بات كى طرف اشارہ ضرورى ہے جس كا بعض لوگ اس مقام پر ذكر كرتے ہيں اور وہ يہ كہ ابوطالب(ع) كى وفات كے بعد ابولہب نے پيغمبر(ص) كى مدد كرنے كيلئے اپنى آمادگى كا اعلان كيا _ قريش نے از راہ حيلہ ابولہب سے كہا كہ پيغمبر(ص) كہتا ہے كہ تمہارا باپ عبدالمطلب جہنمى ہے_ ابولہب نے پيغمبر(ص) سے سوال كيا تو آپ(ص) نے اسے جو جواب ديا وہ ان لوگوں كے قول كے مطابق تھا پس ابولہب نے آپ(ص) كى مدد سے ہاتھ كھينچ ليا پھر زندگى بھر آپ(ص) كى دشمنى اختيار كي_ (2)

________________________________________

1_ النزاع و التخاصم ص 20 عجيب بات يہ بھى ہے كہ معاويہ جس كے باپ كے نظريات او پر مذكور ہوچكے ہيں اور بيٹا يزيد جو يہ كہتا ہو كہ ''لعبت ہاشم بالملك فلا خبر جاء و لا وحى نزل'' بنى ہاشم نے حكومت كا كھيل كھيلا وگرنہ حقيقت ميں نہ تو كوئي خبر آئي ہے نبوت كى اور نہ ہى كوئي وحى اترى ہے _ يہ سب كے سب اور ان كے ماننے والے تو پكے مسلمان ليكن ابوطالب اورانہيں مسلمان ماننے والے ... ؟ از مترجم _

2_ بطور مثال رجوع كريں : البداية والنہاية ج3 ص 43 از ابن جوزى اور تاريخ الخميس ج1 ص 302_

203

ہميں يقين ہے كہ يہ واقعہ جھوٹا ہے اور اس كى وجوہات درج ذيل ہيں_

پہلى وجہ: يہ ہے كہ ابولہب كو پيغمبر(ص) كے ساتھ دس سالہ دشمنى كے دوران كيونكر علم نہ ہوا كہ پيغمبر(ص) اور اسلام كا نقطہ نظر حالت شرك ميں مرنے والے ہر شخص كے بارے ميں يہى ہے كہ وہ جہنمى ہوتا ہے؟ پھر وہ اتنى مد ت تك كس بنا پر پيغمبر(ص) كا مقابلہ كرتا رہا؟

نيز اس نے حضرت ابوطالب(ع) كى زندگى ميں حضوراكرم(ص) سے كيوں دشمنى كى اور ان كى وفات كے بعد آپ(ص) كى حمايت اور نصرت پر كيوں اتر آيا؟ وہ بتائيں كہ ابوطالب(ع) نے ابولہب كى روش كيوں نہيں اپنائي اورابولہب نے حضرت ابوطالب(ع) كى روش كيوں اختيار نہيں كي؟

دوسرى وجہ: ہم پہلے ہى بيان كرچكے كہ عبدالمطلب مشرك نہيں تھے بلكہ سچے مؤمن تھے_

يہ روايت كيوں گھڑى گئي؟

اس روايت كو جعل كرنے كى وجہ شايد يہ تأثر دينا ہو كہ حضرت ابوطالب كى حمايت خاندانى جذبے، نسلى تعصب يا بھتيجے كے ساتھ فطرى محبت كى بنا پر تھي_ ليكن يہاں يہ سوال اٹھتا ہے كہ اس سے قبل ابولہب كا خاندانى تعصب اور جذبہ كہاں تھا؟ يا بھتيجے كے ساتھ اس كى فطرى محبت كہاں گئي ہوئي تھي؟ خاص كر اس وقت جب قريش نے بنى ہاشم كا شعب ابوطالب ميں محاصرہ كرركھا تھا اور وہ بھوك كى وجہ سے قريب المرگ ہوگئے تھے؟

نيز اس كے بعد بھى اس كا قومى اور خاندانى جذبہ كہاں چلاگيا؟ ابولہب ہى تھا جو آنحضرت(ص) كو ستانے اور لوگوں كو آپ(ص) سے دور ركھنے كيلئے جگہ جگہ آپ(ص) كا تعاقب كرتا تھا _حضرت ابوطالب(ع) كى قربانيوں كے ذكر ميں ہم نے اس بارے ميں بعض عرائض پيش كئے تھے، لہذا ان كا اعادہ مناسب نہيں_

 -----------------------------------

استفادہ از سایٹ http://balaghah.net/old/nahj-htm/urdo/id/maq/9005/007.htm

حضرت علی علیه السلام کے والد گرامی جناب ابوطالب (ع)

حضرت علی علیه السلام کے والد گرامی جناب ابوطالب (ع)

جناب ابوطالب (ع) مؤمن قريش

ايمان ابوطالب(ع)

اہلبيت رسول(ص) اور ان كے شيعہ حضرت ابوطالب(ع) كے مومن ہونے پر متفق الخيال ہيں_ (1) يہ بھى مروى ہے كہ وہ اوصياء ميں سے تھے (2)اور ان كا نور قيامت كے دن پيغمبر(ص) آئمہ(ع) اور حضرت فاطمہ(ع) زہرا كے نوركے سوا ہر نور پر غالب ہوگا(3)_

اہلبيت معصومين(ع) سے منقول بہت سارى احاديث آپ كے ايمان پر دلالت كرتى ہيں_ علماء نے ان احاديث كو الگ كتابوں كى شكل ميں جمع كيا ہے_ تازہ ترين كتابوں ميں سے ايك جناب شيخ طبسى كى كتاب ''منية الراغب فى ايمان ابيطالب'' ہے_ واضح ہے گھر والے دوسروں كے مقابلے ميں گھر كے اسرار كو زيادہ جانتے ہيںاورابن اثير كہتے ہيں كہ نبي(ص) كے چچاؤں ميں حضرت حمزہ، حضرت عباس اور (اہل بيت (ع) كے بقول)حضر ت ابوطالب (ع) كے سوا كسى نے اسلام قبول نہ كيا تھا_ (4)

________________________________________

1_ روضة الواعظين ص 138، اوائل المقالات ص 13، الطرائف از ابن طاؤس ص 298، شرح نہج البلاغہ معتزلى ج 14ص 165، بحارالانوار ج 35ص 138، الغدير ج 7ص 384كتب مذكورہ سے، التبيان ج 2ص 398، الحجة از ابن معد ص 13اور مجمع البيان ج 2ص 287 _

2_ الغدير ج 7 ص 389_

3_ الغدير ج7 ص 387 كئي ايك منابع سے_

4_ بحارالانوار ج 3ص 139اور الغدير ج 7 ص 369_

171

ان باتوں كے علاوہ بھى ان كے مومن ہونے پر بہت سارے دلائل موجود ہيں _ان كے ايمان كے اثبات ميں شيعوں اور سنيوں دونوں كى طرف سے بہت سى كتابيں لكھى گئي ہيں _كچھ حضرات نے ان كتابوں كى تعداد تيس تك بتائي ہے_ان كتابوں ميں سے ايك استاد عبدالله الخنيزى كى كتاب (ابوطالب مومن قريش) ہے_ اس كتاب كو لكھنے كے جرم ميں قريب تھا كہ وہ اپنى زندگى سے ہاتھ دھو بيٹھتے _كيونكہ سعودى عرب كے وہابي، اس كتاب كى تاليف كے جرم ميں ان كے پروانہ قتل كو عملى جامہ پہنانے كى تيارى ميں تھے ليكن خدانے اپنى رحمت سے انہيں نوازا _يوں وہ ان كے شرسے نجات پاگئے_

يہ ان متعددابحاث كے علاوہ ہيں جو مختلف چھوٹى بڑى كتابوں ميں بكھرى ہوئي ہيں_ يہاں ہم علامہ امينى كى كتاب الغدير كى جلد 7 اور 8ميں مذكور بيان كے تذكرے پر اكتفا كريں گے_

علامہ امينى رحمة الله عليہ نے اہل سنت كى ايك جماعت سے نقل كيا ہے كہ وہ بھى يہى عقيدہ ركھتے ہيں اور ان ميں سے كئي حضرات نے اس بات كے اثبات ميں كتابيں لكھى اور بحثيں كى ہيں_ مثال كے طور پر برزنجى نے اسنى المطالب (ص 6_ 10) ميں، الاجھوري، اسكافي، ابوالقاسم بلخى اور ابن وحشى نے شہاب الاخبار كى شرح ميں، تلمسانى نے حاشيہ شفاء ميں، شعراني، سبط ابن جوزي، قرطبي، سبكي، ابوطاہر اور سيوطى وغيرہ نے اس مسئلے پر بحث كى ہے_ بلكہ ابن وحشي، الاجہورى اور تلمسانى وغيرہ نے تو يہ فيصلہ ديا ہے كہ جو حضرت ابوطالب سے كينہ ركھے وہ كافر ہے اور جو ان كا ذكر برائي كے ساتھ كرے وہ بھى كافر ہے_ (1)

ايمان ابوطالب(ع) پر دلائل

حضرت ابوطالب كو مومن ماننے والوں نے كئي ايك امور سے استدلال كيا ہے مثلا:

1) رسول(ص) الله اور آئمہ معصومين(ع) سے منقول وہ احاديث جو ايمان ابوطالب(ع) پر دلالت كرتى ہيں اور واضح ہے كہ اس قسم كے امور ميں يہى ہستياں تمام دوسرے لوگوں كى نسبت زيادہ باخبر ہيں _

________________________________________

1_ رجوع كريں: الغدير ج 7ص 382اور 383اور دوسرى كتب_

172

2)جيساكہ گذر چكا ہے كہ ان كى جانب سے رسول(ص) الله كى حمايت و نصرت اور عظيم مشكلات و مصائب ميں ان كى استقامت، اپنى معاشرتى حيثيت و مقام كى قربانى يہاں تك كہ اپنے بيٹے كو بھى قربانى كيلئے پيش كرنا اور ايك ايسى جنگ كيلئے ان كى آمادگى جو ہر خشك و تر كو نابود كردے_ يہ سب باتيں دلالت كرتى ہيں كہ اگر وہ نعوذ بالله كافر ہوتے تو كيونكر ان سب باتوں كو برداشت كرتے؟ كيا وجہ ہے كہ حضرت محمد(ص) كى حمايت ميں حضرت ابوطالب(ع) كو جن مشكلات سے دوچار ہونا پڑا ان كے بارے ميں ہم حضرت ابوطالب سے ملامت و توبيخ كا ايك لفظ بھى نہيں سن پاتے_

رہا يہ احتمال كہ حضرت ابوطالب مزيد جاہ ومقام كى لالچ ميں حضور(ص) كى حمايت كرتے تھے تو يہ احتمال ہى غلط ہے كيونكہ وہ نہايت عمر رسيدہ ہوچكے تھے چنانچہ جب ان كى وفات ہوئي تو ان كى عمر اسى سال سے كہيں زيادہ تھي_ ادھر حضرت ابوطالب(ع) قوم كے نزديك اپنى اور حضرت محمد(ص) كى حيثيت سے بھى باخبر تھے انہيں يہ اميد نہيں تھى كہ اس مقام كے حصول تك وہ زندہ رہيں گے جيساكہ گردوپيش كے حالات و قرائن سے وہ اس امر كا بخوبى اندازہ لگا سكتے تھے_

3) سبط ابن جوزى نے حضرت ابوطالب كے ايمان پر يوں استدلال كيا ہے، (جيساكہ نقل ہوا ہے) اگر حضرت علي(ع) كے باپ كافر ہوتے تو معاويہ اور اس كے حامى نيز زبيرى خاندان اور ان كے طرفدار اور علي(ع) كے باقى دشمن اس بات پر ان كى شماتت كرتے، حالانكہ علي(ع) ان لوگوں كو ان كے آباء اور ماؤں كے كافر ہونے نيز نسب كى پستى كا طعنہ ديتے تھے_ (1)

4) خود حضرت ابوطالب كے بہت سارے صريح كلمات اور بيانات ان كے ايمان كو ثابت كرتے ہيں_ يہاں ہم بطور نمونہ ان كے چند اشعار نقل كرنے پر اكتفا كرتے ہيں جن كے بارے ميں ابن ابى الحديد معتزلى نے يوں كہا ہے كہ مجموعى طور پريہ سارے اشعار تو اتركے ساتھ ثابت ہيں_ (2)

________________________________________

1_ رجوع كريں: ابوطالب مومن قريش ص 272_273 مطبوعہ سنہ 1398 ھ از تذكرة الخواص_

2_ شرح نہج البلاغہ ج 14ص 78اور بحار الانوار ج 35ص 165_

173

يہاں ہم ان كى صلب سے پيدا ہونے والے بارہ اماموں كى تعداد كے عين مطابق ان كے بارہ اشعار تبركاً پيش كرنے كى سعادت حاصل كررہے ہيں:

1_

ألم تعلموا انا وجدنا محمداً

نبياً كموسى خط فى اول الكتب

كيا تم لوگ نہيں جانتے كہ ہم نے موسي(ع) كى طرح محمد(ص) كو بھى خدا كا نبى پايا ہے؟ يہ امر تمام كتابوں كى ابتداء ميں مذكورہے_

2_

نبى اتاہ الوحى من عند ربہ

ومن قال لا يقرع بہا سن نادم

وہ ايسے نبى ہيں جن كے پاس الله كى طرف سے وحى آئي ہے جو اس كا منكر ہو وہ ندامت كے دانت پيستارہ جائے گا_

3

يا شاہد الله عل فاشہد

إنى على دين النب احمد

من ضل فى الحق فانى مہتد

اے شاہد خدا ميرے بارے ميں گواہ رہ كہ ميں احمد مرسل كے دين پر ہوں،

اگر كوئي حق كے بارے ميں گمراہى كا شكار ہوا تو مجھے كيا ميں تو ہدايت يافتہ ہوں_

4_

انت الرسول رسول الله نعلمہ

عليك نزل من ذى العزة الكتب

ہم آپ(ص) كو الله كا رسول(ص) سمجھتے ہيں صاحب عزت ہستى كى طرف سے آپ(ص) كے اوپر كتابيں نازل ہوئي ہيں_

5_

انت النبى محمد

قرم اغر مسود

آپ الله كے رسول(ص) محمد(ص) ہيں جو نورانى سيد اور سردار ہيں_

6_

او تومنوا بكتاب منزل عجب

على نبى كموسى او كذى النون

پيغمبر(ص) پر نازل ہونے والى اس عجيب كتاب پر ايمان لے آؤ ،كہ يہ پيغمبر(ص) موسى (ع) اور يونس (ع) كى مانند ہيں_

7_

وظْلم نبى جاء يدعوا الى الہدي

وا مر ا تى من عند ذى العرش قيم

174

جو نبى ہدايت كى طرف بلانے آيا تھا اس پر ظلم ہوا ، وہ صاحب عرش كى طرف سے آنے والى گراں بہا چيز كى طرف لوگوں كو بلانے آيا تھا_

8_

لقد اكرم الله النبى محمدا

فاكرم خلق الله فى الناس احمد

الله نے اپنے نبى محمد(ص) كو تعظيم سے نوازا لہذا سب سے زيادہ با عزت ہستى احمد(ص) ہيں_

9_

وخير بنى ہاشم احمد

رسول(ص) الالہ على فترة

بنى ہاشم ميں سب سے افضل، احمد ہيں وہ زمانہ فترت (جاہليت)(1) ميں الله كے رسول(ص) ہيں_

10_

والله لااخذل النبى ولا

يخذلہ من بنى ذوحسب

الله كى قسم نہ ميں نبى كو بے يار ومدد گار چھوڑوں گا اور نہ ہى ميرے شريف ونجيب بيٹے آپ(ص) كو تنہا چھوڑ سكتے ہيں_

11_

أتعلم ملك الحبش ان محمدا

نبيا كموسى والمسيح ابن مريم

اتى بالہدى مثل الذى اتيا بہ

فكل بامر الله يہدى ويعصم

وانكم تتلونہ فى كتابكم

بصدق حديث لاحديث الترجم

فلا تجعلوا الله نداً فا سلموا

فان طريق الحق ليس بمظلم

(نجاشى كو دعوت اسلام ديتے ہوئے :)اے بادشاہ حبشہ كيا تجھے معلوم ہے كہ محمد رسول(ص) الله كى مثال حضرت موسي(ع) ور حضرت عيسي(ع) كى طرح ہے_

ان دونوں كى طرح وہ بھى ہدايت كا پيغام ليكر آئے _ وہ سب بحكم خدا ہدايت كرتے ہيں اور (ہميں شر سے) بچاتے ہيں_

تم لوگ اپنى كتاب ميں اس كے بارے ميں پڑھتے ہو شك وابہام كے ساتھ نہيں بلكہ صدق دل كے ساتھ_

الله كے ساتھ كسى كو شريك قرار نہ دو اور مسلمان ہوجاؤ كيونكہ حق كا راستہ تاريك نہيں_

________________________________________

1_ دو نبيوں كى بعثت كے درميانى زمانے كو فترت كہتے ہيں يہاں مراد عيسي(ع) كے بعد كا زمانہ ہے جسے زمانہ جاہليت بھى كہا جاتا ہے_

175

12_

فصبراً ابايعلى على دين احمد

وكن مظہراً للدين وفقت صابرا

وحط من اتى بالحق من عند ربہ

بصدق وعزم ولا تكن حمز كافرا

فقد سرنى ان قلت انك مومن

فكن لرسول الله فى الله ناصرا

وباد قريشا فى الذى قد اتيتہ

جہارا وقل ما كان احمد ساحرا

(اپنے بيٹے حمزہ سے مخاطب ہوكر :)اے ابويعلى (حمزہ) دين احمد پر ثابت قدم رہ اور اس كا اظہار كر خدا تجھے توفيق صبر عطا كرے گا_

اے حمزہ جو شخص اپنے رب كى جانب سے حق كے ساتھ آيا ہے اسكى حفاظت صدق دل اور عزم راسخ كے ساتھ كرو، كہيں كافر نہ ہوجانا_

اگر تم اپنے ايمان كا اقرار كرو تو يہ ميرے لئے باعث مسرت ہوگا پس رضائے الہى كيلئے رسول(ص) الله كى مدد كر _

قريش كے سامنے اپنے عقيدے كا كھل كر اظہار كرو اور كہو كہ احمد جادو گر نہيں_

حضرت ابوطالب كے وہ اشعار جو ان كے ايمان پر دلالت كرتے ہيں زيادہ ہيں ليكن ہم اسى پر اكتفا كرتے ہيں تاكہ ان كے علاوہ ديگر باتوں كے تذكرے كا بھى موقع فراہم ہو جو اس موضوع كے حوالے سے كہى گئي ہيں يا كہى جاسكتى ہيں_

5)ابن ابى الحديد معتزلى كہتے ہيں كہ ہمارے ساتھى على ابن يحيى بطريق رحمة الله عليہ كہا كرتے تھے اگر نبوت كى طاقت اور پوشيدہ حقيقت كارفرما نہ ہوتى تو حضرت ابوطالب جيسے قريش كے صاحب عزت بزرگ اور سردار شخصيت اپنے اس بھتيجے كى تعريف وتمجيد نہ كرتے جو نوجوان تھا، ان كى گودميں پلا تھا ،ايك يتيم تھا جس كى انہوں نے پرورش كى تھى اوران كے بيٹے كى حيثيت ركھتا تھا اورا ن كى تعريف ميں يوں رطب اللسان نہ ہوتے_

وتلقوا ربيع الابطحين محمدا

على ربوة فى را س عنقاء عيطل

وتا وى اليہ ھاشم ان ہاشما

عرانين كعب آخر بعد ا ول

176

اور تم لوگ ديكھو گے كہ سرزمين حجاز كى بہار (حضرت) محمد مصطفى (ص) بلند و بالا اونچى گردن والے اونٹ پر نہايت نماياں طور سے بيٹھے ہوں گے اور ان كے ارد گردہر طرف ہاشمى جوان ہوں گے كيونكہ اول سے آخر تك بنى ہاشم (ع) كے تمام افراد نہايت عالى وقار سيد و سردار ہيں_

اور يہ اشعار نہ كہتے:

وابيض يستسقى الغمام بوجھہ

ثمال اليتامى عصمة للارامل

يطيف بہ الھلاك من آل ھاشم

فھم عندہ فى نعمة و فواضل

درخشندہ چہرے والا جس كے رخ زيبا كا واسطہ دے كر بارش كى دعا كى جاتى ہے جو يتيموں كى پناہگاہ اور بيواؤں كا والى و وارث ہے_ بنى ہاشم كے ستم رسيدہ افراد اسى كى پناہ چاہتے ہيں كيونكہ وہ ان كے لئے (درحقيقت اللہ كى ) ايك بڑى نعمت اور بہت بڑا احسان ہے_

كسى ما تحت اور تابع شخص كى تعريف ميں اس قسم كے اشعار نہيں كہے جاسكتے _اس طرح كى مدح سرائي تو بادشاہوں اور عظيم شخصيات كى ہوتى ہے _جب آپ اس حقيقت كا تصور كريں كہ يہ اشعار حضرت محمد(ص) كى شان ميں ايك صاحب عزت اور عظيم شخصيت يعنى ابوطالب(ع) نے كہے ہيں جبكہ حضرت محمد(ص) جوان تھے اور قريش كے شرسے بچنے كيلئے حضرت ابوطالب(ع) كى پناہ ميں تھے، حضرت ابوطالب نے ہى بچپن سے آپ كى پرورش كى تھى لڑكپن كا دور آيا تو اپنے كاندھوں پراٹھاتے تھے اور جب جوان ہوئے تو اپنے ہمراہ ركھا آپ(ص) حضرت ابوطالب كے مال سے كھاتے پيتے تھے اوران كے گھر ميں رہتے تھے ، تب آپ كو نبوت كى حيثيت اورعظيم مقام ومرتبے كا ضروراندازہ ہوگا_ (1)

اس طرح كا مذكورہ بالا قصيدہ لاميہ (2) جس ميں انہوںنے يہ كہا تھا وابيض يستسقى الغمام بوجہہ ... (جو بہت طويل ہے) بنى ہاشم اپنے بچوں كو يہ قصيدہ ياد كراتے تھے (3) اس ميں بہت سے ايسے

________________________________________

1_ شرح نہج البلاغہ معتزلى ج 14ص 63و ماذا فى التاريخ ج 3 ص 196_197 (از اول الذكر) _

2_ يعنى وہ قصيدہ جس كے آخر ميں لام كا تكرار ہوتا ہے_ (مترجم) _

3_ مقاتل الطالبيين ص 396 _

177

نكات نہاں ہيں جن سے ان كے ايمان كى صداقت كا اندازہ ہوتا ہے_ابن ہشام ،ابن كثير اور ديگر حضرات نے اس كا تذكرہ كيا ہے_

6)ہم نے مشاہدہ كيا كہ جوحضرت ابوطالب(ع) بادشاہ حبشہ كو دعوت اسلام دے رہے ہيں_ وہى اپنے بيٹے حضرت جعفر كو بلاكر حكم ديتے ہيں كہ اپنے چچازاد بھائي كے ساتھ نماز كى صف ميں شامل ہوجائے_ (1)انہوں نے اپنى زوجہ فاطمہ بنت اسد كو اسلام كى دعوت دى (2) اور حضرت حمزہ كو دين اسلام پر ثابت قدم رہنے كى تلقين كى اور ان كے مسلمان ہونے پر خوشى كا اظہار كيا_ يہى حال اپنے نور چشم اميرالمؤمنين علي(ع) كے بارے ميں بھى تھا اور مختلف موقعوں پر ان كے كلام اور ان كے طرزعمل كى تحقيق سے مزيد نكات ہاتھ آتے ہيں_

7) حضرت ابوطاب (ع) نے اپنى وصيت ميں يہ تصريح كردى تھى كہ '' ميں رسول (ص) اللہ كے معاملہ ميں دشمنيوں كے ڈ رسے تقيہ اختيار كئے ہوئے تھا اور محمد (ص) كى تعليمات كو ميرا دل تو قبول كرتا تھا ليكن زبان سے انكار جارى ہوتا '' (3) _ اور انہوں نے قريش كو رسول كريم (ص) كى دعوت اسلام پر لبيك كہنے اور فرمانبردارى كرنے كى بھى وصيت كى تھى كہ اسى ميں ہى ان كى كاميابى اور سعادت ہے(4)

8)نبى كريم(ص) بار بار خدا سے حضرت ابوطالب(ع) كيلئے طلب رحمت ومغفرت فرماتے تھے اوران كى وفات سے حضور(ص) بے تاب ہوئے_ (5)

واضح ہے كہ كسى غيرمسلم كيلئے طلب رحمت نہيں ہوسكتي_ اسى لئے آپ(ص) نے سفانہ بنت حاتم طائي سے فرمايا: ''اگر تمہارا باپ مسلمان ہوتا تو ہم اس كيلئے خدا سے طلب مغفرت كرتے''_ (6)

________________________________________

1_ رجوع كريں: الاوائل از ابى ہلال عسكرى ج 1 ص 154، روضة الواعظين ص 140اور شرح نہج البلاغہ معتزلى ج 13ص 269 ، السيرة الحلبيہ ج1 ص 269 ، اسنى المطالب ص 17 ، الاصابہ ج4 ص 116 ، اسد الغابہ ج1 ص 287 اور الغدير ج7 ص 357_

2_ شرح نہج البلاغہ معتزلى ج13ص 272_

3_ قابل تعجب بات تو يہ ہے كہ كچھ لوگ حضرت عمر كے كرتو توں پر پردہ ڈالنے كے لئے كہتے ہيں كہ ان كا دل برا نہيں تھا صرف زبان كے برے تھے اور اعمال كا دارو مدار نيتوں پر ہے جبكہ حضرت ابوطالب كے معاملے ميں ان كے تقيہ كے پيش نظر كئے ہوئے زبانى انكار كو بہانہ بناتے ہوئے انہيں كافر سمجھتے ہيں (از مترجم) _

4_ الروض الانف ج 2 ص 171 ، ثمرات الاوراق ص 94 ، تاريخ الخميس ج 1 ص 300تا 301، سيرہ حلبيہ ج 1 ص 352، بحار ج 35ص 107 اور الغدير ج 7 ص 366 مختلف منابع سے_

5_ تذكرة الخواص ص 8_

6_ السيرة الحلبية ج 3ص 205 _

178

يہ لوگ زيد بن عمرو ابن نفيل (عمر بن خطاب كے چچازاد بھائي) اس كے بيٹے سعيد ابن زيد، ورقہ بن نوفل، قس بن ساعدہ نيز ابوسفيان (جو ہميشہ منافقين كيلئے جائے پناہ تھا، اور جنگ احد كے حالات ميں ہم اس كے كچھ صريح بيانات اور اقدامات كا تذكرہ كريں گے) وغيرہ كے بارے ميں كيونكرمسلمان ہونے كا فتوى ديتے ہيں؟ يہاں تك كہ يہ لوگ رسول(ص) خدا سے روايت كرتے ہيں كہ آپ(ص) نے اميہ ابن صلت كے بارے ميں فرمايا: ''قريب تھا كہ وہ اپنے اشعار كے ذريعے مسلمان ہوجاتا''_ (1)

شافعى ،صفوان بن اميہ كے بارے ميں كہتے ہيںكہ اس كے مسلمان ہونے ميں گويا شك كى گنجائشے نہيں ہے كيونكہ جب اس نے جنگ حنين كے دن كسى كوكہتے سنا كہ قبيلہ ھوازن كو فتح حاصل ہوئي اور محمد(ص) قتل ہوگئے تو اس نے كہا تھا :''تيرى زبان جل جائے والله قريش كا خدا ميرے نزديك ھوازن كے خدا سے زيادہ محبوب ہے''_

ملاحظہ كريں يہ لوگ ان سارے افراد كو كيونكر مسلمان مانتے ہيں جبكہ انہوں نے اسلام كو سمجھا ہى نہيں اور اگر سمجھابھى تو قبول نہيں كيا يا يہ كہ ظاہراً مسلمان ہوئے ليكن دل كے اندر كفر كو چھپائے ركھا؟ اس كے بر عكس وہ اس ابوطالب كو كافر قرار ديتے ہيں جو كئي بار اپنے اقوال واعمال كے ذريعے خدا كى وحدانيت اور اس كے رسول(ص) كى نبوت و رسالت كا صريحاً اعلان كرتے رہے امويوں اور ان كے چيلوں كا كہناہے كہ اس شخص كے متعلق دليليں جتنى بھى زيادہ ہوجائيں پھر بھى اس شخص كو ہم مؤمن نہيں مانيں گے چاہے خود رسول اكرم(ص) ہى كيوں نہ كہيں _ پس زمانہ جاہليت كے طاغوتوں اور سركشوں كے نقش قدم پر چلنے والے اموى اور ان كے چيلے كتنے برے لوگ ہيں_

واضح ہے كہ كسى شخص كے مسلمان ہونے يا نہ ہونے كا علم چار چيزوں سے ہوتا ہے_

(الف) اس كى عملى پاليسيوں سے اور يہ بھى واضح ہے كہ حضرت ابوطالب كى عملى پاليسياں دين اسلام كے بارے ميں ان كے اخلاص اور جذبہ فداكارى كى اس قدر واضح دليل ہے كہ اس سے زيادہ وضاحت كى ضرورت نہيں_

(ب) شہادتين كے زبانى اقرار سے، اس حوالے سے حضرت ابوطالب(ع) كے ان متعدد اشعار كى طرف اشارہ كافى ہے جو انہوں نے متعدد موقعوں پر كہے_

________________________________________

1_ صحيح مسلم ج 7ص 48_49 نيز الاغانى مطبوعہ ساسى ج 3ص 190 اور التراتيب الاداريہ ج1 ص 213 _

179

(ج) اس شخص كے بارے ميں نمونہ اسلام اور كارواں سالار حق يعنى نبى اعظم(ص) كے موقف سے، چنانچہ حضرت ابوطالب كے بارے ميں آپ(ص) كا محبت آميز اور پسنديدہ موقف بھى مكمل طور پر ثابت ہے_

(د) اس كے قريبى ذرائع سے ، مثال كے طور پر اس كے گھر والوں اور اس كے ساتھ رہنے والوں كے توسط سے، اس سلسلے ميں ہم پہلے عرض كرچكے كہ وہ (اہلبيت) حضرت ابوطالب كے مومن ہونے پر متفق الخيال ہيں_

بلكہ وہ لوگ جو حضرت ابوطالب عليہ السلام كو كافر قرار ديتے ہيں جب وہ ان كى عملى پاليسيوں كا انكار نہ كرسكے، اور نہ ان كے صريح بيانات كو رد كرسكے تو انہوں نے ايك مبہم جملے كے ذريعے عوام كو دھوكہ دينے كى كوشش كى اور كہا كہ وہ دل سے مطيع اور فرمانبردار نہ تھے_ (1)

يہ سب اوٹ پٹانگ اور خيالى باتيں ہيں جو حق وحقيقت پر بہتان باندھنے كہ سوا كچھ نہيں تاكہ يوں ان روايات كو صحيح قرار دے سكيں جو انہوں نے مغيرة بن شعبہ اور اس جيسے دوسرے دشمنان آل ابوطالب سے نقل كى ہيں_ آئندہ صفحات ميں ان كى بے بنياد دليلوں كا ذكر كرتے ہوئے اس بات كى طرف اشارہ كريں گے انشاء الله تعالي_

حضرت ابوطالب عليہ السلام كے احسانات كا معمولى سا حق ادا كرنے كى غرض سے يہاں ہم ان كے ايمان كى بعض دليليں جو زيادہ تر غير شيعہ مآخذ سے لى گئي ہيں بيان كرتے ہيں اور ديگر متعدد دلائل كا تذكرہ نہيں كرتے كيونكہ چند مثالوں سے زيادہ بيان كرنے كى گنجائشے نہيں_

پہلى دليل: عباس نے كہا:'' اے رسول(ص) خدا آپ(ص) ابوطالب كيلئے كس چيز كى آرزو كرتے ہيں؟'' فرمايا:'' ميں ان كيلئے خدا سے تمام اچھى چيزوں كى آرزو كرتا ہوں''_ (2)

________________________________________

1_ سيرت دحلان ج 1ص 44_47 اور الاصابة ج 4ص 116_199 كى طرف رجوع كريں _

2_ الاذكياء ص 128، شرح نہج البلاغہ معتزلى ج 14ص 68، طبقات ابن سعد ج 1حصہ اول ص 79اور بحار الانوار ج 35ص 151اور 159_

180

دوسرى دليل: حضرت ابوبكر اپنے باپ ابوقحافہ (جو بوڑھا اور نابينا تھا) كو لے كر فتح مكہ كے دن رسول(ص) الله كى خدمت ميں آئے تو رسول(ص) الله نے فرمايا:'' اس بوڑھے كو اپنے گھر چھوڑ آتے تاكہ ہم اس كے پاس جاتے'' _حضرت ابوبكر نے كہا:'' ميں نے چاہا كہ الله اسے اجر دے مجھے اپنے باپ كے مسلمان ہونے كى بہ نسبت ابوطالب كے مسلمان ہونے پر زيادہ خوشى ہوئي تھى ،خدا كرے كہ اس سے آپ(ص) كى آنكھوں كو ٹھنڈك ملے''_ (1)

اگرچہ علامہ امينى نے الغدير ميں اس بات سے اختلاف كيا ہے كہ رسول(ص) الله نے حضرت ابوبكر سے مذكورہ جملے كہے ہوں_ انہوں نے اس موضوع پر نہايت عمدہ بحث كى ہے اور ہم بھى اس مسئلے ميں ان كے ہم خيال ہيں_

تيسرى دليل: ابن ابى الحديد معتزلى كہتے ہيں كہ متعدد سندوں كے ساتھ( جن ميں سے بعض عباس بن عبدالمطلب كے ذريعے اور بعض حضرت ابوبكر ابن ابوقحافہ سے منقول ہيں) مروى ہے كہ حضرت ابوطالب نے اپنى موت سے پہلے لا الہ الا الله محمد رسول(ص) الله كا اقرار كيا_ (2)

چوتھى دليل: نبى كريم(ص) نے ابوطالب عليہ السلام كيلئے طلب رحمت واستغفار اور دعا كى يہاں تك كہ جب آپ(ص) نے مدينہ والوں كيلئے بارش كى دعا كى اور بارش ہوئي تو آپ(ص) نے حضرت ابوطالب كو ياد كيا اور منبر پر بيٹھ كر ان كيلئے مغفرت طلب كى (3)آپ(ص) نے ان كے جنازے ميں شركت كى حالانكہ ان لوگوں كى روايت كے مطابق مشركين كے جنازے ميں شركت حرام ہے_ نيز يہى لوگ روايت كرتے ہيں كہ رسول(ص) الله

________________________________________

1_ مجمع الزوائد ج 6ص 174الطبرانى اور بزار سے نقل كيا ہے حياة الصحابہ ج 2ص 344المجمع سے، الاصابة ج 4ص 116اور شرح نہج البلاغة معتزلى ج 14ص 69_

2_ شرح نہج البلاغة معتزلى ج 14 ص 71، الغدير ج 7 ص 329 البداية و النہاية ج 3 ص 123 سے نقل كيا ہے، سيرت ابن ہشام ج 2 ص 87، الاصابة ج 4 ص 116، عيون الاثر ج 1 ص 131، المواہب اللدنية ج 1 ص 71، السيرة الحلبية ج 1 ص 372 و السيرة النبوية (از دحلان حاشيہ كے ساتھ) ج 1 ص 89، اسنى المطالب ص 20، دلائل النبوة (بيہقي)، تاريخ ابوالفداء ج 1ص 120 اور كشف الغمة ( شعراني) ج 2 ص 144_

3_ مراجعہ ہو : عيون الانباء ص 705_

181

نے حضرت على (ع) كو حكم ديا كہ وہ ابوطالب كو غسل و كفن ديں اور دفن كريں_ (1) ہاں ان كو نماز جنازہ پڑھنے كا حكم نہيں ديا كيونكہ نماز جنازہ اس وقت تك فرض نہيں ہوئي تھي_ اسلئے كہتے ہيں كہ جب حضرت خديجہ(س) كى وفات ہوئي تو حضرت نے ان پر نماز جنازہ نہيں پڑھى حالانكہ آپ عالمين كى عورتوں كى سردار ہيں_

پانچويں دليل: جب حضرت ابوطالب(ع) كى وفات ہوئي تو ان كے فرزند حضرت على (ع) نے يہ مرثيہ كہا:

اباطالب عصمة المستجير

وغيث المحول ونور الظلم

لقد ھد فقدك اہل الحفاظ

فصلى عليك ولى النعم

ولقاك ربك رضوانہ

فقدكنت للطہر من خيرعم (2)

اے ابوطالب اے پناہ ڈھونڈنے والوں كى جائے پناہ اے خشك زمينوں كيلئے باران رحمت اور تاريكيوں كو روشن كرنے والے نور تيرى جدائي نے (اسلام كي) حمايت كرنے والوں كو نڈھال كر كے ركھ ديا_ نعمتوں كے مالك (خدا) كى رحمتيں آپ(ع) پر نازل ہوں خدانے آپ كو اپنى خوشنودى سے ہمكنار كرديا_ آپ(ع) نبى پاك(ص) كے بہترين چچا تھے_

چھٹى دليل: اميرالمومنين علي(ع) نے معاويہ كوايك طويل خط لكھا جس ميں مذكور ہے كہ نہ اميہ، ہاشم كى مانند ہے، نہ حرب عبدالمطلب كے مساوى اور نہ ابوسفيان ابوطالب كے برابر، نہ آزاد شدہ غلام ہجرت كرنے

________________________________________

1_ رجوع كريں (ان تمام باتوں كے بارے ميں) تذكرة الخواص ص 8، شرح نہح البلاغة معتزلى ج 14 ص 81، سيرت حلبى ج 1 ص 147، المصنف ج 6 ص 38 السيرة النبوية ( دحلان) ج1 ص 87، تاريخ يعقوبى ج 2 ص 35و طبقات ابن سعد ج 1 ص 78، تاريخ بغداد ( خطيب) ج3 ص 126 اور ج 13 ص 196، تاريخ ابن كثير ج 3 ص 125 و الطرائف (ابن طاؤس) ص 305 از حنبلى در نہاية الطلب نيز البحار ج 35 ص 151 و التعظيم و المنة ص 7 و لسان الميزان ج 1 ص 41، الاصابة ج 4 ص 116، الغدير ج 7 ص 372 و 374 و 375از مذكورہ كتب اور شرح شواہد مغنى (سيوطي) ص 136اعلام النبوة (ماوردي) ص 77 و بدائع الصنائع ج1 ص 283 و عمدة القارى ج 3 ص 435 و اسنى الطالب ص 15 و 21 و 35 و طلبة الطالب ص 43، دلائل النبوة ( بيہقي) ا ور برزنجي، ابن خزيمہ، ابوداؤد اور ابن عساكر_

2_ تذكرة الخواص ص 9_

182

والے كا ہم پلہ ہے اور نہ ہى خودساختہ نسب والا صحيح النسب انسان كے برابر_ (1)

اگر حضرت ابوطالب كافر ہوتے اور ابوسفيان مسلمان تو حضرت علي(ع) كسى كافر كو ايك مسلمان پر كيسے ترجيح دے سكتے تھے؟ ليكن حقيقت اس كے بالكل برعكس ہے كيونكہ ابوسفيان وہ ہے جس نے كہا تھا كہ اسے معلوم نہيں جنت كيا ہے اور جہنم كيا ہے (اس كا ذكر جنگ احد كے حالات كے آخر ميں ہوگا)_ يہاں يہ بھى ظاہر ہوتا ہے كہ اميرالمؤمنين(ع) معاويہ كے مجہول النسب ہونے كى طرف اشارہ فرما رہے ہيں_ بہرحال اس بحث كا مقام الگ ہے_

ساتويں دليل: پيغمبر خدا سے منقول ہے كہ آپ نے(ص) فرمايا: ''اذا كان يوم القيامة شفعت لابى وامى وعمى ابيطالب واخ لى كان فى الجاہلية'' (2) يعنى قيامت كے دن ميں اپنے والدين، اپنے چچا ابوطالب اور اپنے اس بھائي كى شفاعت كروں گا جو ايام جاہليت ميں زندہ تھا_

آٹھويں دليل: نيز آپ(ص) نے فرمايا كہ خدا نے آپ(ص) كو جبرئيل كى زبانى بتايا ''حرمت النار على صلب انزلك و بطن حملك وحجر كفلك اما الصلب فعبد الله و اما البطن فآمنہ و اما الحجر فعمہ يعنى اباطالب و فاطمہ بنت اسد'' يعنى خدانے آتش كو حرام كيا ہے اس صلب پر جس نے تجھے اتارا اور اس بطن پر جس ميں تو رہا اور اس دامن پر جس ميں تونے پرورش پائي، (3) يہاں صلب سے مراد حضرت عبدالله ہيں بطن سے مراد حضرت آمنہ ہيں اور دامن يا گود سے مراد آپ(ص) كے چچا حضرت ابوطالب اور فاطمہ بنت اسد ہيں_ يہى مضمون مختصر فرق كے ساتھ ديگر روايات ميں بھى موجود ہے_

________________________________________

1_ وقعة صفين نصر بن مزاحم ص 471 ، الفتوح ابن اعثم ج 3 ص 260 ، نہج البلاغہ شرح محمد عبدہ ج 3 ص 18، خط 17 ، شرح نہج البلاغہ معتزلى ج 15 ص 117 ، الامامة و السياسة ج 1 ص 118، الغدير ج 3 ص 254 ، مذكورہ كتب سے و از ربيع الابرار زمخشرى باب 66 و مروج الذہب ج 2 ص 62 اور ملاحظہ ہو الفتوح ابن اعثم ج 3 ص 260 و مناقب خوارزمى حنفى ص 180_

2_ ذخائر العقبى ص 7 مكمل طور پر الفوائد رازى سے ، الدرج المنيفہ سيوطى ص 8 ، مسالك الحنفاء ص 14 از ابن النعيم و غيرہ اور مذكور ہے كہ حاكم نے اسے صحيح قرار ديا ہے ، تفسير قمى ج 1 ص 380 ، تفسير برہان ج 2 ص 358 ، تاريخ يعقوبى ج 2 ص 35 اور تاريخ الخميس ج 1 ص 232_

3_ اصول كافى ج 1 ص 371 ، بحار ج 35 ص 109 ، التعظيم و المنة سيوطى ص 27 اور ملاحظہ ہو ، روضة الواعظين ص 139 ، شرح نہج البلاغہ معتزلى ج 14 ص 67، الغدير ج 7 ص 378 مذكورہ كتب سے و از كتاب الحجة (ابن معد) ص 8و تفسير ابوالفتوح ج 4 ص 210

183

نويں دليل: حضرت امام سجاد عليہ السلام سے ايمان ابوطالب(ع) كے بارے ميں سوال ہوا تو انہوں نے فرمايا:'' تعجب كى بات ہے خدا نے اپنے رسول(ص) پر نازل كيا كہ كوئي مسلمان عورت كسى كافر كے حبالہ عقد ميں باقى نہ رہے اور فاطمہ بنت اسد اسلام كى اولين عورتوں ميں سے ہيں وہ حضرت ابوطالب كى موت تك ان كے عقد ميں رہيں؟''_ (1)

البتہ كافر عورتوں كے ساتھ ازدواجى رابطہ باقى ركھنے سے منع كرنے والى آيت كے مدينہ ميں نزول سے مذكورہ روايت كو كوئي ٹھيس نہيں پہنچتى اور نہ وہ اس روايت كے بطلان كا باعث ہے كيونكہ ممكن ہے كہ قرآنى آيت كے نزول سے قبل ہى آپ(ص) كى زبانى مذكورہ امر سے ممانعت ہوئي ہو_ رہا بعض مسلمانوں كا اس حكم پر (اس زمانے ميں) عمل نہ كرنا تو ممكن ہے كہ بعض مخصوص حالات كے تحت وہ اس امر پر مجبور ہوئے ہوں_

دسويں دليل: بعض لوگوں نے حضرت ابوطالب(ع) كے مسلمان ہونے يا نہ ہونے كے بارے ميں خط كے ذريعے امام على ابن موسى الرضا (ع) سے سوال كيا تو انہوں نے جواب ميں لكھا (و من يشاقق الرسول من بعد ما تبين لہ الہدى ويتبع غير سبل المومنين ...) (سورہ نساء آيت 115) يعنى جو شخص راہ ہدايت كے واضح ہونے كے بعد بھى رسول(ص) كى مخالفت كرے اور مومنين كے راستے سے ہٹ كر كسى اور راہ پر چلے ..._ اس كے بعد فرمايا: ''اگر تم حضرت ابوطالب كے ايمان كا اعتراف نہ كرو تو تمہارا ٹھكانہ جہنم ہوگا''_(2)

گيارہويںدليل: جنگ جمل كے موقع پر جب جناب محمد بن حنيفہ نے اہل بصرہ كے ايك آدمى پر قابو پايا تو اسى كا كہناہے كہ جب ميں نے اس پر قابو پاليا تو اس نے كہا : '' ميں ابوطالب كے دين پر ہوں '' پس جب ميں نے اس كى مراد سمجھ لى تو اسے چھوڑ ديا (3)

بارہويںدليل: غزوہ بدر كے ذكر ميں عنقريب آئے گا كہ حضرت رسول اكرم(ص) نے شہيد بدر عبيدہ بن حارث سے اپنے چچا ابوطالب كے متعلق چھوٹے سے طعنے كو بھى برداشت نہيں كيا _ حتى كہ اس كا يہ كہنا بھى برداشت نہيں ہوا كہ ابوطالب نے جو يہ كہا ہے:

________________________________________

1،2_ شرح نہج البلاغة معتزلى ج 14 ص 68، الغدير ج 7 ص 381 اور 394 نے كراجكى ص 85 سے اور كتاب الحجة (ابن معد) ص 24،16 سے و الدرجات الرفيعہ و البحار اور ضياء العالمين سے نقل كيا ہے اور امام سجاد (ع) كى حديث كے تواتر كا دعوى بھى كيا گيا ہے_

3_ طبقات ابن سعد ج5 ص 68 مطبوعہ ليدن_

184

كذبتم و بيت اللہ بيدى محمد

و لما نطاعن دونہ ونناضل

و نسلمہ حتى نصرع دونہ

و نذہل عن ابنائنا و الحلائل

خدا كى قسم كبھى نہيں ہوسكتا كہ ہم رسول خدا(ص) كا ساتھ چھوڑ ديں ( بلكہ ہم تو ان كى حمايت ميں ) تم سے نيزوں اور تلواروں كے ذريعہ سے مقابلہ كريں گے _

تو ہم لوگ ا س سے كہيں بہتر ہيں _ پس جب نبى كريم (ص) اس جيسے طعنے پر بھى غضبناك ہوسكتے ہيں تو كيا آپ كے خيال ميں اپنے چچا كے متعلق مشرك كا حكم لگاكر خوش ہوں گے ؟ اور انہيں دوزخ كے ايك كنارے پر ٹھہرائيں گے جس كى آگ سے ان كا بھيجہ ابل رہا ہوگا؟ يہ بے انصافى كہاں تك رہے گي؟

يہاں ہم انہى مثالوں پر اكتفا كرتے ہيں جو حضرت ابوطالب كے ايمان كو ثابت كرنے كيلئے كافى ہيں مزيد تحقيق كے متلاشى متعلقہ كتب كى طرف رجوع كريں_

بے بنياد دلائل

حضرت ابوطالب عليہ السلام كو نعوذ بالله كافر سمجھنے والوں نے بے بنياد دلائل اور روايات كا سہارا ليا ہے_ يہاں ہم ان ميں سے چند ايك كى طرف جو زيادہ اہميت كى حامل ہيں اشارہ كرتے ہيں_

1_ حديث ضحضاح

ابوسعيد خدرى سے منقول ہے كہ نبى كريم(ص) كے پاس آپ(ص) كے چچا ابوطالب(ع) كا ذكر ہوا تو آپ(ص) نے فرمايا: شايد ان كو ميرى شفاعت روز قيامت فائدہ دے اور آگ كے ايك ضحضاح ( كنارے) ميں ركھا جائے جہاں ان كے ٹخنوں تك آگ پہنچے جس سے ان كا دماغ كھولنے لگے_ ايك اور روايت كے مطابق حضرت عباس نے نبى اكرم(ص) سے عرض كيا آپ(ص) اپنے چچا سے بے نياز نہ تھے والله وہ آپ(ص) كى حفاظت كرتے اور آپ(ص) كى خاطر غضبناك ہوتے تھے فرمايا:'' وہ آگ كے ايك حوض ميں ہيں اگر ميں نہ ہوتا تو وہ جہنم كے

185

سب سے نچلے حصے ميں ہوتے''_ (1)

اس حوالے سے ہم درج ذيل عرائض پيش كرتے ہيں_

(الف) علامہ امينى نے الغدير (ج 8 ص 23_24) ميں اور خنيزى نے ''ابوطالب مومن قريش'' نامى كتاب ميں اس روايت كى اسناد سے بحث كى ہے_ ان دونوں حضرات نے اس روايت كے كمزور اور بے بنياد ہونے، نيز اس كے الفاظ وعبارات كے درميان تضاد كو واضح طور پر ثابت كيا ہے_

(ب) جب پيغمبر(ص) ابوطالب(ع) كو فائدہ پہنچاتے ہوئے جہنم كے آخرى حصے سے انہيں نكال كر گوشہ آتش تك لے آسكتے ہيں تو پھر تھوڑى سى مہربانى اور كرتے ہوئے ان كو اس كنارے سے ہى باہر كيوں نہيں نكال لاتے؟ اس كے علاوہ چونكہ اس وقت رسول(ص) الله زندہ تھے اور قيامت برپانہيں ہوئي تھى اس لئے يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ كيا دنيا ميں شفاعت ہوسكتى ہے؟

(ج) يہى لوگ روايت كرتے ہيں كہ رسول(ص) خدا نے ابوطالب(ع) كو موت كے وقت كلمہ لا الہ الا الله محمد رسول الله ، جارى كرنے كيلئے كہا تاكہ اس طرح بروز قيامت انہيں آپ كى شفاعت نصيب ہو ليكن ابوطالب نے ايسا نہيں كيا _يہ روايت اس بات پر دلالت كرتى ہے كہ كلمہ كے بغير كسى قسم كى شفاعت نہيں ہوسكتي، (2) پھر كيونكر ابوطالب(ع) كى شفاعت ممكن ہوئي (اگرچہ ايك حد تك ہى سہي) حالانكہ ان لوگوں كے بقول انہوں نے كلمہ شہادت زبان پر جارى نہيں كيا جس كى وجہ سے شفاعت ممكن ہوسكتي_

نيز كيايہى لوگ روايت نہيں كرتے كہ مشرك كى شفاعت نہيں ہوسكتي؟ پھر كيونكر اس مشرك كى شفاعت

________________________________________

1_ صحيح بخارى مطبوعہ سن 1309 ج 2 ص 209 اور ج 4 ص 54، المصنف ج 6 ص 41، النسب الاشرف (بہ تحقيق محمودي) ج 2 ص 29_30، صحيح مسلم كتاب الايمان، طبقات ابن سعد ج 1حصہ اول ص 79مسند احمد ج 1 ص 206 و 207 البداية و النہاية ج 3 ص 125، الغدير ج 8ص 23 كہ بعض مذكورہ كتب اور عيون الاثر ج 1ص 132 سے نقل كيا ہے اور شرح نہج البلاغة معتزلى ج 14 ص 66_

2_ الترغيب و الترھيب ج 4 ص 433 از احمد (دو صحيح سندوں كے ساتھ) از بزاز اور طبرى (مختلف اسانيد كے ساتھ جن ميں سے ايك اچھى ہے) اور ابن حبان (اپنى صحيح ميں) نيز رجوع ہو الغدير ج 2 ص 25 _

186

ہوئي اور وہ اس كے سبب جہنم كے آخرى طبقے سے نكال كر آتش كے كنارے ميں منتقل كئے گئے_(1)

(د) ابن ابى الحديد معتزلى نے مذہب اماميہ اور مذہب زيديہ سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ ان كا كہنا ہے حديث ضحضاح ( كنارہ آتش والى حديث) كو تمام لوگ صرف ايك ہى فرد سے نقل كرتے ہيں اور وہ ہے مغيرہ بن شعبہ حالانكہ بنى ہاشم خصوصاً حضرت على (ع) سے اس كا بغض و عناد ہر خاص و عام كو معلوم ہے_ نيز اس كى داستان اور اس كا فاسق ہونا كسى سے مخفى نہيں_ (2)

ليكن ہم ديكھتے ہيں كہ وہ (غيرشيعہ حضرات) اس روايت كو مغيرہ كے علاوہ ديگر افراد سے بھى نقل كرتے ہيں جيساكہ بخارى وغيرہ نے نقل كيا ہے_ پس ممكن ہے كہ مغيرہ كے علاوہ ديگر افراد سے نقل كرنے كا عمل بعد كى پيداوار ہو كيونكہ يہ معقول نہيں كہ شيعہ حضرات ان پر بے جا طور پر مذكورہ اعتراض كريں جبكہ معتزلى نے شيعوں كے اعتراض كے آگے خاموشى اختيار كرلى ہے گويا اس نے بھى يہى احتمال ديا تھا جو ہم نے ديا ہے ، وگرنہ وہ اس اعتراض كا جواب دے سكتے تو ضرور ديتے_

(ہ) امام باقرعليہ السلام سے لوگوں كے اس قول (كہ ابوطالب(ع) آگ كے گوشے ميں ہيں) كے بارے ميں سوال ہوا تو انہوں نے فرمايا:'' اگر ابوطالب(ع) كا ايمان ترازو كے ايك پلڑے ميں ڈالاجائے اور لوگوں كاايمان دوسرے پلڑے ميں تو بے شك ابوطالب(ع) كے ايمان كا پلڑا بھارى ہوگا''_ پھر فرمايا:'' كيا تمہيں نہيں معلوم كہ اميرالمومنين على (ع) اپنى زندگى ميں حضرت عبدالله ، ان كے بيٹے اور حضرت ابوطالب كى نيابت ميں حج بجالانے كا حكم ديا كرتے تھے اور انہوں نے ان كى طرف سے حج بجالانے كى وصيت كي''_ (3)

________________________________________

1_ مستدرك الحاكم ج 2 ص 336اور تلخيص مستدرك (ذہبي) (ان دونوں نے اسے صحيح قرار ديا ہے) المواہب اللدنية ج 1 ص 71، الغدير ج 8 ص 24 از مستدرك مواھب لدنيہ اور از كنز العمال ج 7 ص 128 سے نقل كيا ہے شرح المواہب (زرقاني) ج 1 ص 291 كشف الغمة (شعراني) ج 2 ص 124 اور تاريخ ابوالفداء ج 1 ص 120_

2_شرح نہج البلاغة معتزلى ج 14ص 70و بحار الانوار ج 35ص 112 _

3_ شرح نہج البلاغة معتزلى ج 14ص 68، الدرجات الرفيعة ص 49، بحار ج 35ص 112، الغدير ج 8ص 380_390 (ان دونوں اور السيد كى كتاب الحجة كے ص 18سے) از طريق شيخ الطائفة ازصدوق اور ضياء العالمين (مصنف فتوني) _

187

(و) كوفہ كے مضافات (رحبہ) ميں جب على (ع) سے پوچھا گيا كہ كيا آپ (ع) كے والد عذاب جہنم ميں مبتلا ہوں گے يا نہيں ؟ تو آپ (ع) نے اس آدمى سے فرمايا:'' خاموش تيرى زبان جلے_ حضرت محمد (ص) كو بر حق نبى بناكر بھيجنے والى ذات كى قسم اگر ميرے والد روئے زمين كے تمام گناہگاروں كى بھى شفاعت كريں تو خدا ان سب كو معاف كردے_ واہ باپ تو جہنم كے عذاب ميں مبتلا ہو اور بيٹا ہو قسيم النار والجنة''؟ (جنت و دوزخ تقسيم كرنے والے بيٹے كى موجودگى ميں باپ دوزخ ميں جلے؟ معاذ اللہ )(1)

(ز) روايات ضحضاح ميں اختلاف و تناقض ملاحظہ فرمايئے ايك روايت تو يہ كہتى ہے كہ شايد ميرى شفاعت كام كرجائے اور قيامت كے دن دوزخ كے كنارے پر ٹھہرائے جائيں _ جبكہ دوسرى روايت يقين كے ساتھ كہتى ہے كہ وہ ابھى دوزخ كے كنارے پر موجود ہيں _ ملاحظہ فرمائيں_

2_ عقيل اور ارث ابوطالب(ع)

كہتے ہيں كہ حضرت ابوطالب كى وراثت عقيل نے پائي نہ كہ على (ع) اور جعفر (ع) نے اور اسكى وجہ يہ بتاتے ہيں كہ ابوطالب(ع) مشرك تھے اور يہ دونوں مسلمان تھے پس ان دونوں فريقوں كے دين مختلف ٹھہرے اور دو مختلف اديان كے پيروكار ايك دوسرے سے وراثت نہيں پاتے_ (2) ان كى يہ دليل بھى صحيح نہيں ہے اور اس كى وجوہات درج ذيل ہيں_

(الف) يہ كہاں سے ثابت ہوا كہ جعفر (ع) اور على (ع) نے وراثت نہيں پائي_

(ب) ان كا يہ كہنا كہ دو مختلف اديان كو ماننے والے ايك دوسرے سے وراثت نہيں پاسكتے درست ہے اور ہم بھى اس كى تائيد كرتے ہيں كيونكہ لفظ توارث باب تفاعل سے ہے _باب تفاعل كام كيلئے دو طرف كے ہونے پر دلالت كرتا ہے اور ہم بھى مسلمانوں اور كافروں كے درميان توارث (دونوں طرف سے ايك دوسرے سے وراثت پانے) كے قائل نہيں_

________________________________________

1_ بحار الانوار ج 5 3 ص 110 اور كنز الفوائد ص80 مطبوعہ حجريہ_

2_ المصنف ج 6ص 15اور ج 10 ص 344 اور اس كى جلد ششم كے حاشيے ميں بخارى (ج 4 ص 293) سے مروى ہے نيز طبقات ابن سعد ج 1حصہ اول ص 79 _

188

لفظ توارث كا تقاضا يہ ہے كہ يہ عمل دو طرفہ ہو جس طرح تضارب (ايك دوسرے سے كو مارنا) جو بغير طرفين كے نہيں ہوسكتا_ بنابريں مكتب اہلبيت كا نظريہ ہى درست ہے يعنى يہ كہ مسلمان كافر سے وراثت پاسكتا ہے ليكن كافر مسلمان سے نہيں_ (1)

(ج) حضرت عمر سے منقول ہے كہ ہم مشركين سے وراثت پاتے ہيں ليكن وہ ہم سے نہيں_ (2) نيز بہت سے فقہاء نے فتوى ديا ہے كہ مرتد كى ميراث مسلمانوں كو ملتى ہے اور ہم ان سے وراثت پاتے ہيں ليكن وہ ہم سے نہيں_ (3)

(د) وہ لوگ خود ہى كہتے ہيں كہ حضرت ابوطالب كے وقت و فات تك ميراث ابھى فرض ہى نہيں ہوئي تھى اور معاملہ وصيت كے ساتھ چلتا تھا_ تو اس بناپر ہوسكتاہے كہ جناب ابوطالب (ع) نے عقيل كے ساتھ محبت كى وجہ سے اس كے نام وصيت كى ہو(4)_

3_ وھم ينہون عنہ، وينأون عنہ

ابوطالب پر اعتراض كرنے والوں نے ذكر كيا ہے كہ آيت (وہم ينہون عنہ و يناون عنہ) ابوطالب(ع) كے بارے ميں نازل ہوئي ہے حضرت ابوطالب پيغمبر(ص) كو ستانے سے لوگوں كو منع كرتے تھے ليكن خود دائرہ اسلام ميں داخل ہونے سے دورى اختيار كئے ہوئے تھے_ (5)جبكہ ہم كہتے ہيں كہ :

1_ خنيزى نے اس روايت كى سند پر جو اعتراضات كئے ہيں وہ كافى ہيں لہذا اس كى سند پر ہم بحث نہيں كرنا چاہتے ... (6)

________________________________________

1_ شرح نہج البلاغة معتزلى ج 14 ص 69 كى طرف رجوع كريں _

2_ المصنف (حافظ عبدالرزاق) ج 10 ص 339 اور ج 6 ص 106 _

3_ المصنف ج 6 ص 104_107 اور 105 اور ج 10 ص 338_341_

4_ مراجعہ ہو: اسنى المطالب ص 62_

5_ الاصابة ج 4 ص 115، تفسير ابن كثير ج 2 ص 127، طبقات ابن سعد ج 1 ص 78 حصہ اول بھجة المحافل ج 1 ص 116 انساب الاشراف بہ تحقيق محمودى ج 2 ص 26، الغدير ج8 ص3 ميں مذكورہ افراد اور تفسير خازن ج2 ص11 سے نيز تفسير ابن جزى ج2 ص6، نيز طبرى اور كشاف سے نقل كيا گيا ہے اور دلائل النبوية (بيہقي) مطبوعہ دار الكتب العلميہ ج2 ص 340 و 341_

6_ كتاب ابوطالب مومن قريش ص 305_306_

189

2_ اسى طرح ہم ديكھتے ہيں كہ يہ آيت كسى لحاظ سے ابوطالب(ع) پر منطبق نہيں ہوسكتى كيونكہ اللہ تعالى نے اس سے قبل ارشاد فرمايا ہے: (و ان يروا كل آية لا يومنوا بھا حتى اذا جائوك يجادلونك يقول الذين كفروا ان ھذا الا اساطير الاولين و ہم ينھون عنہ ...) (1) يعنى اور اگر وہ تمام تر معجزے ديكھ ليں تو بھى وہ اس پر ايمان نہيں لائيں گے يہاںتك كہ جب وہ تمہارے پاس آئيں گے تو تم سے بھى جھگڑا كريں گے اور وہ لوگ جو كافر ہوگئے كہيں گے، يہ نہيں مگر پہلوں كى كہانياں اور وہ اس سے روكتے ہيں ...

اس آيت ميں جمع كى ضمائر مثلاً'' ھم'' اور ''ينھون و ينأون ''كے فاعل كى ضمير جمع انكى طرف لوٹ رہى ہے جن كا ذكر اللہ تعالى نے اس آيت ميں كيا ہے اور وہ ايسے مشرك ہيں جو ہر آيت اور معجزے كو ديكھنے كے باوجود اس پر ايمان نہيں لاتے اور ان معجزات كے بارے ميں رسول(ص) (ص) سے جھگڑا كرتے ہيں اور اپنے عناد كى وجہ سے اس معجزے كو گذشتہ لوگوں كا افسانہ قرار ديتے ہيں_ ان كى ہٹ دہرمى كى حد اتنى ہى نہيں بلكہ وہ اس سے بھى آگے قدم بڑھاتے ہوئے لوگوں كو نبى اكرم(ص) كى باتيں سننے سے روكتے ہيں جس طرح كہ وہ خود بھى ان سے دور رہتے ہيں ...

ان ميں سے كوئي بات بھى حضرت ابوطالب(ع) پر پورى نہيں اترتي، وہ ابوطالب (ع) جوہميشہ نبى اكرم(ص) كى اطاعت پر حوصلہ افزائي كرتے تھے اور اپنے ہاتھ اور زبان كے ساتھ نبي(ص) كى تائيد كرتے بلكہ ہم تو يہ ديكھتے ہيں كہ وہ دوسرے لوگوں كو بھى اس دين كے دائرے ميں آنے كى دعوت ديتے اور خود بھى اس دين پر ڈٹے رہے اور اس سلسلے ميں ہر مشكل كا خندہ پيشانى سے سامنا كيا ،جس طرح كہ ان كى بيوي، حمزہ(ع) ، جعفر(ع) ، حضرت علي(ع) اور بادشاہ حبشہ كى بھى يہى صورت حال تھي_

مفسرين نے بھى اس آيت سے عموم ہى سمجھا ہے اور اس سے سب كفار مراد لئے ہيں اور اس كا يہ معنى كيا ہے كہ وہ لوگ كفار كو روكتے تھے اور اتباع رسول(ص) سے منع كرتے تھے اور خود بھى اس سے دور رہتے تھے ...ابن عباس، حسن، ... قتادہ، ابى معاذ، ضحاك، ابن الحنفيہ، السدي، مجاہد الجبائي اور ابن جبير سے بھي

_1_ سورہ انعام، آيت 25_26_

190

يہى تفسيرتفسير مروى ہے_ (1)

3_علامہ امينى فرماتے ہيں مذكورہ روايت كہتى ہے كہ سورہ انعام كى آيت (وہم ينہون عنہ و يناون عنہ) حضرت ابوطالب كى وفات كے وقت نازل ہوئي_ دوسرى روايت كہتى ہے كہ آيت (انك لا تھدى من اجبت ...) بھى ان كى وفات كے وقت نازل ہوئي جبكہ قرآن كى يہ آيت سورہ قصص كى ہے، جس كى تمام آيات ايك ساتھ نازل ہوئيں اور سورہ قصص پانچ سورتوں كے فاصلے كے ساتھ سورہ انعام سے قبل نازل ہوئي_ (2) يہ اس بات كى دليل ہے كہ مذكورہ آيت حضرت ابوطالب كى وفات كے كافى عرصے بعد نازل ہوئي_

بنابر ايں ان لوگوں كا يہ كہنا كہ يہ آيت وفات ابوطالب(ع) كے وقت نازل ہوئي كيونكر معقول ہو سكتا ہے؟

4_ مشرك كيلئے طلب مغفرت سے منع كرنے والى آيت

بخاري، مسلم اور ديگر محدثين نے ابن مسيب سے اور اس نے اپنے باپ سے ايك روايت نقل كى ہے جس كا خلاصہ يہ ہے كہ رسول(ص) الله نے وفات ابوطالب(ع) كے وقت ان سے لا الہ الا الله كہنے كى خواہش كى تاكہ اس كے ذريعے آپ(ص) خدا كے نزديك ان كى مغفرت كيلئے دليل قائم كرسكيں اس وقت ابوجہل اور عبدالله بن اميہ نے ابوطالب(ع) سے كہا:'' كيا آپ عبدالمطلب كے دين سے منہ موڑنا چاہتے ہيں؟ ''رسول(ص) الله ابوطالب(ع) كو كلمہ توحيد كى دعوت ديتے رہے اور وہ دونوں مذكورہ بات دہراتے رہے يہاں تك كہ ابوطالب(ع) نے آخرى جملہ يہ كہا (عبدالمطلب كے دين پر ہوں) اور لا الہ الا الله كہنے سے احتراز كيا_

يہ ديكھ كر رسول(ص) الله نے فرمايا : ''خدا كى قسم جب تك خدا كى طرف سے ممانعت نہ ہو آپ كيلئے طلب

________________________________________

1_ رجوع كريں: مجمع البيان ج 7 ص 35، 36، تفسير ابن كثير ج 2 ص 127، الغدير ج 8 ص 3 درالمنثور ج 3 ص 8_9، ان سب نے تمام يا بعض مطالب كو قرطبي، طبري، ابن منذر، ابن ابى حاتم، ابن ابى شيبہ ، عبد بن حميد اور ابن مردويہ سے نقل كيا ہے_ قرطبى ج 6 ص 406 _

2_ الدر المنثور ج 2ص 3 ،تفسير شوكانى ج 3، ص 91_92، تفسير ابن كثير ج 2ص 122اور الغدير ج8 ص 5 نے نقل كيا ہے از افراد مذكور و از تفسير قرطبى ج 6ص 386 و383 ،ان سب نے نقل كيا ہے از ابى عبيد و ابن منذر و طبرانى و ابن مردويہ و نحاس ...

191

مغفرت كرتا رہوں گا''_ اس مناسبت سے يہ آيت اترى (ما كان للنبى والذين آمنوا ان يستغفروا للمشركين ولو كانوا اولى قربى من بعد ما تبين لہم انہم اصحاب الجحيم) (1) يعنى پيغمبر(ص) اور مومنين كيلئے روا نہيں كہ وہ مشركين كيلئے مغفرت طلب كريں اگرچہ وہ ان كے قرابت دارہوں بعد اس كے كہ ان كا جہنمى ہونا واضح ہوجائے، نيز خدا نے ابوطالب(ع) كے بارے ميں يہ آيت اتارى (انك لاتہدى من احببت ولكن الله يہدى من يشائ) (2) يعنى اے رسول آپ(ص) ہر اس شخص كى ہدايت نہيں كرسكتے جسے آپ چاہيں بلكہ خدا جسے چاہتا ہے ہدايت ديتا ہے_

ہم نہ تو اس مقطوعہ روايت كى سندوں پر بحث كرنا چاہتے ہيں (3)اور نہ ابن مسيب جيسے لوگوں پر جن كى حضرت على (ع) سے دشمنى واضح ہے اور بعض لوگوں نے تواس كى تصريح كى ہے_ (4) البتہ درج ذيل امور كى طرف اشارہ كريں گے_

1) وہ آيت جو (مشركين كيلئے) طلب استغفار سے منع كرتى ہے سورہ توبہ كى ہے اور اس بات ميں شك كى گنجائشے نہيں كہ يہ سورت مدينہ ميں رسول(ص) پر اترنے والى آخرى سورتوں ميں سے ايك ہے بلكہ بعض حضرات نے يہ دعوى كيا ہے كہ آخرى سورہ يہى ہے_ (5) يہ بات غيرمعقول ہے كہ يہ آيت دس سال سے زيادہ عرصے تك تنہا پڑى رہى ہو پھر جب سورت توبہ نازل ہوئي تو اس ميں شامل كر دى گئي ہو كيونكہ قرآنى آيات كسى سورہ كے ساتھ اس صورت ميں ملحق ہوتى ہيں جبكہ وہ سورت اس سے قبل نازل ہوچكى ہو_اور يہ بات قرآن كى لمبى سورتوں سے متعلق ہے نہ كہ ديگر سورتوں سے جس كى تمام آيات ايك ساتھ اترتى تھيں_

________________________________________

1_ سورہ توبہ، آيت 113_

2_ سورہ قصص آيت 56روايت بخارى مطبوعہ 1309كى ج 3ص 111وغيرہ ميں

3_ رجوع كريں: ابوطالب مومن قريش ص 313_340اور انساب الاشراف بہ تحقيق محمودى ج 2ص 25اور 26 نيز دلائل النبوة (بيہقي) مطبوعہ دار الكتب العلميہ ج2 ص 342 و 343_

4_ الغارات (ثقفي) ج 2ص 569

5_ الغدير ج 8ص 10، ابوطالب مومن قريش ص 341از بخاري، كشاف، بيضاوي، تفسير ابن كثير، الاتقان، ابن ابى شيبہ، نسائي، ابن الضريس، ابن منذر، نحاس، ابوالشيخ اور ابن مردويہ_

192

بنابريں رسول(ص) خدا اس قدر طويل عرصے تك ابوطالب(ع) كيلئے طلب مغفرت و رحمت كرتے رہے حالانكہ يہ عمل كافر سے محبت كا واضح ترين نمونہ ہے اور خدا نے سورہ توبہ كے نزول سے قبل ہى متعدد آيات ميں كفار كى محبت سے منع كيا تھا جيساكہ اس آيت ميں فرماتا ہے:(لا تجد قوماً يومنون بالله واليوم الآخر يوادون من حاد الله ورسولہ ولو كانوا آبائہم اَو ابنا ھم اواخوانھم اوعشيرتہم) (1) يعنى اے رسول(ص) آپ(ص) الله اور يوم آخرت پر ايمان ركھنے والوں كو الله اور اس كے مخالفين سے محبت كرتے ہوئے نہيں پائيں گے اگرچہ وہ ان كے باپ يا بيٹے يا بھائي يا رشتہ دار ہى كيوں نہ ہوں_

نيز فرمايا ہے: (يايہا الذين آمنوا لا تتخذوا الكافرين اولياء من دون المؤمنين) (2) يعنى اے مومنوا مومنين كے بجائے كافروں كو اپنا دوست اور حامى نہ سمجھو_

يا يہ فرمايا ہے: (الذين يتخذون الكافرين اولياء من دون المؤمنين ايبتغون عندہم العزة) (3) يعنى جو لوگ مومنين كو چھوڑ كر كافروں سے دوستى كرتے ہيں كيا وہ عزت ان كے ہاں ڈھونڈتے ہيں؟

نيز فرمايا: (لايتخذ المؤمنون الكافرين اولياء من دون المؤمنين) (4) يعنى مومنين كو چاہيئے كہ وہ مومنوں كے بجائے كافروں كو اپنا دوست اور ہمدرد نہ بنائيں_

انكے علاوہ اور بھى آيات موجود ہيں جن كے بارے ميں تحقيق كى يہاں گنجائشے نہيں_

2)خدانے سورہ منافقين ميں جو بنابر مشہور ہجرت كے چھٹے سال ميں سورہ توبہ سے پہلے، نيز غزوہ بنى مصطلق سے قبل نازل ہوئي فرمايا ہے:(سواء عليہم استغفرت لہم ام لم تستغفرلہم لن يغفر الله لہم) يعنى كہ آپ ان كيلئے خواہ طلب مغفرت كريں يا نہ كريں(ايك ہى بات ہے) خدا ان كو كبھى نہيں

________________________________________

1_ سورہ مجادلہ 22نيز يہ سورہ توبہ سے سات سورتوں كے فاصلے پر پہلے نازل ہوئي (جيساكہ الاتقان ج 1ص 11تفسير ابن كثير ج4ص 329فتح القدير ج 5ص 186اور الغدير ج 8ص 10ميں ان سے اور تفسير آلوسى ج 28و 37سے منقول ہے) ابن ابى حاتم، طبراني، حاكم، بيہقي، ابونعيم وغيرہ نے كہا ہے كہ يہ سورہ بدر يا احد ميں نازل ہوئي_

2_ سورہ نساء آيت 144 _

3_ سورہ نساء آيت 139_

4_ سورہ آل عمران، آيت 28_

193

بخشے گا_

پس جب آپ(ص) كو يہ علم تھا كہ خدا كافروں كو ہرگز نہ بخشے گا خواہ آپ(ص) ان كيلئے استغفاركريں يا نہ كريں ، تو پھرآپ خواہ مخواہ كى زحمت كيوں كرتے؟ حالانكہ واضح سى بات ہے كہ يہ امر عقلاء كے نزديك معقول نہيں_

3)ہم ديكھتے ہيں كہ رسول خدا(ص) نے صاف صاف فرمايا: ''اللہم لاتجعل لفاجر او لفاسق عندى نعمة''(1) يعنى اے خدا كسى فاسق يا فاجر كيلئے ميرے پاس كوئي نعمت اور احسان قرار نہ دے_

نيز آپ(ص) نے حكيم بن حزام كا تحفہ اس كے كافر ہونے كى بنا پر واپس كرديا تھا_ عبيدالله كہتا ہے ميرا خيال ہے آپ(ص) نے فرمايا تھا: ''ہم مشركين سے كوئي چيز قبول نہيں كرتے ليكن اگر تم چاہو توقيمت كى ادائيگى كے ساتھ قبول كريں گے''_ (2)

پيغمبر اكرم(ص) نے عامر بن طفيل كا تحفہ بھى قبول نہيں فرمايا تھا كيونكہ وہ اس وقت تك مسلمان نہيں ہوا تھا_اس كے علاوہ آپ(ص) نے ملاعب الاسنہ ( بوڑھوں كا مذاق اڑانے والوں )كا ہديہ بھى رد كرديا تھا_ آپ (ص) نے فرمايا ميں كسى مشرك كا تحفہ قبول نہيں كرتا_ (3)

عياض مجاشعى سے منقول ہے كہ اس نے نبى اكرم(ص) كے پاس كوئي تحفہ بھيجا ليكن آپ(ص) نے اسے لينے سے

________________________________________

1_ رجوع كريں ابوطالب مومن قريش (خنيزي)

2_ مستدرك الحاكم ج 3ص 484اور تلخيص مستدرك (ذہبي) اس صفحے كے حاشيہ پر_ ان دونوں نے اس روايت كو صحيح گردانا ہے_ نيز كنز العمال ج6ص 57و 59از احمد، طبرانى الحاكم اور سعيد بن منصور ، حيات صحابہ ج2 ص 258 و 259 ، 260 از كنزالعمال و از مجمع الزوائد ج8 ص 278 اور التراتيب الاداريہ ج2 ص 86_ يہاں پر ملاحظہ ہو كہ آپ(ص) نے وقت ہجرت جناب ابوبكر سے بھى صرف قيمت دے كر اونٹ لئے تھے_

3_ كنز العمال ج 3ص 170طبع اول از ابن عساكر طبع ثانى ج 6ص 57از طبراني، المصنف (عبدالرزاق) ج 1ص 446و 447 اورحاشيہ ميں مغازى اور ابن عقبہ سے منقول ہے اور مجمع البيان ج1 ص 353_

194

انكار كيا اور فرمايا مجھے كافروں كے عطيات سے منع كيا گيا ہے_ (1)

آنحضرت(ص) كے اس عمل كى وجہ سوائے اس كے كچھ نہيں كہ كفار كے تحائف كا قبول كرنا آپ(ص) كے دل ميں ان كيلئے محبت واحترام كا گوشہ پيدا كرنے كا باعث نہ ہو_

4)صحيح سند كے ساتھ حضرت علي(ع) سے مروى ہے (جيساكہ علامہ امينى نے ذكر كيا ہے )كہ انہو ں نے سنا ايك شخص اپنے والدين كيلئے طلب مغفرت كررہا ہے جبكہ وہ دونوں مشرك تھے، حضرت علي(ع) نے يہ بات پيغمبر(ص) خدا كو سنائي تو مذكورہ آيت اتري_ (2)

ايك روايت كى رو سے مسلمانوں نے كہا كيا ہم اپنے آباء كيلئے طلب مغفرت نہ كريں؟ اس كے جواب ميں مذكورہ آيت نازل ہوئي_ (3)

ايك اور روايت كے مطابق جب پيغمبر(ص) خدانے الله سے اپنى والدہ كيلئے طلب مغفرت كى اجازت چاہى تو خدانے آپ(ص) كو اجازت نہ دى اور يہ آيت اترى پھر آپ(ص) نے ان كى قبر پر جانے كى اجازت مانگى تو اس كى اجازت مل گئي_ (4)

________________________________________

1_ كنز العمال ج 6ص 57و 59ابوداؤد اور ترمذى سے، احمد او ر طيالسى اور بيہقى نے اسے صحيح قرار ديا ہے_ نيز رجوع كريں كنزالعمال ج 6ص 57 و 59ميں عمران بن حصين سے مروى روايت كى طرف نيز المنصف (عبد الرزاق) ج 10ص 447اور اس كے حاشيے ميں ج 2ص 389اس نے ابوداؤد احمد اور ترمذى سے روايت كى ہے او ر ملاحظہ ہو الوسائل ج12 ص 216 از كافى اور المعجم الصغير ج1 ص 9_

2_ الغدير ج 8ص 12نيز ديگر مآخذ از طيالسي، ابن ابى شيبہ، احمد، ترمذي، نسائي، ابويعلي، ابن جرير، ابن منذر، ابن ابى حاتم، ابوشيخ، ابن مردويہ، حاكم (جس نے اسے صحيح قرار ديا ہے)، بيہقى (در شعب الايمان)، ضياء (المختارة ميں)، الاتقان، اسباب النزول، تفسير ابن كثير، كشاف، اعيان الشيعة، اسنى المطالب ص 18 (دحلان)، ابوطالب مومن قريش، شيخ الابطح اور مسند احمد ج 1ص 130_131_

3_ مجمع البيان ج 5 ص 76 از حسن، تفسير ابن كثير ج 2 ص 393، ابوطالب مومن قريش ص 348 از مجمع البيان اور تفسيرابن كثير سے اور الاعيان ج 39 ص 158 و 159ميں ابن عباس اور حسن سے، كشاف، ج 2 ص 246_

4_ تفسير طبرى ج 11ص 31و الدر المنثور ج 3 ص 283 و ارشاد السارى ج 7 ص 282 اور 158 از صحيح مسلم، تفسير ابن كثير ج 2 ص 394، مسند احمد، سنن ابوداؤد، ابن ماجہ، حاكم، بيہقي، ابن ابى حاتم، طبراني، ابن مردويہ، كشاف ج 2 ص 49 اور ابوطالب مومن قريش ص 349 _

195

يہاں اگرچہ ہمارا عقيدہ تو يہ ہے كہ اس آخرى روايت كا صحيح ہونا بہت بعيد ہے كيونكہ ہمارے عقيدے كے مطابق آپ(ص) كى والدہ مومنہ تھيں جيساكہ ہم حضور(ص) كے آباء كے ايمان كے بارے ميں ذكر كرچكے ہيں ليكن اس سے قطع نظر يہ روايت گزشتہ روايات كے منافى ہے_ شايد راويوں نے اپنى صوابديد كے مطابق عمداً يا سہواً اس آيت كو حضرت آمنہ پر منطبق كيا ہے ليكن صحيح روايت اميرالمؤمنين علي(ع) سے مروى مذكورہ بالا روايت ہى ہے وگرنہ يہ كيسے ہوسكتا ہے كہ رسول(ص) الله اپنى زندگى كے آخرى ايام تك اپنى والدہ كيلئے استغفار كرنا بھول جاتے؟ يہ ان باتوں كے علاوہ ہے جن كا ذكر گزرچكا ہے_

5)(انك لا تہدى من اجبت) والى آيت كے بارے ميں كہتے ہيں كہ يہ احد كے دن اترى جب رسول(ص) الله كا دندان مبارك شہيد ہوا اور چہرہ مبارك پر زخم آيا_ اس وقت آپ(ص) نے فرمايا تھا خدايا ميرى قوم كو ہدايت دے كيونكہ وہ نادان ہيں پس خدانے يہ آيت نازل كى (انك لا تہدى من احببت ...)(1)

يہ بھى كہا گيا ہے كہ يہ آيت حارث بن عثمان بن نوفل كے بارے ميں نازل ہوئي ہے كيونكہ رسول(ص) الله كى خواہش تھى كہ وہ مسلمان ہوجائے كہا گيا ہے كہ يہ مسئلہ اجماعى ہے_ (2)

6)جب رسول(ص) الله چاہتے تھے كہ حضرت ابوطالب ايمان لے آئيں تو يقيناً يہى بات خدا بھى چاہتا تھا كيونكہ رسول(ص) كسى ايسے امر كو پسند نہيں فرماتے جو خدا كو ناپسند ہو_ رہا ان لوگوں كا يہ كہنا كہ آپ(ص) كو ايك وحشى كا قبول اسلام پسند نہ تھا ليكن وہ ايمان لے آيا تو يہ صحيح نہيں كيونكہ يہ امر خدا اور پيغمبر(ص) كے درميان اختلاف اور تضاد كى علامت ہے يعنى يہ كہ ان دونوں ميں توافق نہ ہو_ ليكن اگر توافق موجود ہو تو پھر يہ كيسے

________________________________________

1_ ابوطالب مومن قريش 368 از اعيان الشيعة ج 39 ص 259، الحجة ص 39 اس روايت كے بعض مآخذ كا ذكر جنگ احد كے بيان ميں ہوگا نيز ملاحظہ ہو: التراتيب الاداريہ ج1 ص 198 از استيعاب_

2_ ابوطالب مؤمن قريش ص 369از شيخ الابطح ص 69_

196

ممكن ہے كہ الله اور رسول(ص) الله ايك شخص كے ايمان كو ناپسند كريں؟ (1)

7) '' انك لا تھدى من احبيت ...'' والى آيت جناب ابوطالب (ع) كے ايمان سے مانع نہيں ہے كيونكہ جس طرح روايات دلالت كرتى ہيں خدا نے جناب ابوطالب (ع) كا مؤمن ہوناپسند كيا ہے اور يہ آيت رسول اكرم(ص) كويہ بتانا چاہتى ہے كہ صرف آپ (ص) كى محبت ہى كسى شخص كے ہدايت يافتہ ہونے كے لئے كافى نہيں ہے بلكہ اس كے علاوہ خدا كى مرضى بھى ساتھ ہونى چاہيئے_

آخر ميں يہ بھى عرض كرتے چليں كہ گذشتہ معروضات كى رو سے جناب عبدالمطلب نہ كافر تھے نہ مشرك بلكہ وہ مؤمن اور دين حنيف كے پيروكار تھے بلكہ مسعودى نے تو اپنى ايك كتاب ميں صاف كہہ ديا ہے كہ وہ اسلام پر مرے_ (2) پس حضرت ابوطالب كا يہ كہنا كہ ميں عبدالمطلب كے دين پر ہوں ان كے كفر پر دلالت نہيں كرتا_ اگر بالفرض انہوں نے ايسا كہا بھى ہو تو پھر اس كى وجہ لازماً يہى ہوسكتى ہے كہ وہ قريش كو اس وقت كى بعض مصلحتوں كى بناپر بے خبر ركھنا چاہتے تھے_

باقيماندہ دلائل

يہ تھے ابوطالب(ع) كو نعوذ بالله كافر سمجھنے والوں كے اہم دلائل ليكن ہم نے ديكھا كہ يہ دلائل صحيح اور عالمانہ تحقيق كے آگے نہيں ٹھہرسكتے _ان دلائل كے علاوہ بعض روايات باقى ہيں جن سے ممكن ہے كہ مذكورہ مطلب (كفر ابوطالب) پر استدلال كيا جائے حالانكہ ان روايات ميں كوئي ايسا نكتہ نہيں جو اس بات كو ثابت كرسكے_ ہم نہايت اختصار كے ساتھ ان كى طرف اشارہ كرتے ہوئے عرض كرتے ہيں كہ ان لوگوں كى روايت كے مطابق:

________________________________________

1_ رجوع كريں حاشيہ كتاب انساب الاشراف جلد 2 كے صفحہ 28پر_

2_ الروض الانف ج 2ص 170_171_

197

1) رسول(ص) الله نے وسوسے سے رہائي كے بارے ميں ابوبكر سے فرمايا ہے كہ تمہيں چاہ يے كہ وسوسے سے نجات كيلئے وہ جملہ پڑھو جس كے پڑھنے كا ميں نے اپنے چچا كو حكم ديا تو انہوں نے نہيں پڑھا يعني: لا الہ الاالله محمد رسول الله كى شہادت (1)_ عمر سے مروى ہے كہ وہ كلمہ تقوى جس كى تاكيد رسول(ص) الله نے حضرت ابوطالب كو ان كى موت كے وقت كى كلمہ شہادت ہے ... (2)

ليكن واضح رہے كہ بعض لوگ رسول(ص) الله سے اس بارے ميں سوال كرتے تھے ا ور اسے اپنى زبان پر جارى بھى كرتے تھے ليكن اس كے باوجود وسوسے كا شكار تھے_ مگر يہ كہ اس سے آپ (ص) كى مراد شہادتين كا تكرار اور كثرت تلفظ ليا جائے_ جيساكہ يہ روايت ايك معتبر سندكے ساتھ بھى مروى ہے اور اس ميں آيا ہے كہ سعد اور عثمان كے درميان اختلاف ہوا_ حضرت عمرنے ان دونوں كے درميان فيصلہ كيا اور كہا كہ حضرت يونس(ع) كى دعا يہ تھى (لا الہ الا انت سبحانك انى كنت من الظالمين) ليكن اس نے ابوطالب(ع) كا ذكر نہيں كيا_(3)

2)جب ابوقحافہ نے مسلمان ہونے كيلئے بيعت كا ہاتھ بڑھايا تو حضرت ابوبكر روئے، رسول(ص) الله نے پوچھا :''كيوں روتے ہو؟'' بولے:'' اس خيال سے روتا ہوں كہ كاش اس كے بدلے آپ(ص) كے چچا كا ہاتھ ہوتا جو بيعت كر كے مسلمان ہوتا اور يوں الله آپ(ص) كى آنكھوں كو ٹھنڈك بخشتا تو مجھے زيادہ خوشى ہوتي''_ (4) ليكن يہى روايت قبل ازيں مختلف مآخذ سے ايك اور انداز سے بيان ہوچكى ہے جس سے ابوطالب(ع) كے

________________________________________

1_ حياة الصحابة ج 2 ص 540 و 541 و كنز العمال ج 1 ص 259_261 از ابى يعلى و البوصيرى (زوايد ميں) اور طبقات ابن سعد ج 2 ص 312 سے _

2_ مجمع الزوايد ج 1 ص 15 و كنز العمال ج 1 ص 262 و 63 از ابى يعلى و ابن خزيمہ و ابن حبان و بيہقى وغيرہ جن كى تعداد زيادہ ہے_

3_ مجمع الزوائد ج 7 ص 68 از احمد (اس سند كے راوى صحيح بخارى كے راوى ہيں سوائے ابراہيم بن محمد بن سعد كے جو ثقہ ہے) اور حياة الصحابة ميں احمد، ترمذى اور الكنز ج 1 ص 298 ميں ابى يعلى اور طبرانى سے_ طبرانى نے اسے صحيح قرار ديا ہے_

4_ الاصابة ج 4ص 116اور الحاكم (جس نے اس روايت كو صحيح قرار ديا ہے، بخارى و مسلم كے معيار كے مطابق) از عمر بن شبہ، ابويعلي، ابوبشر سمويہ (در فوائد) و نصب الراية ج 6 ص 281 و 282 (بعض مآخذ سے جن كا ذكر حاشيہ ميں ہوا ہے) المصنف ج 6 ص 39 اور اس كے حاشيہ ميں نقل ہوا ہے از ابن ابى شيبہ ج 4 ص 142 اور 95، ابوداؤد ص 458 اور مسند احمد ج 1 ص 131 _

198

ايمان كى تائيد ہوتى ہے_ لہذا اس كا اعادہ نہيں كرتے_ بلكہ يہ بھى منقول ہے كہ جب ابوقحافہ مسلمان ہوا تو حضرت ابوبكر كو اس كے قبول اسلام كا پتہ ہى نہ چلا يہاں تك كہ رسول(ص) الله نے ان كو خوشخبرى دي_ (1)

بنابر اين حضرت ابوبكر نے مذكورہ بات اس وقت جب ان كے باپ نے بيعت كيلئے ہاتھ بڑھاياكيسے كہي؟

3)ايك روايت ميں مذكور ہے جب حضرت ابوطالب(ع) كى وفات ہوئي تو حضرت علي(ع) رسول(ص) الله كے پاس آئے اور عرض كيا كہ آپ(ص) كا بوڑھا اور گمراہ چچا چل بسا_

ايك اور روايت كے مطابق حضرت علي(ع) نے ابوطالب(ع) كے غسل و كفن كے بارے ميں رسول(ص) الله كا حكم ماننے سے انكار كرديا چنانچہ رسول (ص) الله نے آپ كو حكم ديا يہ كام كسى اور كے ذمے ڈال ديں_(2)

جبكہ امام احمد نے بھى اپنى مسند ميں اس روايت كو نقل كيا ہے ليكن اس ميں لكھا ہے آپ كا بوڑھا چچا وفات پاچكا ہے اس ميں گمراہ كا لفظ نہيں آيا_ (3)يہاں يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ آپ (ص) نے (نعوذ باللہ) ايك مشرك كو غسل دينے كا حكم كيسے ديا ؟ اوريہاں پر يہ سوال بھى پيدا ہوتا ہے كہ آخر رسول(ص) الله نے عقيل اور طالب كو جو مشرك تھے غسل دينے كا حكم دينے كى بجائے علي(ع) كو كيوں حكم ديا؟ پھر يہ بات رسول(ص) كے غمگين ہونے، ابوطالب(ع) كيلئے طلب مغفرت و رحمت كرنے، ان كے جنازے كو كندھا دينے اور جنازے كے ساتھ چلنے سے كيسے ہماہنگ ہوسكتى ہے؟ جبكہ يہى لوگ روايت كرتے ہيں كہ پيغمبر(ص) مشرك كے جنازے كے ساتھ چلنے كو جائز نہيں سمجھتے؟ (4)

________________________________________

1_ المحاسن والمساوى جلد 1 صفحہ 57_

2_ المصنف ج 6ص 39 نيز ملاحظہ ہو: كنز العمال ج17 ص 32 و 33 ، نصب الرايہ ج2 ص 281 و 282 اور اسى كے حاشيہ ميں مختلف منابع سے مذكور احاديث_

3_ مسند الامام احمد ج1 ص 129 اور 35 1و انساب الاشراف بہ تحقيق المحمودى ج 2 ص 24 اس ميں مذكور ہے كہ آپ نے انكو بذات خود حكم ديا تو انہوں نے انہيں دفن كرديا_

4_ اس بحث كى ابتدا ميں بعض مآخذ كا ذكر ہوچكا اور يہ بھى كہ مشرك كے جنازے ميں شركت جائز نہيں ہے_ رجوع كريں سنن بيہقى وغيرہ جيسى كتب احاديث كى طرف_

199

اس كے علاوہ كيا يہ درست ہوسكتاہے كہ حضرت علي(ع) نے رسول(ص) كا حكم ماننے سے انكار كيا ہو يہاں تك كہ رسول(ص) الله ان سے يہ كہنے پر مجبور ہوں كہ يہ كام كسى اور كے ذمے لگادو؟ كيا حضرت علي(ع) اس قسم كى باغيانہ ذہنيت ركھتے تھے؟ نہيں ايسا ہرگز نہيں ہوسكتا_

اس كے علاوہ يہ لوگ متعدد مآخذ سے منقول اس حقيقت كے بارے ميں كيا جواب ديں گے جن كے مطابق حضرت علي(ع) نے خود بہ نفس نفيس ابوطالب(ع) كو غسل ديا، دفن كيا اور ان كو غسل دينے كے بعد غسل مس ميت كيا جو كسى بھى مسلمان ميت كو چھونے پر واجب ہوتا ہے؟(1)

پس جب يہ واضح ہوگيا كہ ابوطالب سچے مسلمان تھے تو پھر مدينى جيسے افراد كى يا وہ گوئي پرجو نہ عقل كے مطابق ہے نہ شرع كے، كان دھرنے كى كيا ضرورت ہے؟ يہ لوگ چاپلوسى اور نيكى كے دكھا وے كے ذريعے كوئي نتيجہ حاصل نہيں كرسكتے جيسا كہ مدينى كہتا ہے كہ ميرى آرزو تھى كہ ابوطالب(ع) مسلمان ہوتے يوں رسول(ص) الله كو خوشى حاصل ہوتى اگرچہ اس كے بدلے مجھے كافر ہونا پڑتا_ (2)

ابوطالب(ع) نے اپنا ايمان كيوں چھپايا؟

اگر ہم دعوت اسلامى كے تدريجى سفر اورابوطالب(ع) كے طرز عمل كا مطالعہ كريں تو پتہ چلتا ہے كہ وہ پہلے پہل ہوبہو مومن آل فرعون كى طرح اپنا ايمان چھپاتے تھے_ ان كى روش يہ رہى كہ كبھى اس كو ظاہر كرتے اور كبھى مخفى ركھتے يہاں تك كہ بنى ہاشم شعب ابوطالب ميں محصور ہوئے اس كے بعد انہوں نے اسے زيادہ ظاہر كرنا شروع كيا_

امام صادق(ع) سے منقول ہے كہ حضرت ابوطالب(ع) كى مثال اصحاب كہف كى سى ہے جنہوں نے اپنا ايمان چھپايا اور شرك كا دكھاوا كيا پس خدانے ان كو دگنا اجر عنايت كيا_ (3)

________________________________________

1_ تاريخ الخميس ج 1 30

2_ عيون الاخبار ج 1ص 263 (ابن قتيبہ) _

3_ امالى صدوق ص 551، شرح نہج البلاغة معتزلى ج 14 ص 70، اصول كافى ج 1 ص 373، روضة الواعظين ص 139، بحار الانوار ج 35 ص 111، الغدير ج 7 ص 385_390 از مآخذ مذكور، الحجة (ابن معد) ص 17اور 115، تفسير ابى الفتوح ج 4 ص 212، الدرجات الرفيعة اور ضياء العالمين_

200

شعبى نے ذكر سندكے بغير اميرالمؤمنين حضرت علي(ع) سے نقل كيا ہے كہ والله ابوطالب بن عبدالمطلب بن عبد مناف مسلمان اور مومن تھے اور اس خوف سے اپنا ايمان چھپاتے تھے كہ قريش بنى ہاشم كے خلاف اعلان جنگ نہ كريں_ ابن عباس سے بھى اسى طرح كى بات مروى ہے_ (1) اسكى تائيد ميں اور بھى متعدد احاديث موجود ہيںجنكے ذكر كى يہاں گنجائشے نہيں_ (2)

ليكن ايك اور روايت كا تذكرہ ضرورى معلوم ہوتا ہے جو شايد حقيقت سے قريب تر ہو_ اسے شريف نسابہ علوى (معروف بہ موضح) نے اپنى اسناد كے ساتھ يوں بيان كيا ہے جب ابوطالب(ع) كى وفات ہوئي تو اس وقت مْردوں پر نماز نہيں پڑھى جاتى تھى پس نبي(ص) نے ان كى اور حضرت خديجہ كى نماز جنازہ نہيں پڑھى _بس اتنا ہوا كہ حضرت ابوطالب كا جنازہ گزرا جبكہ حضرت علي(ع) ، جعفر(ع) اور حمزہ(ع) بيٹھے ہوئے تھے_ (3) تب وہ كھڑے ہوگئے اور جنازے كى مشايعت كى پھر ان كيلئے مغفرت كى دعا كي_

پس بعض لوگوں نے كہا ہم اپنے مشرك مردوں اور رشتہ داروں كيلئے دعا كرتے ہيں_ (لوگوں نے يہ خيال كيا كہ حضرت ابوطالب كى حالت شرك ميں وفات ہوئي اسلئے كہ وہ ايمان كو چھپاتے تھے) چنانچہ خدا نے اس آيت ميں حضرت ابوطالب كو شرك سے منزہ ،نيز اپنے نبي(ص) اور مذكورہ تين ہستيوں كو خطاسے برى قرار ديا ہے (ما كان للنبى والذين آمنوا ان يستغفروا للمشركين و لوكانوا اولى قربي) يعنى نبى اور مومنين كيلئے روانہيں كہ وہ مشركين كيلئے طلب مغفرت كريں اگرچہ وہ ان كے قريبى رشتہ دارہى كيوں نہ ہوں_

پس جو بھى حضرت ابوطالب كو نعوذ بالله كافر سمجھے تو گويا اس نے نبي(ص) كو خطا كار ٹھہرايا حالانكہ خدانے آپ(ص) كے اقوال و افعال كو خطاسے منزہ قرار ديا ہے_ (4)

________________________________________

1_ امالى صدوق ص 550، الغدير ج 8 ص 388 از كتاب الحجة ص 24، 94، 115 _

2_ رجوع كريں الغدير ج 7 ص 388_390 از الفصول و المختارة ص 80، اكمال الدين ص 103 اور كتاب الحجة (ابن معد) از ابوالفرج اصفہاني_

3_ حضرت جعفر حبشہ گئے ہوئے تھے پس يا تو وہ مختصر مدت كيلئے وہاں سے لوٹنے كے بعد پھر واپس ہوئے تھے يا راوى نے اپنى طرف سے عمداً يا سہواً ايسى بات لكھ دى ہے_

4_ الغدير ج 7ص 399 از كتاب الحجة (ابن معد) ص 168_

201

ايمان ابوطالب (ع) كو چھپانے كى ضرورت كيا تھي؟

ہم جرا ت كے ساتھ يہ كہہ سكتے ہيں كہ ابوطالب(ع) كا اپنے ايمان كو مخفى ركھنا اسلام كى ايك شديد ضرورت تھى اور اس كى وجہ يہ تھى كہ دعوت اسلامى كو ايك ايسے بااثر فرد كى ضرورت تھى جو اس دعوت كيپشت پناہى اور اس كے علمبردار كى محافظت كرتا بشرطيكہ وہخود غير جانبدار ہوتا تاكہ اس كى بات ميں وزن ہو _يوں اسلامى دعوت اپنى حركت و كاركردگى كو غير مؤثر بنانے والے ايك بہت بڑے دباؤ كا سامنا كئے بغير اپنى راہ پر چل نكلتي_

ابن كثير وغيرہ نے كہا ہے اگر ابوطالب(ع) مسلمان ہوجاتے (ہم تو يہ كہتے ہيں كہ وہ مسلمان تھے ليكن اس حقيقت كو چھپاتے تھے) تو مشركين قريش كے پاس ان كى كوئي حيثيت نہ رہتى اور نہ ان كى بات ميں وزن ہوتا _نيز نہ ان پر آپ كى ہيبت باقى رہتى اور نہ وہ ان كا احترام ملحوظ ركھتے بلكہ ان كے خلاف ان ميں جسارت پيدا ہوتى اور اپنے دست و زبان سے ان كى مخالفت كرتے_ (1)

ابوطالب (ع) پر تہمت كيوں؟

شايد حضرت ابوطالب كا واحد جرم يہ ہو كہ وہ اميرالمومنين حضرت على (ع) كے والد تھے_ درحقيقت اس قسم كى ناروا تہمتوں كا اصلى ہدف حضرت ابوطالب(ع) نہيں بلكہ ان كے بيٹے حضرت علي(ع) ہيں جوامويوں، زبيريوں اور دشمنان اسلام كى آنكھوں كا كانٹا تھے _ان لوگوں كى ہميشہ يہ كوشش رہى ہے كہ حضرت على (ع) سے مربوط ہر كام ميں عيب نكاليں يہاں تك كہ نوبت ان كے بھائي جعفر اور ان كے والد ابوطالب(ع) تك بھى جا پہنچى _بلكہ ہم تو ديكھتے ہيں كہ ان كے حق ميں مختلف فرقوں كے نزديك صحيح سند كے ساتھ ثابت كوئي فضيلت ايسى نہيں جس كى نظير خلفاء ثلاثہ كيلئے بھى بيان نہ كى گئي ہو (البتہ ضعيف اسناد كے ساتھ) تمام تعريفيں اس خدا كيلئے ہيں اور برہان كامل بھى اس كى ہى ہے_

ہم يقين كے ساتھ كہتے ہيں كہ اگر ابوسفيان يا حضرت على (ع) كے ديگر دشمنوں كے آباء و اجداد ميں سے كسي

________________________________________

1_ البداية و النہاية ج 3 ص 41 نيز رجوع كريں السيرة النبوية (دحلان) ج 1 ص 46_

202

ايك نے بھى ابوطالب(ع) جيسى خدمات كا دسواں حصہ انجام ديا ہوتا تو اس كى خوب تعريفيں ہوتيں اور اسے زبردست خراج تحسين پيش كياجاتا _اس كى شان ميں احاديث كے ڈھير لگ جاتے_ نيز دنيوى و اخروى لحاظ سے اس كى كرامتوں اور شفاعتوں كا زبردست چرچاہوتا بلكہ ہر زمانے اور ہر مقام پر ان چيزوں ميں مسلسل اضافہ ہى ہوتا رہتا_

عجيب بات تو يہ ہے كہ معاويہ كا باپ ابوسفيان جس نے حضرت عثمان (كے خليفہ بننے كے بعد ان )كى محفل ميں يہ كہا: '' يہ حكومت تيم اور عدى سے ہوتے ہوئے اب تم تك آئي ہے اسے اپنے درميان گيند كى طرح لڑھكا تے رہو اور بنى اميہ كو اس حكومت كے ستون بناؤ ، كيونكہ يہ تو صرف حكومت كا كھيل ہے_ قسم ہے اس كى جس كى ابوسفيان قسم كھاتا ہے نہ جنت كى كوئي حقيقت ہے نہ جہنم كي''(1) وہ تو ان كى نظر ميں مؤمن متقى عادل اور معصوم ٹھہرا ليكن حضرت ابوطالب (بہ الفاظ ديگر حضرت علي(ع) كے والد) كافر و مشرك ٹھہرے اور جہنم كے ايك حوض ميں ان كا ٹھكانہ ہو جس كى آگ ان كے ٹخنوں تك پہنچے اور جس كى حرارت سے ان كا دماغ كھولنے لگے_ (نعوذ بالله من ذلك) آگے آگے ديكھئے ہوتا ہے كيا

ابولہب اور پيغمبر(ص) كى نصرت؟

مذكورہ بالا معروضات كے بعداس بات كى طرف اشارہ ضرورى ہے جس كا بعض لوگ اس مقام پر ذكر كرتے ہيں اور وہ يہ كہ ابوطالب(ع) كى وفات كے بعد ابولہب نے پيغمبر(ص) كى مدد كرنے كيلئے اپنى آمادگى كا اعلان كيا _ قريش نے از راہ حيلہ ابولہب سے كہا كہ پيغمبر(ص) كہتا ہے كہ تمہارا باپ عبدالمطلب جہنمى ہے_ ابولہب نے پيغمبر(ص) سے سوال كيا تو آپ(ص) نے اسے جو جواب ديا وہ ان لوگوں كے قول كے مطابق تھا پس ابولہب نے آپ(ص) كى مدد سے ہاتھ كھينچ ليا پھر زندگى بھر آپ(ص) كى دشمنى اختيار كي_ (2)

________________________________________

1_ النزاع و التخاصم ص 20 عجيب بات يہ بھى ہے كہ معاويہ جس كے باپ كے نظريات او پر مذكور ہوچكے ہيں اور بيٹا يزيد جو يہ كہتا ہو كہ ''لعبت ہاشم بالملك فلا خبر جاء و لا وحى نزل'' بنى ہاشم نے حكومت كا كھيل كھيلا وگرنہ حقيقت ميں نہ تو كوئي خبر آئي ہے نبوت كى اور نہ ہى كوئي وحى اترى ہے _ يہ سب كے سب اور ان كے ماننے والے تو پكے مسلمان ليكن ابوطالب اورانہيں مسلمان ماننے والے ... ؟ از مترجم _

2_ بطور مثال رجوع كريں : البداية والنہاية ج3 ص 43 از ابن جوزى اور تاريخ الخميس ج1 ص 302_

203

ہميں يقين ہے كہ يہ واقعہ جھوٹا ہے اور اس كى وجوہات درج ذيل ہيں_

پہلى وجہ: يہ ہے كہ ابولہب كو پيغمبر(ص) كے ساتھ دس سالہ دشمنى كے دوران كيونكر علم نہ ہوا كہ پيغمبر(ص) اور اسلام كا نقطہ نظر حالت شرك ميں مرنے والے ہر شخص كے بارے ميں يہى ہے كہ وہ جہنمى ہوتا ہے؟ پھر وہ اتنى مد ت تك كس بنا پر پيغمبر(ص) كا مقابلہ كرتا رہا؟

نيز اس نے حضرت ابوطالب(ع) كى زندگى ميں حضوراكرم(ص) سے كيوں دشمنى كى اور ان كى وفات كے بعد آپ(ص) كى حمايت اور نصرت پر كيوں اتر آيا؟ وہ بتائيں كہ ابوطالب(ع) نے ابولہب كى روش كيوں نہيں اپنائي اورابولہب نے حضرت ابوطالب(ع) كى روش كيوں اختيار نہيں كي؟

دوسرى وجہ: ہم پہلے ہى بيان كرچكے كہ عبدالمطلب مشرك نہيں تھے بلكہ سچے مؤمن تھے_

يہ روايت كيوں گھڑى گئي؟

اس روايت كو جعل كرنے كى وجہ شايد يہ تأثر دينا ہو كہ حضرت ابوطالب كى حمايت خاندانى جذبے، نسلى تعصب يا بھتيجے كے ساتھ فطرى محبت كى بنا پر تھي_ ليكن يہاں يہ سوال اٹھتا ہے كہ اس سے قبل ابولہب كا خاندانى تعصب اور جذبہ كہاں تھا؟ يا بھتيجے كے ساتھ اس كى فطرى محبت كہاں گئي ہوئي تھي؟ خاص كر اس وقت جب قريش نے بنى ہاشم كا شعب ابوطالب ميں محاصرہ كرركھا تھا اور وہ بھوك كى وجہ سے قريب المرگ ہوگئے تھے؟

نيز اس كے بعد بھى اس كا قومى اور خاندانى جذبہ كہاں چلاگيا؟ ابولہب ہى تھا جو آنحضرت(ص) كو ستانے اور لوگوں كو آپ(ص) سے دور ركھنے كيلئے جگہ جگہ آپ(ص) كا تعاقب كرتا تھا _حضرت ابوطالب(ع) كى قربانيوں كے ذكر ميں ہم نے اس بارے ميں بعض عرائض پيش كئے تھے، لہذا ان كا اعادہ مناسب نہيں_

 -----------------------------------

استفادہ از سایٹ http://balaghah.net/old/nahj-htm/urdo/id/maq/9005/007.htm

حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی مختصر سوانح حیات

حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی مختصر سوانح حیات

 

حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی مختصر سوانح حیات
حضرت زینب سلام اللہ علیہا امام علی(علیہ السلام) اور حضرت زہرا(سلام اللہ علیہا) کی بیٹی ہیں جو سنہ 5 یا 6 ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوئیں۔ آپ امام حسین(علیہ السلام) کے ساتھ کربلا میں موجود تھیں اور 10 محرم الحرام سنہ 61 ہجری کو جنگ کے خاتمے کے بعد اہل بیت(علیھم السلام)کے ایک گروہ کے ساتھ لشکر یزید کے ہاتھوں اسیر ہوئیں اور کوفہ اور شام لے جائی گئیں۔ انھوں نے اسیری کے دوران، دیگر اسیروں کی حفاظت و حمایت کے ساتھ ساتھ، اپنے غضبناک خطبوں کے توسط سے بےخبر عوام کو حقائق سے آگاہ کیا۔ حضرت زینب(سلام اللہ علیہا) نے اپنی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے تحریک عاشورا کی بقاء کے اسباب فراہم کئے۔ تاریخی روایات کے مطابق سیدہ زینب(سلام اللہ علیہا) سنہ 63 ہجری کو دنیا سے رخصت ہوئیں اور دمشق میں دفن ہوئیں۔

آپ کی ولادت:
حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی تاریخ ولادت کے بارے میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے معتبر ترین روایت کے مطابق آپ کی ولادت ۵ جمادی الاول سن ۶ ہجری کو مدینہ میں ہوئی۔

رسول خدا ص کا گریہ کرنا:
جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت کے موقع پر علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر تشریف لائے تو آپ نے نومولود بچی کو اپنی آغوش میں لیا۔ اس کو پیار کیا اور سینے سے لگایا۔ اس دوران علی علیہ السلام  و فاطمہ سلام اللہ علیہا نے دیکھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونچی آواز سے گریہ کر رہے ہیں۔ جناب فاطمہ س نے آپ ص سے رونے کی وجہ پوچھی تو آپ ص نے فرمایا: "بیٹی، میری اور تمہاری وفات کے بعد اس پر بہت زیادہ مصیبتیں آئیں گی"۔

والدین

حضرت زینب(س) کے والد گرامی امیرالمؤمنین علی(علیہ السلام) اور آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ) ہیں۔

اسم مبارک

روایات میں ملتا ہے کہ جب حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت مبارک ہوئی تو پیغمبر اکرم ص مدینہ میں نہیں تھے۔ لہذا حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے حضرت امام علی علیہ السلام کو کہا کہ آپ اس بچی کیلئے کوئی نام انتخاب کریں۔ آپ نے جواب دیا کہ رسول خدا ص کے واپس آنے کا انتظار کر لیا جائے۔ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپس آئے تو حضرت علی علیہ السلام نے انہیں یہ خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ اس بچی کا نام آپ انتخاب کریں۔ آپ (ص) نے فرمایا کہ اس کا نام خدا انتخاب کرے گا۔ اسی وقت جبرئیل نازل ہوئے اور خدا کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا کہ "خدا نے اس بچی کا نام "زینب" رکھا ہے۔

القاب

ثانیِ زہرا، عالمہ غیر معلمہ، نائبۃ الزھراء، عقیلہ بنی ہاشم، نائبۃ الحسین، صدیقہ صغری، محدثہ، زاہدہ، فاضلہ، شریکۃ الحسین، راضیہ بالقدر والقضاء۔

کنیت

حضرت زینب(ع) کی کنیتوں میں ام کلثوم اور ام المصائب معروف و مشہور ہیں

حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی شادی:
آپ کی شادی ۱۷ ہجری میں اپنے چچا کے بیٹے عبداللہ ابن جعفر ابن ابیطالب سے ہوئی۔ عبداللہ حضرت جعفر طیار کے فرزند تھے اور بنی ہاشم کے کمالات سے آراستہ تھے۔ آپ کے چار فرزند تھے جنکے نام محمد، عون، جعفر اور ام کلثوم ہیں۔

شھادت

 یکشنبہ (اتوار) کی رات 15 رجب سنہ 63 ہجری کو اپنے شریک حیات عبداللہ بن جعفر کے ہمراہ سفر شامکے دوران شھادت اور وہیں دفن ہوئیں اور بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ آپ مدینہ یا مصر میں دفن ہیں۔

حضرت زینب س کے خطبات:
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبات میں ان کے والد امام علی علیہ السلام کی فصاحت اور بلاغت کی جھلک نظر آتی ہے۔ لہذا جس طرح امیرالمومنین علی علیہ السلام کے کلام کو بزرگ علماء نے قیمتی موتیوں کی طرح جمع کیا ہے اسی طرح حضرت زینب س کے خطبات کو بھی بڑے بڑے محققین اور تاریخ دانوں نے اپنی کتابوں کی زینت بنایا ہے۔ ان میں مرحوم محمد باقر مجلسی کی کتاب "بحارالانوار"، مرحوم ابومنصور احمد ابن علی طبرسی کی کتاب "احتجاج"، شیخ مفید رہ کی کتاب "امالی" اور احمد ابن ابی طاہر کی کتاب "بلاغات النساء" شامل ہیں۔
۱- بازار کوفہ میں حضرت زینب س کا خطبہ:
کوفہ کے زن و مرد جو ہزاروں کی تعداد میں یہ نظارہ دیکھنے کے لئے وہاں جمع تھے آلِ رسول ص کو اس تباہ حالت میں دیکھ کر زار و قطار رونے لگے۔ امام زین العابدین نے نحیف و نزار آواز کے ساتھ فرمایا: "تنوحون وتبکون من ذاالذی قتلنا"
اے کوفہ والو! یہ تو بتاؤ ہمیں قتل کس نے کیا ہے؟
اسی اثنا میں ایک کوفی عورت نے چھت سے جھانک کر دیکھا اور پوچھا کہ تم کس قوم اور قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو؟۔ آپ نے فرمایا: "نحن اساری آلِ محمد ص"۔ ہم خاندانِ نبوت کے اسیر ہیں۔
یہ سن کر وہ نیک بخت عورت نیچے اتری اور کچھ برقعے اور چادریں اکٹھی کر کے ان کی خدمت میں پیش کیں۔
اس وقت عقیلہ بنی ہاشم حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے خطبہ ارشاد فرمایا۔ لوگوں کی آہ و زاری اور شور کی وجہ سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ لیکن راوی بتاتے ہیں کہ جونہی شیر خدا کی بیٹی نے لوگوں کو ارشاد کیا کہ "انصتوا" [خاموش ہو جاؤ]، تو کیفیت یہ تھی کہ "ارتدت الانفاس و سکنت الاجراس"، آتے ہوئے سانس رک گئے اور جرس کارواں کی آوازیں خاموش ہو گئیں۔ اس کے بعد دختر علی ع نے خطبہ شروع کیا تو لوگوں کو حضرت علی علیہ السلام کا لب و لہجہ یاد آ گیا۔
جب ہر طرف مکمل خاموشی چھا گئی تو امّ المصائب نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا:
"سب تعریفیں خدا وند ذوالجلال و الاکرام کے لئے ہیں اور درود و سلام ہو میرے نانا محمد ص پر اور ان کی طیب و طاہر اور نیک و پاک اولاد پر۔ اما بعد! اے اہلِ کوفہ! اے اہل فریب و مکر! کیا اب تم روتے ہو؟ خدا کرے تمھارے آنسو کبھی خشک نہ ہوں اور تمھاری آہ و فغان کبھی بند نہ ہو۔ تمھاری مثال اس عورت جیسی ہے جس نے بڑی محنت و جانفشانی سے محکم ڈوری بانٹی اور پھر خود ہی اسے کھول دیا اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیا تم منافقانہ طورپر ایسی جھوٹی قسمیں کھاتے ہو جن میں کوئی صداقت نہیں۔ تم جتنے بھی ہو، سب کے سب بیہودہ گو، ڈینگ مارنے والے ، پیکر فسق و فجور اور فسادی، کینہ پرور اور لونڈیوں کی طرح جھوٹے چاپلوس اور دشمنی کے غماز ہو۔ تمھاری مثال کثافت[گندگی] پر اگنے والے سبزے یا اس چاندی جیسی ہے جو دفن شدہ عورت (کی قبر) پر رکھی جائے۔
آگاہ رہو! تم نے بہت ہی برے اعمال کا ارتکاب کیا ہے۔ جس کی وجہ سے خدا وند عالم تم پر غضب ناک ہے۔ اس لئے تم اس کے ابدی عذاب و عتاب میں گرفتار ہو گئے۔ اب کیوں گریہ و زاری کرتے ہو؟ ہاں بخدا البتہ تم اس کے سزاوار ہو کہ روؤ زیادہ اور ہنسو کم۔ تم اپنے امام علیہ السلام کے قتل میں ملوث ہو چکے ہو اور تم اس داغ کو کبھی دھو نہیں سکتے اور بھلا تم خاتم نبوت اور معدن رسالت کے سلیل (فرزند) اور جوانان جنت کے سردار، جنگ میں اپنے پشت پناہ، مصیبت میں جائے پناہ، منار حجت اور عالم سنت کے قتل کے الزام سے کیونکر بری ہو سکتے ہو۔ لعنت ہو تم پر اور ہلاکت ہے تمہارے لئے۔ تم نے بہت ہی برے کام کا ارتکاب کیا ہے اور آخرت کے لئے بہت برا ذخیرہ جمع کیا ہے۔ تمھاری کوشش رائیگاں ہو گئی اورتم برباد ہو گئے۔ تمہاری تجارت خسارے میں رہی اور تم خدا کے غضب کا شکار ہو گئے۔ تم ذلت و رسوائی میں مبتلا ہوئے۔ افسوس ہے اے اہل کوفہ تم پر، کچھ جانتے بھی ہو کہ تم نے رسول خدا ص کے کس جگرگوشہ کو پارہ پارہ کر دیا ؟ اور ان کا کون سا خون بہایا ؟ اور ان کی کون سی ہتک حرمت کی؟ اور ان کی کن مستورات کو بے پردہ کیا ؟ تم نے ایسے پست اعمال کا ارتکاب کیا ہے کہ آسمان گر پڑیں، زمین پھٹ جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ تم نے قتلِ امام ع کا سنگین جرم کیا ہے جو وسعت میں آسمان و زمین کے برابر ہے۔ اگر اس قدر بڑے گناہ پر آسمان سے خون برسے تو تعجب نہ کرو۔ یقیناً آخرت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ سخت اور رسوا کن ہو گا۔ اور اس وقت تمہاری کوئی امداد نہ کی جائے گی۔ تمہیں جو مہلت ملی ہے اس سے خوش نہ ہو کیونکہ خدا وندِ عالم بدلہ لینے میں جلدی نہیں کرتا اور اسے انتقام کے فوت ہو جانے کا خدشہ نہیں ہے۔ یقیناً تمہارا خدا اپنے نا فرمان بندوں کی گھات میں ہے'۔

۲ دربار یزید میں حضرت زینب س کا خطبہ:
"بسم اللہ الرحمن الرحیم
سب تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو کائنات کا پروردگار ہے۔ اور خدا کی رحمتیں نازل ہوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پراور ان کی پاکیزہ عترت و اہل بیت ع پر۔ اما بعد ! بالاخر ان لوگوں کا انجام برا ہے جنہوں نے اپنے دامن حیات کو برائیوں کی سیاہی سے داغدار کر کے اپنے خدا کی آیات کی تکذیب کی اور آیات پروردگار کا مذاق اڑایا۔ اے یزید! کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے[زمین و آسمان] تنگ کر دئیے ہیں اور کیا آلِ رسول (ص) کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر دربدر پھرانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرفراز اور ہم رسوا ہوئے ہیں؟۔ کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر ذلیل ہو گئے اور تو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے؟۔ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے خدا کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے؟۔ آج تو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے اور ناک بھوں چڑھاتا ہوا مسرت و شادمانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اترا رہا ہے۔ اور زمامداری[خلافت] کے ہمارے مسلمہ حقوق کو غصب کر کے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے۔
اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور ذرا دم لے۔
کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے یہ خیال نہ کریں کہ ہم نے انہیں جو مہلت دی ہے وہ ان کے لئے بہتر ہے۔ بلکہ ہم نے انہیں اس لئے ڈھیل دے رکھی ہے کہ جی بھر کر اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں۔اور ان کے لئے خوفناک عذاب معین و مقرر کیا جا چکا ہے۔
اے طلقاء کے بیٹے (آزاد کردہ غلاموں کی اولاد) کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں رکھا ہوا ہے جبکہ رسول زادیوں کو سر برہنہ در بدر پھرا رہا ہے۔ تو نے مخدرات عصمت کی چادریں لوٹ لیں اور ان کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا۔ تیرے حکم پر اشقیاء نے رسول زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر بہ شہر پھرایا۔ تیرے حکم پر دشمنان خدا، اہل بیت رسول (ص) کی پاکدامن مستورات کو ننگے سر لوگوں کے ہجوم میں لے آئے۔ اورلوگ رسول زادیوں کے کھلے سر دیکھ کر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں اور دور و نزدیک کے رہنے والے سب لوگ ان کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے ہیں۔ ہر شریف و کمینے کی نگاہیں ان پاک بی بیوں کے ننگے سروں پر جمی ہیں۔
آج رسول زادیوں کے ساتھ ہمدردی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
آج ان قیدی مستورات کے ساتھ ان کے مرد موجود نہیں ہیں جو اِن کی سرپرستی کریں۔
آج آلِ محمد ص کا معین و مددگار کوئی نہیں ہے۔
اس شخص سے بھلائی کی توقع ہی کیا ہو سکتی ہے جو اس خاندان کا چشم و چراغ ہو جس کی بزرگ خاتون (یزید کی دادی) نے پاکیزہ لوگوں کے جگر چبا کر تھوک دیا۔ اور اس شخص سے انصاف کی کیا امید ہو سکتی ہے جس کا گوشت پوست شہیدوں کے خون سے بنا ہو۔
وہ شخص کس طرح ہم اہل بیت پر مظالم ڈھانے میں کمی کر سکتا ہے جو بغض و عداوت اور کینے سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ ہمیں دیکھتا ہے۔
اے یزید ! کیا تجھے شرم نہیں آتی کہ تو اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرنے اور اتنے بڑے گناہ کو انجام دینے کے باوجود فخر و مباہات کرتا ہوا یہ کہہ رہا ہے کہ آج اگر میرے اجداد موجود ہوتے تو ان کے دل باغ باغ ہو جاتے اور مجھے دعائیں دیتے ہوئے کہتے کہ اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں۔
اے یزید ! کیا تجھے حیا نہیں آتی کہ تو جوانانِ جنت کے سردار حسین ابن علی ع کے دندان مبارک پر چھڑی مار کر ان کی بے ادبی کر رہا ہے۔
اے یزید، تو کیوں خوش نہ ہو اور فخر و مباہات کے قصیدے نہ پڑھے کیونکہ تو نے اپنے ظلم و استبداد کے ذریعے ہمارے دلوں کے زخموں کو گہرا کر دیا ہے اور شجرہ طیبہ کی جڑیں کاٹنے کے گھناؤنے جرم کا مرتکب ہوا ہے۔
تو نے اولاد رسول (ص) کے خون میں اپنے ہاتھ رنگین کئے ہیں۔
تو نے عبدالمطلب کے خاندان کے ان نوجوانوں کو تہہ تیغ کیا ہے جن کی عظمت و کردار کے درخشندہ ستارے زمین کے گوشے گوشے کو منور کیے ہوئے ہیں۔
آج تو آلِ رسول (ص) کو قتل کر کے اپنے بد نہاد[برے] اسلاف کو پکار کر انہیں اپنی فتح کے گیت سنانے میں منہمک ہے۔
تو عنقریب اپنے ان کافر بزرگوں کے ساتھ جا ملے گا اور اُس وقت اپنی گفتار و کردار پر پشیمان ہو کر یہ آرزو کرے گا کہ کاش میرے ہاتھ شل ہو جاتے اور میری زبان بولنے سے عاجز ہوتی اور میں نے جو کچھ کیا اور کہا اس سے میں باز رہتا۔
اس کے بعد حضرت زینب نے آسمان کی طرف منہ کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کی !
اے ہمارے کردگارِ حق، تو ہمارا حق ان ظالموں سے ہمیں دلا دے اور تو ہمارے حق کا بدلہ ان سے لے۔
اے پردگار تو ہی ان ستمگروں سے ہمارا انتقام لے۔
اور اے خدا تو ہی ان پر اپنا غضب نازل فرما جس نے ہمارے عزیزوں کو خون میں نہلایا اور ہمارے مددگاروں کو تہہ تیغ کر دیا۔
اے یزید ! تو نے جو ظلم کیا ہے اپنے ساتھ کیا ہے۔ تو نے کسی کی نہیں بلکہ اپنی ہی کھال چاک کی ہے۔ اور تو نے کسی کا نہیں بلکہ اپنا ہی گوشت کاٹا ہے۔ تو رسولِ خدا ص کے سامنے ایک مجرم کی صورت میں لایا جائے گا اور تجھ سے تیرے اس گھناؤنے جرم کی باز پرس ہو گی کہ تو نے اولادِ رسول ص کا خونِ ناحق کیوں بہایا اور رسول زادیوں کو کیوں دربدر پھرایا۔ نیز رسول (ص) کے جگر پاروں کے ساتھ ظلم کیوں روا رکھا۔
اے یزید ! یاد رکھ کہ خدا، آلِ رسول (ص) کا تجھ سے انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق انہیں دلائے گا۔ اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالامال کر دے گا۔ خدا کا فرمان ہے کہ تم گمان نہ کرو کہ جو لوگ راہِ خدا میں مارے گئے وہ مر مٹ چکے ہیں۔ بلکہ وہ ہمیشہ کی زندگی پا گئے اور بارگاہِ الٰہی سے روزی پا رہے ہیں۔
اے یزید ! یاد رکھ کہ تو نے جو ظلم آلِ محمد ص پر ڈھائے ہیں اس پر رسول خدا ص عدالتِ الٰہی میں تیرے خلاف شکایت کریں گے۔ اور جبرائیلِ امین آلِ رسول ص کی گواہی دیں گے۔ پھر خدا اپنے عدل و انصاف کے ذریعے تجھے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا۔ اور یہی بات تیرے برے انجام کے لئے کافی ہے۔
عنقریب وہ لوگ بھی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے جنہوں نے تیرے لئے ظلم و استبداد کی بنیادیں مضبوط کیں اور تیری آمرانہ سلطنت کی بساط بچھا کر تجھے اہل اسلام پر مسلط کر دیا۔ ان لوگوں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ ستمگروں کا انجام برا ہوتا ہے اور کس کے ساتھی ناتوانی کا شکار ہیں۔
اے یزید ! یہ گردش ایام اور حوادث روزگار کا اثر ہے کہ مجھے تجھ جیسے بدنہاد[برے انسان] سے ہمکلام ہونا پڑا ہے اور میں تجھ جیسے ظالم و ستمگر سے گفتگو کر رہی ہوں۔ لیکن یاد رکھ میری نظر میں توُ ایک نہایت پست اور گھٹیا شخص ہے جس سے کلام کرنا بھی شریفوں کی توہین ہے۔ میری اس جرأت سخن پر توُ مجھے اپنے ستم کا نشانہ ہی کیوں نہ بنا دے لیکن میں اسے ایک عظیم امتحان اور آزمائش سمجھتے ہوئے صبر و استقامت اختیار کروں گی اور تیری بد کلامی و بد سلوکی میرے عزم و استقامت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔
اے یزید ! آج ہماری آنکھیں اشکبار ہیں اور سینوں میں آتش غم کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ شیطان کے ہمنواؤں اور بدنام لوگوں نے رحمان کے سپاہیوں اور پاکباز لوگوں کو تہہ تیغ کرڈالا ہے۔ اور ابھی تک اس شیطانی ٹولے کے ہاتھوں سے ہمارے پاک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ ان کے ناپاک دہن ہمارا گوشت چبانے میں مصروف ہیں اور صحرا کے بھیڑئے ان پاکباز شہیدوں کی مظلوم لاشوں کے ارد گرد گھوم رہے ہیں اور جنگل کے نجس درندے ان پاکیزہ جسموں کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔
اے یزید ! اگر آج تو ہماری مظلومیت پر خوش ہو رہا ہے اور اسے اپنے دل کی تسکین کا باعث سمجھ رہا ہے تو یاد رکھ کہ جب قیامت کے دن اپنی بد کرداری کی سزا پائے گا تو اس کا برداشت کرنا تیرے بس سے باہر ہو گا۔ خدا عادل ہے اور وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ ہم اپنی مظلومیت اپنے خدا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اور ہر حال میں اسی کی عنایات اور عدل و انصاف پر ہمارا بھروسہ ہے۔
اے یزید ! تو جتنا چاہے مکر و فریب کر لے اور بھر پور کوشش کر کے دیکھ لے مگر تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ تو نہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحی الٰہی کے پاکیزہ آثار محو کر سکتا ہے۔
تو یہ خیال خام اپنے دل سے نکال دے کہ ظاہر سازی کے ذریعے ہماری شان و منزلت کو پا لے گا۔
تو نے جس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا بد نما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو پائے گا۔ تیرا نظریہ نہایت کمزور اور گھٹیا ہے۔
تری حکومت میں گنتی کے چند دن باقی ہیں۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ تیرے پاس اس دن کے لئے حسرت و پریشانی کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا۔ جب منادی ندا کرے گا کہ ظالم و ستمگر لوگوں کے لئے خدا کی لعنت ہے ۔
ہم خدائے قدوس کی بارگاہ میں سپاس گزار ہیں کہ ہمارے خاندان کے پہلے فرد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سعادت و مغفرت سے بہرہ مند فرمایا اور ہمارے آخر (امام حسین علیہ السلام) کو شہادت و رحمت کی نعمتوں سے نوازا۔ ہم بارگاہِ ایزدی میں دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے شہیدوں کے ثواب و اجر میں اضافہ و تکمیل فرمائے اور ہم باقی سب افراد کو اپنی عنایتوں سے نوازے، بے شک خدا ہی رحم و رحمت کرنے والا اور حقیقی معنوں میں مہربان ہے۔ خدا کی عنایتوں کے سوا ہمیں کچھ مطلوب نہیں اور ہمیں صرف اور صرف اسی کی ذات پر بھروسہ ہے اس لئے کہ اس سے بہتر کوئی سہارا نہیں ہے"۔
مراجع:
۱- اخبار الزینبات، عقیلۃ الوحی،
۲- فاطمۃ الزھرا، بہجۃ قلب مصطفی،
۳- زینب کبری،

مرقدحضرت زینب سلام اللہ علیہا

حضرت السیدہ زینب (سلام اللہ علیہا) کی قبر مطہر کے بارے میں تین احتمالات پائے جاتے ہیں: مدینہ منورہ، شام اور قاہرہ۔

اکثرسیرت نویسوں نے اس مقدس خاتون کے مرقد کو " قاہرہ" اور"شام" بتایا ہے۔

یحیی بن حسن حسینی عبیدلی اعرجی نے کتاب" اخبار زینبیات" میں اور بعض دوسرے سیرت نویسوں نے کہا ہے کہ: حضرت زینب (س) نے مصر میں وفات پائی ہے۔ علامہ حسنین سابقی نے اپنی کتاب" مرقد عقیلہ زینب" میں اور بعض دوسروں نے لکھا ہے کہ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کا مرقد شام اور دمشق میں واقع ہے۔

بعض دوسرے مصنفوں، جیسے: ڈاکٹر شہیدی اپنی کتاب " زندگانی فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا)" میں ان کا مرقد شک و شبہہ کی صورت میں شام اور مصر بیان کیا ہے۔

جنھوں نے یہ کہا ہے کہ حضرت زینب (س) کا مقبرہ مصر میں واقع ہے، انھوں نے یہ روایت نقل کی ہے کہ واقعہ کربلا کے اسراء کا کاروان شام سے مدینہ آنے کے بعد، مدینہ کے حالات نا آرام ہوئے۔

حاکم مدینہ نے یزید کو ایک خط لکھا اور اس خط میں مدینہ میں رونما ہوئے حالات اور لوگوں کی بیداری اور مقاومت کے سلسلہ میں حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کے رول کی وضاحت کی۔ یزید نے جواب میں لکھا کہ زینب (سلام اللہ علیہا) کو مدینہ سے نکال دیں۔ حاکم مدینہ اصرار کرتا تھا کہ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) مدینہ سے نکلیں ۔ بالآخر زینب (سلام اللہ عیہا) نے مدینہ سے مصر ہجرت کی اور وہاں پر حاکم مصر اور مصر کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) نے تقریباً ایک سال گزرنے کے بعد 15 رجب سنہ 63ھ ق کو غروب کے وقت قاہرہ میں وفات پائی۔

لیکن جنہوں نے یہ کہاہے کہ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کا مقبرہ شام میں ہے، انھوں نے حاکم مدینہ کی اس داستان کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) شام چلی گئیں اس سلسلہ میں ایک اور روایت نقل کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ: جب سنہ 62ہجری قمری میں یزدیوں کے توسط سے مدینہ میں واقعہ حرّہ اور غارت اور قتل عام پیش آیا تو، عبداللہ بن جعفر، نے اپنی شریک حیات حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کے ہمراہ شام میں ایک مزرعہ (کھیت) کی طرف ہجرت کی تاکہ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کا غم تجدید نہ ہوجائے اور تھوڑا سا غم و اندوہ کم ہوجائے، اس کے علاوہ مدینہ میں طاعون کی بیماری پھیلی تھی اس لئے اس سے بچنے کے لئے عبداللہ بن جعفر حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کے ہمراہ شام چلے گئے اور وہاں پر سکونت اختیار کی، حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) بیمار ہوئیں اور وہیں پر وفات پائی۔ زینب کبری (سلام اللہ علیہا) کے بعد، ام کلثوم، حضرت علی (علیہ السلام) کی دوسری بیٹی جو فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا) کے بطن سے نہیں تھیں اور ان کا نام زینب صغری تھا، زینب کبری کے نام سے مشہور ہوئیں اور وہ مصر چلی گئیں۔

اگرچہ یقین کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہوگا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی قبر مطہر کہاں پر ہے، پھر بھی کہا جاسکتا ہے کہ: جو زیارت گاہیں اور اماکن اس مقدس خاتون سے منسوب ہیں، وہ خدا کے ذکر و توجہ اور انسان ساز اور شہیدوں اور اہل بیت (علیھم السلام) سے پیوند کی جگہیں ہیں۔ سب اس آیہ شریفہ:" یہ چراغ ان گھروں میں ہے جن کے بارے میں خدا کا حکم ہے کہ ان کی بلندی کا اعتراف کیا جائے اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے۔" کے مصداق ہیں۔ یہ جگیں اگرچہ صرف ان سے منسوب ہی ہوں، خدا کے ذکر اور توجہ اور انسان سازی اور شہیدوں اور اہل بیت (علیھم السلام) سے پیوند کی جگہیں ہیں۔ اہل بیت کی دفن کی جگہ جہاں پر بھی ہو، یہ اماکن ان کی یاد کو تازہ کرنے والے ہیں اور یہ یادیں عاشقوں کے دلوں میں قرار پاتی ہیں۔

تاریخ کربلا اور انقلاب زینبی:

تاریخ کربلا اور انقلاب زینبی (ع) میں ایک نیا باب کھلتا ہے زینب اس قافلے کی قافلہ سالار اور بزرگ ہیں کہ جسکے قافلہ سالار امام حسین تھے جس کے حامی عباس (ع) علی اکبر (ع) بنی ہاشم اور امام حسین (ع) کے باوفا اصحاب تھے ، وہ غیور مرد جن پر اہل بیت (ع) حرم اور بچوں کو ناز تھا جن کے وجود سے اہل بیت (ع) کو سکون تھا ۔

ایسی حمایت و نگہبانی تھی کہ سید شہدا (ع) کی حیات کے آخری لمحات تک دشمن خیموں کے پاس تک نہ بھٹک سکا ، جنگ کے دوران ابو عبد اللہ الحسین (ع) کی، لاحول ولا قوۃ الا باللہ کی آواز سے ان کی ڈہارس بندھی ہوئی تھی حسین (ع) اس طرح انھیں تسلی دے رہے تھے ۔

بہترین عزیزوں کی شہادت پر امام زین العابدین (ع) کے بعد اس قافلہ کی بزرگ خاندان پیغمبر (ص) سے ایک خاتون ہے کہ جس کے عزم و استقلال کے سامنے پہاڑ پشیمان، جس کے صبر پر ملائکہ محو حیرت ہیں، یہ علی (ع) کی بیٹی ہے، فاطمہ (س) کی لخت جگر ہے ۔ بنی امیہ کے ظلم کے قصروں کی بنیاد ہلانے والی ہے ، ان کو پشیمان و سرنگوں کرنے والی ہے جناب زینب تھیں ۔

یہ وہی سیدہ زینب (س) ہے جو اپنے امام (ع) کے حکم سے اولاد فاطمہ (س) کے قافلہ کی سرپرستی کرتی ہیں ، بڑی مصیبتیں اٹھانے کے بعد امام حسین (ع) اور ان کے فداکار اصحاب کے خونی پیغام کو لوگوں تک پہنچاتی ہیں ۔

عباس محمود عقاد مصر کے معروف مصنف نے لکھا ہے کہ:

جب زینب نے سنا کہ ابن زیاد نے علی ابن حسین کے قتل کرنے کا حکم دیا ہے، تو اس نے بے درنگ فوری خود کو اپنے وقت کے امام اور اپنے بھائی کے بیٹے کے پاس پہنچایا اور ابن زیاد کو اس کے قتل کرنے سے روکا، اس جرات اور شجاعت نے ابن زیاد اور اس کے دربار میں موجود ہر بندے کو حیران کر دیا۔ یقینی طور پر اگر زینب کی یہ جرات اور شجاعت نہ ہوتی تو نزدیک تھا کہ امام حسین کی نسل کی آخری یادگار بھی ختم ہو جاتی۔

محمدجواد مغنیہ لبنان کے متفکر نے لکھا ہے کہ:

علی (ع) نے علوم کو رسول خدا بغیر کسی واسطے کے حاصل کیا تھا اور ان علوم کو اپنی اولاد کو سیکھایا تھا اور ہم تک یہ تمام علوم علی (ع) کی اولاد کے ذریعے سے پہنچے ہیں۔ اسی وجہ سے بنی امیہ نے چاہا کہ نسل علی ختم کر دیں اور انکا کوئی بھی اثر باقی نہ رہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ: شمر نے کہا تھا کہ امیر عبید اللہ کا فرمان ہے کہ: حسین کی تمام اولاد کو قتل کیا جائے اور کوئی بھی زندہ نہ بچے۔

شمر نے یہ بات اس وقت کہی تھی کہ جب علی ابن حسین کو قتل کرنے کے لیے تلوار کو نیام سے نکالا ہوا تھا، اسی وقت زینب سامنے آئی اور کہا کہ: اگر اسکو قتل کرنا ہے تو پہلے مجھے بھی ساتھ قتل کرنا ہو گا۔

شیخ صدوق نے لکھا ہے کہ: حضرت زینب کو خاص نیابت امام حسین کی طرف سے ملی  ہوئی تھی، اسی لیے لوگ حلال و حرام کے مسائل میں اس سے رجوع کیا کرتے تھے، لیکن جب امام سجاد کی صحت بہتر ہو گئی تو پھر وہ یہ کام امام وقت ہونے کی وجہ سے انجام دیتے تھے۔

علامہ مامقانی نے كتاب شریف تنقیح المقال میں لکھا ہے کہ:

حضرت زینب، امام کی مقام عصمت پر فائز تھیں اور اگر یہ مقام ان کے پاس نہ ہوتا تو امام معصوم امام حسین بالکل انکو امامت اور راہنمائی کا فریضہ نہ سونپتے، یعنی جب امام سجاد بیمار تھے، تمام امور امامت اور لوگوں کے حلال حرام کے مسائل بی بی زینب ہی انجام دیتی تھیں، لھذا یہ علامت ہے کہ وہ نائب امام ہونے کے خاص مقام پر فائز تھیں۔

احتجاج طبرسی میں ذکر ہوا ہے کہ: جب علی (ع) کی بیٹی نے لوگوں کو خاموش ہونے کے لیے اشارہ کیا تو، اسی اشارے کی وجہ سے سانس لوگوں نے سینوں میں رک کر رہ گئے اور حتی اونٹوں کی گھنٹیوں کی آوازیں بھی بند ہو گئی۔

كمال السید، نے كتاب "زنی بہ نام زینب" میں لکھا ہے کہ: جب رسول خدا نے دنیا میں آنے کے بعد اپنی نواسی کو ہاتھوں پر اٹھایا، اسکو چوم کر فرمایا:

حاضر اور غائب تمام لوگوں تک یہ بات پہنچا دو کہ میری اس بیٹی کا احترام کریں، کیونکہ اس کا احترام بالکل خدیجہ کبری کی طرح ہے۔

کوفہ کی طرف انقلابی حرکت:

11 محرم سن 61 ہجری کو اہل بیت (ع) کے اسیروں کا قافلہ کربلا سے کوفہ کی طرف روانہ ہوا ، اہل بیت (ع) کے امور کی بھاگ دوڑ امام زین العابدین (ع) کے ہاتھ میں ہے کیونکہ آپ امام ہیں اور ان کی اطاعت کرنا سب پر واجب ہے، قافلہ سالار زینب کبری (س) ہیں ، جو امام  زین العابدین (ع) کی قریب ترین ہیں اور خواتین میں سب سے بزرگ ہیں ۔

راہ حق و حقیقت میں کربلا کی فرض شناس خواتین نے امام عالی مقام (ع) کی بہن حضرت زینب کبری (ع) کی قیادت میں ایمان و اخلاص کا مظاہرہ کرتے ہوئے صبر و تحمل اور شجاعت و استقامت کے وہ جوہر پیش کیے ہیں ۔ جس کی مثال تاریخ اسلام بلکہ تاریخ بشریت میں بھی ملنا ناممکن ہے ۔

کربلا کی شہادت و اسیری کے دوران خواتین نے اپنی وفاداری اور ایثار و قربانی کے ذریعہ اسلامی تحریک میں وہ رنگ بھرے ہیں کہ جن کی اہمیت کا اندازہ لگانا بھی دشوار ہے ۔ وہ خود پورے وقار و جلال کے ساتھ قتل و اسیری کی تمام منزلوں سے گزر گئیں اور شکوے کا ایک لفظ بھی زبان پر نہ آیا۔ نصرت اسلام کی راہ میں پہاڑ کی مانند ثابت قدم رہیں اور اپنے عزم و ہمت کے تحت کوفہ و شام کے بازاروں اور درباروں میں حسینیت کی فتح کے پرچم لہرا دئیے۔ حضرت زینب (س) اور ان کی ہم قدم و ہم آواز ام کلثوم (ع) ، رقیہ ( ع) ، رباب (ع) ، ام لیلی (ع) ، ام فروہ (ع) سکینہ (ع) ، فاطمہ (ع) اور عاتکہ (ع) نیز امام (ع) کے اصحاب و انصار کی صاحب ایثار خواتین نے شجاعت اور ایثار و قربانی کے وہ لازوال نقوش ثبت کیں۔

ظاہر ہے کہ ان خواتین اور بچوں کو سنبھالنا آسان کام نہیں ہے کہ جنہوں نے عاشور کے دن رنج و مشقت اور غم برداشت کیے تھے، دل خراش واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے اپنے عزیزوں کے داغ اٹھاۓ تھے اور اب وہ بے رحم دشمنوں کے محاصرہ میں ہیں اونٹ کی ننگی پیٹھ پر سوار کافر قیدیوں کی طرح لے جایا جا رہا ہے ۔

خواتین کے احساس و جذبات کا بھی خیال رکھنا ہے اور صورت حال میں امام زین العابدین (ع) کی جان کی حفاظت بھی کرنا ہے جو کہ قافلہ میں زینب کی سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری ہے وہ پیغام کربلا ہے کہ جو آپ کے ذمے ہے ، لیکن زینب کے حوصلہ میں حد سے زیادہ استقامت اور مقاومت ہے کہ وہ بڑی مشکلوں اور مصائب کے وحشتناک طوفانوں سے ہرگز نہ گھبرائیں اور مقصد امام حسین (ع) کو زندہ جاوید بنانے میں حضرت زینب نے تاریخی اور مثالی نمونہ پیش کیا ہے ۔

شام کی طرف انقلابی حرکت:

اسیروں کے قافلہ کو چند روز ابن زیاد کی بامشقت قید میں رکھ کر شام کی طرف روانہ کیا۔ جس وقت سے شام مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا تھا اس وقت ہی سے وہاں خالد بن ولید اور معاویہ ابن ابی سفیان جیسے لوگ حاکم رہے تھے ، اس علاقے کے لوگوں کو نہ پیغمبر (ص) کی صحبت میسر ہوئی اور نہ وہ آپ کے اصحاب کی روش سے واقف ہو سکے ،رسول خدا کہ چند صحابی جو اس سر زمین پر جا کر آباد ہوئے تھے یہ پراگندگی کی زندگی بسر کرتے تھے عوام میں ان کا کوئی اثر و رسوخ نہیں تھا ، نتیجہ میں وہاں کے مسلمان معاویہ ابن ابی سفیان کے کردار اور اس کے طرز زندگی کو ہی سنت اسلام سمجھتے تھے ۔

اسیروں کے قافلے کے شام میں داخل ہونے کے وقت ایسے ہی لوگوں نے شہر شام کو جشن و سرور سے معمور کر رکھا تھا ، یزید نے اپنے محل میں مجلس سجا رکھی تھی ، اس کے ہم قماش چاروں طرف بیٹھے تھے تا کہ سارے مل کر اس کامیابی کا جشن منائیں ۔

محسن نقوی نے کیا خوب کہا ہے :

آیاتِ حق کی چھائوں میں عصمت کا پھول تھیں

زینب کہیں علی تھیں کہیں پر بتول تھیں

اسلام کا سرمایہ ء تسکین ہے زینب

ایمان کا سلجھا ہوا آئین ہے زینب

حیدر کے خدوخال کی تزئین ہے زینب

شبیر ہے قرآن تو یاسین ہے زینب

باب الحوائج امام موسی کاظم علیہ السلام

باب الحوائج امام موسی کاظم علیہ السلام کی زندگانی پر ایک اجمالی نظر

تحریر:محمد لطیف مطہری کچوروی

آسمان ولایت کے ساتویں ستارے حضرت موسی کاظم علیہ السلام 7 صفر 128ھ کو مقام ابواء میں پیدا ہوئے، آپ کے والد بزرگوار حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام تھے اور مادر گرامی حمیدہ تھیں۔ ان کا تعلق ایک بافضیلت غیر عرب بزرگ خاندان سے تھا۔ امام صادق علیہ السلام نے ان کے بارے میں فرمایا " حمیدہ خالص سونے کی طرح پاک ہیں ہمارے اوپر اور ہمارے بعد والے امام  پر یہ خدا کا لطف ہے کہ ان کے قدموں کو اس نے ہمارے گھر تک پہونچایا "۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی ولادت کی خبر معلوم ہونے کے بعد فرمایا میرے بعد امام  اور خداوند کی بہتریں مخلوق نے ولادت پائی۔ اس نومولود کے لئے جس نام کا انتخاب کیا گیا وہ موسی تھا آپ کے مشہور القاب میں کاظم، عبد صالح، باب الحوائج اور آپ کی سب سے مشہور کنیت ابوالحسن ہے۔ امام موسی کاظم علیہ السلام نے بچپن ہی سے باپ کی نگرانی اور خاص تربیت کے تحت اور مہربان ماں کی نوازشوں کے سایہ میں مراحل کمال و رشد طے کئے اپنے زندگی کے بیس سال آپ نے اپنے پدر عالی قدر کی بافیض خدمت اور حیات کی تعمیر کرنے والے دبستان فکر میں گزارے اور تمام مدت میں تمام جگوں پر اپنے والد بزرگوار کے بلند اور بیش قیمت کاموں سے الھام حاصل کرتے اور ان کے علوم و دانش سے بہرہ ور ہوتے رہے۔

ابن حجر عسقلانی اہل سنت کے ایک بڑے دانش مند اور محدث لکھتے ہیں کہ موسی کاظم ( ع ) اپنے باپ کے علوم کے وارث اور صاحب فضل و کمال تھے آپ نے جب بہت زیادہ بردباری اور درگزر کا اظہار کیا تو کاظم کا لقب ملا۔ آپ کے زمانے میں معارف علمی اور علم و بخشش میں کوئی بھی شخص آپ کے پایہ کو نہیں پہونچ سکا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے کچھ لوگ آپ کے بڑے بیٹے اسماعیل کو خاندان کا چشم و چراغ شمار جانے کی بنا پر آئندہ کے لئے اپنا پیشوا اور امام سمجھتے تھے لیکن جوانی میں ہی اسماعیل کی موت نے انتظار کرنے والوں کو ناامید کر دیا۔
چھٹے امام ( ع ) نے بھی ان کی موت کی خبر کا اعلان کیا یہاں تک کہ بزرگان قوم کو ان کا جنازہ بھی دکھایا تاکہ ( ان کی امامت والے ) عقیدہ کی جڑوں کو خشک کر دیں۔ علی ابن جعفر نقل کرتے ہیں کہ میرے والد امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے اصحاب کی ایک جماعت سے کہا ’’ میرے بیٹے موسیٰ کے بارے میں میری وصیت قبول کرو اس لئے کہ میرے تمام بیٹوں اور ان لوگوں سے جو میرے بعد میری یادگار رہ جائیں گے، برتر ہیں اور میرے بعد میرے جانشین اور خدا کے تمام بندوں پر اس کی حجت ہیں "۔
موسی بن جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے والد کی رحلت کے بعد 148 میں 20 سال کی عمر میں اسلامی معاشرہ کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالی آپ اپنے امامت کے زمانہ میں جو 25 سال کی طویل مدت پر محیط ہے۔ اپنے عہد کے خلفاء منصور دوانقی، مھدی، ہادی اور ہارون الرشید کے معاصر رہے۔ اپنے والد بزرگوار کی رحلت کے بعد امام موسی کاظم علیہ السلام نے اس عظیم دانشکدہ کی علمی اور فکری رہبری کو اپنے ذمہ لیا جس کی بنیاد مدینہ میں پڑ چکی تھی اور آپ  نے بہت سے محدثین، مفسرین، فقہا، متکلمین اور تمام اسلامی دانشمندوں کی اپنے تربیتی مکتب فکر میں پرورش کی اور وسیع فقہ اسلامی کو اپنے جدید خیالات و نظریات سے غنی اور مالا مال کر دیا۔
امامؑ  کے شاگردوں کی روحانی عظمت اور ان کی علمی اور مجاہدانہ شخصیت نے مخالفین، خصوصا حکومت وقت کی آنکھوں کو خیرہ کردیا۔ ان کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ یہ کہیں اپنی اس حیثیت و محبوبیت کی بنا پر جو لوگوں کے درمیان ہے انقلاب برپا نہ کر دیں اس لئے وہ ہمیشہ ایسے افراد کو معین کرتے رہتے تھے جو ان کی کارکردگی کی نگرانی کر تے رہیں۔ خدا کی خصوصی معرفت آپ کو مزید عبادت اور پروردگار سے عاشقانہ راز و نیاز کی طرف کھینچتی تھی اس وجہ سے اجتماعی کاموں سے فراغت کے بعد آپ عبادت میں اپنا وقت گزارتے تھے۔
جب ہارون کے حکم سے آپ کو زندان میں ڈال دیا گیا تو آپ نے خدا کی بارگاہ میں عرض کیا پروردگارا ’’ مدتوں سے میں یہ چاہتا تھا کہ تو اپنے عبادت کے لئے مجھے فرصت دے دے اب میری خواہش پوری ہوگئی لہذا میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔ جب آپ قید خانے میں تھے اس وقت جب کبھی ہارون کوٹھے کے اوپر سے زندان کی طرف دیکھتا تھا تو یہ دیکھتا تھا کہ لباس کی طرح کوئی چیز زندان کے ایک گوشے میں پڑی ہے ایک بار اس نے پوچھ لیا کہ یہ کس کا لباس ہے؟ ربیع نے کہا یہ لباس نہیں ہے یہ موسی ابن جعفر ہیں جو زیادہ تر سجدہ کی حالت میں رہتے ہیں۔ ہارون نے کہا سچ ہے وہ بنی ہاشم کے بڑے عبادت گزار میں سے ہیں۔ ربیع نے پوچھا تو پھر اتنی سختی کیوں کرتا ہے؟ ہارون نے کہا افسوس اس کے سواء کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔
امام کاظم علیہ السلام اس دعا کو بہت پڑتے تھے ’’ اللهم انی اسئلک الراحۃ عند الموت والعفو عندالحساب: خدایا میں تجھ سے موت کے وقت آرام اور حساب کے وقت بخشش کا طلبگار ہوں امام موسی کاظم علیہ السلام کا درگزر اور ان کی بردباری بے نظیر اور دوسروں کے لئے نمونہ عمل تھی۔ مدینہ میں ایک شخص تھا وہ ہمیشہ امام ؑکو دشنام اور توہین کے ذریعے تکلیف پہنچاتا تھا امام کے کچھ صحابیوں نے یہ پیشکش کی اس کو درمیان سے ہٹا دیا جائے۔ امام ؑنے ان لوگوں کو اس کام سے منع کیا پھر اس کے بعد اس کے گھر کا پتہ پوچھ کر جو مدینہ سے باہر ایک کھیت میں تھا آپ تشریف لے گئے اور اسی حالت میں کہ آپ چوپائے پر سوار تھے اس کے کھیت میں داخل ہوئے وہ شخص چلانے لگا کہ ہمارے کھیت کو پامال نہ کریں جب آپ اس کے پاس پہنچے تو سواری سے اترنے کے بعد اس سے ہنس کر پوچھا " اس زراعت کے لئے کتنے پیسے تم نے خرچ کئے ہیں؟ اس نے کہا سو دینار آپ نے فرمایا کتنا فائدہ کی امید ہے اس نے جواب دیا دو سو دینار آپ  نے اس کو تین سو دینار مرحمت فرمائے اور کہا زراعت بھی تیری ہے۔ جس کی امید لگائے تھے خدا تجھ کو اتنا ہی دے گا، وہ شخص اٹھا اور اس نے امام موسی کاظم ( ع ) کے سر کو بوسہ دیا اور اس نے اپنے گناہوں سے در گزر کرنے کی خواہش ظاہر کی امام ( ع ) مسکرائے اور پلٹ گئے۔
جود و کرم، ساتویں امام ( ع ) کی صفتوں میں ایک بڑی نمایاں صفت تھی آپ  اپنے مالی امکانات کو جو کھیتی باڑی کے ذریعہ آپ نے حاصل کئے تھے اس طرح ضرورت مندوں کے حوالہ کر دیتے تھے کہ مدینہ میں ضرب المثل کے طور پر لوگ آپس میں کہا کرتے تھے ’’ اس شخص پر تعجب ہے جس کے پاس موسی ابن جعفر  کی بخشش و عطا کی تھیلی پہنچ چکی لیکن وہ پھر بھی تنگ دستی کا اظہار کرتے "۔ آپ کی سخاوت و کرم کے بارے میں ابن صباغ مالکی تحریر فرماتے ہیں " موسی کاظم علیہ السلام اپنے زمانے کے لوگوں میں عابد ترین، دانا ترین سب سے زیادہ اور پاک نفس شخص تھے آپ پیسے اور کھانے پینے کا سامان مدینہ کے ستم رسیدہ افراد تک پہونچاتے اور کسی خبر بھی نہیں ہوتی تھی کہ یہ چیزیں کہاں سے آئی ہیں مگر آپ کی رحلت کے بعد پتہ چلا"۔
امام موسی کاظم علیہ السلام ایک دفعہ  کریہ النظر شخص کے پاس سے گزرے آپ  نے اس کو سلام کیا اور باتیں کیں پھر حاجت پوری کرنے کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار فرمایا آپ سے کہا گیا کہ اے فرزند رسول کیا آپ ایسے شخص کے پاس بیٹھتے ہیں اور اس کی حاجتیں پوچھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا " وہ خدا کے بندوں میں ایک بندہ ہے اور خدا کی کتاب میں وہ ایک بھائی اور خدا کے شہروں میں وہ ہمسایہ ہے حضرت آدم جو بہتر پدر ہیں اس کے باپ ہیں اور آئین اسلام جو تمام دینوں میں بہتر دین ہے اس نے ہم کو اور اس کو باہم ربط دیا ہے "۔
ہارون کے جبر کے مقابل امام موسی کاظم علیہ السلام کے رویہ اس کو اس بات پر اکسایا کہ وہ امام کو نظر بند کرے اور لوگوں سے رابطہ کو منقطع کردے اس وجہ سے اس نے امام  کو گرفتار کیا اور زندان بھیج دیا لیکن مدینے سے باہر لے جانے کے لئے ہارون مجبور ہو کہ وہ کجاوے بنائے جائیں ور ہر کجاوہ کو مدینہ کے الگ الگ دروازوں سے باہر نکالا جائے اور ہر ایک ساتھ کچھ شہ سوار فوجی چلیں۔
حضرت موسی کاظم علیہ السلام پہلے بصرہ کے زندان میں لے جائے گئے اور ایک سال کے بعد ہارون کے حکم سے بغداد منتقل کر دیے گئے اور کسی کو ملاقات کی اجازت دئیے بغیر کئی سال تک قید میں رکھے گئے۔ آخرکار 25 رجب 183 ھ کو سندی بن شاہک کے قید خانے میں ہارون کے حکم سے زہر دیا گیا، تین دن کے بعد شھید ہوئے اور بغداد میں قریش کے مقبرہ میں سپرد لحد کئے گئے یوں آسمان ولایت کے اس درخشان ستارے کو بھی گل کردیا اور دنیا ایک عظیم دانشور و مفکر و سکالر اور عابدسے محروم ہوگئے۔ لیکن اس امام کے در سے جو بھی کوئی چیز مانگے امام اسے عطا فرماتا ہے اور خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا چونکہ آپؑ  باب الحوائج ہیں۔

( درود وسلام ہو آپ پر اے خدا کے محبوب )

حضرت امام موسی کاظم کی مختصر زندگی مبارک

حضرت امام موسی کاظم کی مختصر زندگی مبارک

 

 

 

اسم گرامی : موسیٰ( علیه السلام )

لقب : کاظم

کنیت : ابو الحسن

والد کانام :امام جعفر صادق ( علیه السلام )

والدہ کا نام : حمیده اندلسی ( اسپین کی رھنے والی تھیں)

تاریخ ولادت : ۷/ صفر ۱۲۸ھء

جائے ولادت : مدینہ منورہ

مدت امامت : ۳۵ / سال

عمر مبارک : ۵۵/ سال

تاریخ شھادت : ۲۵/ رجب

شھادت کی وجہ : ھارون رشید نے آپ کو زھر دے کر شھید کر دیا

روضہ اقدس : عراق ( کاظمین )

اولاد کی تعداد : ۱۹/ بیٹے اور ۱۸ /بیٹیاں

بیٹوں کے نام : (۱) علی (۲) ابراھیم (۳) عباس(۴) قاسم (۵) اسماعیل (۶) جعفر (۷) ھارون (۸) حسن (۹) احمد (۱۰) محمد (۱۱) حمزہ (۱۲) عبد اللہ (۱۳) اسحاق(۱۴) عبید اللہ (۱۵) زید (۱۶) حسن (۱۷) فضل (۱۸) حسین (۱۹) سلیمان

بیٹیوں کے نام : (۱) فاطمہ کبریٰ (۲) لبابہ (۳) فاطمہ صغریٰ (۴) رقیہ (۵) حکیمہ (۶) ام ابیھا (۷) رقیہ صغریٰ (۸) ام جعفر (۹) لبابہ (۱۰) زینب (۱۱) خدیجہ (۱۲) علیا (۱۳)آمنہ (۱۴) حسنہ (۱۵) بریھہ (۱۶) عائشہ (۱۷) ام سلمہ (۱۸) میمونہ


حضرت امام کاظم علیہ السلام کی امامت کے زمانے میں متعدد غاصب خلفاء نے

ادامه نوشته

حقوق مالی زن در خانواده

https://research.rafed.net/فاطمة-الزهراء-عليها-السلام/2964-هذه-هي-الزهراء-عليها-السلام

 

هذه هي الزهراء عليها السلام

هذه هي الزهراء عليها السلام

 

عن الإمام الصادق عليه السلام : هي فاطمة الصديقة الكبرى وعلى معرفتها دارت القرون الأولى (۱).

الإمام الحسين عليه السلام : أمّي ـ فاطمة ـ خير منّي (۲).

الإمام الحسن العسكري : وهي ـ فاطمة ـ حجّة علينا (۳).

عن علي عليه السلام : دخلت يوماً منزلي فإذا رسول الله صلّى الله عليه وآله جالس والحسن عن يمينه ، والحسين عن يساره ، وفاطمة بين يديه ، وهو يقول : يا حسن ويا حسين ، أنتما كفّتا الميزان وفاطمة لسانه ، ولا تعدل الكفّتان إلّا باللسان ،  ....
https://research.rafed.net/فاطمة-الزهراء-عليها-السلام/2964-هذه-هي-الزهراء-عليها-السلام